پی ٹی آئی راہنماؤں کی گرفتاری، پنجاب اسمبلی میں اپوزیشن اراکین کا واک آؤٹ
اشاعت کی تاریخ: 17th, April 2025 GMT
پنجاب اسمبلی میں اپوزیشن راہنماؤں نے ایوان میں احتجاج ریکارڈ کرایا، اراکین اپنی سیٹوں پر کھڑے ہو کر شدید نعرے بازی کرتے رہے، انہوں نے ساتھیوں کو فوری رہا کرنے کا مطالبہ کردیا۔ اپوزیشن کے چیف وہپ نے گرفتاریوں پر ایوان کی کارروائی کا بائیکاٹ کردیا تو ارکان نعرے بازی کرتے ہوئے ایوان سے باہر چلے گئے۔ اسلام ٹائمز۔ پنجاب اسمبلی میں اپوزیشن لیڈر احمد خان بھچر اور علیمہ خان سمیت دیگر راہنماؤں کی گرفتاری پر اپوزیشن نے اجلاس سے واک آؤٹ کیا۔اپوزیشن راہنماؤں نے ایوان میں احتجاج ریکارڈ کرایا، اراکین اپنی سیٹوں پر کھڑے ہوکر شدید نعرے بازی کرتے رہے، انہوں نے ساتھیوں کو فوری رہا کرنے کا مطالبہ کردیا۔ اپوزیشن کے چیف وہپ رانا شہباز نے گرفتاریوں پر ایوان کی کارروائی کا بائیکاٹ کردیا تو ارکان نعرے بازی کرتے ہوئے ایوان سے باہر چلے گئے۔
دوسری جانب احتجاج کے دوران ہی حکومتی رکن عظمیٰ کاردار اور اپوزیشن ارکان کی نوک جھوک جاری رہی، انہوں نے اراکین کو جواب دیتے ہوئے کہا کہ مریم نواز سے کیا مقابلہ کرو گے جو مجھ جیسی ایک خاتون سے ڈر گئے ہو۔پارلیمانی سیکرٹری ملک وحید کا کہنا تھا کہ یہ لوگ ایوان کے اندر کسان کی لڑائی کی بات کرتے ہیں اور گرفتاریوں پر سب چھوڑ کر ایوان سے باہر چلے جاتے ہو۔ علاوہ ازیں احتجاج کے بعد اپوزیشن رکن شیخ امتیاز نے کورم کی نشاندہی کر دی، پینل آف چئیر پرسن آغا علی حیدر نے 5 منٹ تک گھنٹیاں بجانے کا حکم دے دیا۔
ذریعہ
ذریعہ: Islam Times
کلیدی لفظ: نعرے بازی کرتے
پڑھیں:
ٹرمپ کے وار پاورز محدود؛ امریکی پارلیمان نے ایران جنگ روکنے کی قرارداد منظور کرلی
امریکی ایوانِ نمائندگان نے صدر ڈونلڈ ٹرمپ کو ایران کے ساتھ جاری فوجی تنازع سے امریکی افواج واپس بلانے کی ہدایت دینے والی وار پاورز قرارداد دوبارہ منظور کرلی۔
عالمی خبر رساں ادارے کے مطابق یہ قرارداد اپوزیشن جماعت ڈیموکریٹ کی رکنِ کانگریس پرامیلا جے پال کی جانب سے پیش کی گئی جس کے حق میں 214 جب کہ مخالفت میں 208 ووٹ پڑے۔
رائے شماری میں اپوزیشن جماعت ڈیموکریٹ کے تمام اراکین نے قرارداد کی حمایت کی جب کہ حکمراں جماعت ریپبلکن کے 5 ارکان نے بھی پارٹی پالیسی کے برعکس ووٹ دیتے ہوئے قرارداد کے حق میں رائے دی۔
خیال رہے کہ یہ دوسری بار ہے کہ ایوانِ نمائندگان نے اسی نوعیت کی قرارداد منظور کی ہے۔ گزشتہ ماہ بھی ایوان نے ایسی ہی ایک قرارداد منظور کی تھی جسے بعد میں سینیٹ نے بھی منظور کر لیا تھا۔
اگرچہ قرارداد کی منظوری سیاسی لحاظ سے اہم سمجھی جا رہی ہے تاہم اس کی قانونی حیثیت محدود ہے۔ ٹرمپ انتظامیہ کا مؤقف ہے کہ اس قسم کی وار پاورز قراردادیں آئین سے مطابقت نہیں رکھتیں اور صدر بطور کمانڈر اِن چیف قومی سلامتی کے معاملات میں فوجی فیصلے کرنے کا اختیار رکھتے ہیں۔
ووٹنگ سے قبل ہونے والی بحث میں ایوانِ خارجہ امور کمیٹی کے سرکردہ ڈیموکریٹ رکن گریگ میکس نے کہا کہ صدر ٹرمپ نے کانگریس کی پیشگی منظوری کے بغیر ایران کے خلاف فوجی کارروائی کر کے امریکی قانون اور آئینی تقاضوں کی خلاف ورزی کی ہے۔
یہ قرارداد ایسے وقت منظور ہوئی جب یمن کے حوثیوں کے بحیرہ احمر میں سعودی آئل ٹینکرز پر حملوں کے بعد عالمی منڈی میں خام تیل کی قیمتیں 100 ڈالر فی بیرل سے تجاوز کرچکی ہیں۔