پاکستان کے نظریاتی تشخص پر حملہ ناقابلِ قبول ہے، آئی ایس او کراچی
اشاعت کی تاریخ: 18th, April 2025 GMT
اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے ریجنل صدر سروش رضا نے حکومت پاکستان سے مطالبہ کیا ہے کہ وہ اسرائیلی ایجنڈے پر مبنی سرگرمیوں کو فی الفور روکے اور ملک کے نظریاتی اساس کے تحفظ کے لیے عملی اقدامات کرے۔ اسلام ٹائمز۔ امامیہ اسٹوڈنٹس آرگنائزیشن پاکستان کراچی ریجن کا ایک اعلیٰ سطحی اجلاس ریجنل صدر سروش رضا کی زیر صدارت المصطفیٰ ہاؤس میں منعقد ہوا۔ اجلاس میں اسرائیل نواز تنظیم "شراکہ" کی سرگرمیوں، اسرائیلی ریاست کے پرچار، اور مختلف پاکستانی وفود کے اسرائیل کے دوروں پر گہری تشویش کا اظہار کیا گیا۔ آئی ایس او کراچی نے نظریہ پاکستان کے تحفظ اور ملک میں اسرائیلی ایجنڈے کو ناکام بنانے کے لیے ایک بھرپور عوامی تحریک چلانے کا اعلان کیا۔ ریجن صدر سروش رضا نے اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے کہا اگرچہ سرکاری بیانات میں واضح کیا جاتا ہے کہ پاکستان کا اسرائیل سے کوئی تعلق نہیں، مگر زمینی حقائق اور اسرائیل کے لیے راہ ہموار کرنے والے اقدامات ان بیانات کو جھٹلاتے ہیں۔
انہوں نے زور دیا کہ قائداعظم محمد علی جناح، جنہوں نے اسرائیل کو مسلمانوں کے قلب میں خنجر قرار دیا، اُن کی فکر کے خلاف کام کرنے والے عناصر کو کسی صورت برداشت نہیں کیا جا سکتا۔ ان کا مزید کہنا تھا کہ شراکہ اب تک چار وفود اسرائیل لے جا چکی ہے، یہاں تک کہ غزہ جنگ کے دوران بھی دو وفود روانہ کیے گئے۔ سروش رضا نے حکومت پاکستان سے مطالبہ کیا ہے کہ وہ اسرائیلی ایجنڈے پر مبنی سرگرمیوں کو فی الفور روکے، اور ملک کے نظریاتی اساس کے تحفظ کے لیے عملی اقدامات کرے۔ اجلاس میں فیصلہ کیا گیا کہ موجودہ فلسطین کے حالات اور پاکستان میں بڑھتی اسرائیل نواز تنظیم شراکا کے خلاف عوامی تحریک چلائی جائے گی جس کے تحت شہر بھر میں مختلف سرگرمیوں کا آغاز کیا جاچکا ہے۔
ذریعہ
ذریعہ: Islam Times
کلیدی لفظ: کے لیے
پڑھیں:
پاکستان انسٹی ٹیوٹ آف فیشن ڈیزائن میں قائممقام وائس چانسلر کی تعیناتی کیلیے سینیٹ کا اجلاس طلب
پاکستان انسٹی ٹیوٹ آف فیشن ڈیزائن میں قائمقام وائس چانسلر کی تعیناتی کیلیے سینیٹ کا اہم اجلاس31 جولائی کو طلب کر لیا گیا جس میں صدر پاکستان و چانسلر کی ہدایات پر قائمقام وی سی کی تعیناتی سے متعلق ایجنڈے پر دوبارہ غور کیا جائے گا۔
تفصیلات کے مطابق صدر پاکستان نے 24اپریل کو ریفرنس وزارت تعلیم کو بھجوایا ہے جس میں بطور چانسلر پاکستان انسٹی ٹیوٹ آف فیشن ڈیزائن ایکٹ کی شق8(6)کے تحت سینٹ کے 17ویں اجلاس کے ایجنڈا نمبر13پر دوبارہ غور کرنے کی ہدایات جاری کی ہیں۔
دستیاب دستاویز کے مطابق 5 جنوری2026 کو ہونے والے سینیٹ کے17ویں اجلاس میں سابق وائس چانسلر پروفیسر حناطیبہ خلیل کو بطور وائس چانسلر کام جاری رکھنے کی منظوری دی گئی حالانکہ پروفیسر حنا طیبہ خلیل دو ٹرم مکمل کر چکی تھیں۔
سینیٹ کی قائمہ کمیٹی برائے تعلیم نے بھی پاکستان انسٹی ٹیوٹ آف فیشن ڈیزائن کے سینٹ اجلاس (جس میں حناطیبہ خلیل کو قائمقام وائس چانسلر ذمہ داریاں جاری رکھنے کی منظوری دی) کو کالعدم قرار دینے کی سفارش کر رکھی۔
قائمہ کمیٹی کی چیئرپرسن بشری انجم بٹ نے اجلاس کے دوان کہا تھا کہ عبوری وائس چانسلر کی تعیناتی سے متعلق ایوان صدر نے واضح کیا تھا کہ ایجنڈے کی منظوری نہیں لی گئی تھی۔
ذرائع نے بتایا کہ بشری انجم بٹ نے پاکستان انسٹی ٹیوٹ آف فیشن ڈیزائن کی وائس چانسلر کی تعیناتی سے متعلق ریفرنس ایوان صدر کو بھجوایا جس میں کہا گیا کہ انسٹی ٹیوٹ کے فیکلٹی ممبران ،افسران اور سٹیک ہولڈرز کی جانب سے الزامات لگائے کہ پروفیسر حناطیبہ خلیل وائس چانسلر بد انتظامی اور اختیارات کے غلط استعمال کی پریکٹس میں ملوث ہیں۔
انسٹی ٹیوٹ کی پروکیورمنٹ اور مالی معاملات میں بے ضابطگیوں سمیت انسٹی ٹیوٹ میں گورننس کے بدترین صورتحال ہے، اس کے علاوہ گرلز ہاسٹل کی تعمیر سے متعلق 450 ملین کے ٹینڈرز میں مبینہ بے ضابطگیاں بھی ہوئی ہیں۔
ایوان صدر نے سینیٹر بشری انجم بٹ کی جانب سے بھجوائے گئے ریفرنس پر اپنی سفارشات وزارت تعلیم کو بھجوا دی ہیں،
وزارت تعلیم کے ذرائع نے سینیٹ اجلاس کی تصدیق کرتے ہوئے کہا ہے کہ ایوان صدر کی ہدایات کی روشنی میں سینئر فیکلٹی ممبر کو ہی قائمقام وائس چانسلر پاکستان انسٹی ٹیوٹ آف فیشن ڈیزائن تعینات کیا جائے گا اور اس حوالے سے سنیارٹی لسٹ منگوا لی گئی ہے،