ایران میں دہشتگردوں کے ہاتھوں جاں بحق 8پاکستانیوں کی میتیں آبائی علاقوں میں پہنچ گئیں۔
اشاعت کی تاریخ: 17th, April 2025 GMT
ایران میں دہشت گردی کے واقعے میں جاں بحق ہونے والے 8 پاکستانیوں کی میتیں خصوصی طیارے کے ذریعے بہاولپور پہنچا دی گئیں۔جہاں سے ان 8 پاکستانیوں کی میتیں آبائی علاقوں میں پہنچا دی گئیں۔ 5 میتوں کو ایمبولینسز کے ذریعے آبائی علاقے خانقاہ شریف، 2 میتوں کو احمد پور شرقیہ اور 1 کو شجاع آباد پہنچا دیا گیا۔ میتوں کی آمد کے بعد ان کے آبائی علاقوں میں فضا سوگوار ہو گئی۔ 5 میتوں کی اجتماعی نمازِ جنازہ گورنمنٹ ہائی اسکول خانقاہ شریف گراؤنڈ میں ادا کی جائے گی، 2 میتوں کی نمازِ جنازہ محراب والا اور چکی موڑ کے علاقے میں ادا کی جائے گی۔ 1 جاں بحق نوجوان کی نمازِ جنازہ شجاع آباد کے علاقے ساندھی والا میں ادا کی جائے گی۔واضح رہے کہ 12 اپریل کو 8 پاکستانی شہریوں کو سیستان کے علاقے مہرستان میں افغان بارڈر کے قریب نشانہ بنایا گیا تھا۔ اس موقع پر ایئرپورٹ پر ضلعی انتظامیہ، ریسکیو ٹیموں اور سیکیورٹی اداروں کی جانب سے سخت ترین حفاظتی انتظامات کیے گئے تھے۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Nawaiwaqt
پڑھیں:
اٹلی میں 4 پاکستانیوں کو وین میں بند کرکے جلاکر قتل کردیا گیا، پاکستانی ہی قاتل نکلے، 2 ملزم گرفتار
روم ( اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین۔ 02 جون2026ء ) اٹلی کے جنوبی علاقے میں 4 پاکستانی کھیت مزدوروں کو ایک منی وین کے اندر مبینہ طور پر زندہ جلا کر قتل کر دیا گیا، اطالوی پولیس نے اس وحشیانہ قتل کے الزام میں 2 پاکستانی شہریوں کو گرفتار کرلیا۔ اطالوی اخبار کوریئر ڈیلا سیرا (Corriere della Sera) کے حوالے سے رپورٹ کیا گیا ہے کہ اٹلی کے جنوبی علاقے کلابریا میں ایک پیٹرول پمپ کے قریب ایک جلی ہوئی منی وین سے چار پاکستانی کارکناں کی لاشیں برآمد ہوئی ہیں، اطالوی پولیس نے کارروائی کرتے ہوئے ان مقتولین کے قتل کے شبہے میں 2 پاکستانی باشندوں کو حراست میں لے لیا، اطالوی پولیس نے گرفتار دونوں پاکستانی ملزمان کو ریمانڈ پر لے کر ان سے تفتیش شروع کر دی تاکہ اس گینگ اور دیگر سہولت کاروں کا پتہ لگایا جا سکے۔(جاری ہے)
بتایا گیا ہے کہ یہ ہولناک واقعہ کلابریا کے ایک وسیع زرعی علاقے میں واقع گاؤں امینڈولارا کے قریب ایک پیٹرول اسٹیشن پر پیش آیا، پیٹرول پمپ پر لگے سی سی ٹی وی کیمروں کی تصاویر نے اس سفاکیت کو بے نقاب کیا، قانون نافذ کرنے والے اداروں نے فوٹیج میں دیکھا کہ دو افراد نے باہر سے منی وین کے دروازوں کو بلاک کر دیا تاکہ اندر موجود لوگ باہر نہ نکل سکیں۔ معلوم ہوا ہے کہ دروازے بند کرنے کے بعد ان افراد نے گاڑی کے اندر کوئی آتش گیر مائع پٹرول یا کیمیکل پھینکا، مائع پھینکتے ہی گاڑی میں خوفناک آگ بھڑک اٹھی اور دونوں ملزمان موقع سے فرار ہو گئے، فائر فائٹرز نے موقع پر پہنچ کر جب آگ پر قابو پایا تو گاڑی کے اندر سے چاروں پاکستانیوں کی جھلسی ہوئی لاشیں برآمد ہوئیں، مقامی پولیس چیف انتونیو بوریلی نے تصدیق کی کہ یہ یقینی طور پر قتل کا معاملہ ہے، ہمیں بس اب اس کی مزید تفصیلات اور تانے بانے معلوم کرنے ہیں۔ بتایا جارہا ہے کہ یہ علاقہ گزشتہ چند ماہ سے تارکینِ وطن کے درمیان شدید کشیدگی کا مرکز بنا ہوا تھا، اس زرعی علاقے میں غیر ملکیوں اور خاص طور پر پاکستانیوں کے درمیان کھیتوں میں کام کی تقسیم، رہائشی کاغذات اور رہائش گاہوں کے مسائل پر شدید اختلافات چل رہے ہیں، حالیہ مہینوں میں اسی علاقے کے اندر پاکستانیوں کو لے جانے والی کاروں اور منی وینز کو آگ لگانے کے 14 واقعات پہلے بھی رپورٹ ہو چکے ہیں، جن کا انجام اب اس ہولناک ڈبل مرڈر کی صورت میں سامنے آیا۔