آزاد کشمیر کے سینیئر سرکاری حکام کا ایس سی او سافٹ ویئر ٹیکنالوجی پارک مظفرآباد کا دورہ
اشاعت کی تاریخ: 18th, April 2025 GMT
مظفرآباد/ اسلام آباد:
آزاد جموں و کشمیر کے سینیئر سرکاری حکام پر مشتمل ایک اعلیٰ سطح کے وفد نے ایس سی او سافٹ ویئر ٹیکنالوجی پارک مظفرآباد کا دورہ کیا۔
وفد میں وزیر اعظم کے ایس ڈی جی یونٹ، ڈائریکٹوریٹ جنرل مانیٹرنگ اینڈ ایویلیوایشن، پلاننگ و ڈیولپمنٹ ڈیپارٹمنٹ کے سیکرٹری، اسسٹنٹ چیف صاحبان، ڈائریکٹر لینڈز اینڈ پلاننگ، یونیورسٹی آف آزاد جموں اینڈ کشمیر کے ڈائریکٹر اور ورلڈ فوڈ پروگرام کے ہیڈ بھی شامل تھے۔
ڈاکٹر اسماء اندرابی نے وفد کی قیادت کی جو وزیر اعظم کی ڈونرز کے لیے خصوصی کوآرڈینیٹر اور ایس ڈی جی یونٹ کی سربراہ ہیں۔
وفد کو اسپیشل کمیونیکیشنز آرگنائزیشن کی جانب سے خطے میں سافٹ ویئر ٹیکنالوجی پارکس اور فری لانسنگ ہبز کے قیام پر پر بریفنگ دی گئی۔ بریفنگ میں ایس سی او کی متاثر کن کامیابیوں کو بھی اجاگر کیا گیا۔
اسی طرح، وفد نے اسپیشل ٹیکنالوجی پارک میں کام کرنے والی مختلف آئی ٹی کمپنیوں، اسٹارٹ اپس اور فری لانسرز سے بھی ملاقات کی۔
مہمانوں نے پارک کی سہولیات، پیشہ ورانہ آپریٹنگ نظام اور نوجوانوں کی جانب سے انجام دی جانے والی اعلیٰ معیار کی خدمات کو بے حد سراہا۔
ایس سی او کی نوجوانوں کو بااختیار بنانے اور ڈیجیٹل کاروباری ماحول کو فروغ دینے کی کوششوں کو خوب پزیرائی ملی۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Express News
کلیدی لفظ: ٹیکنالوجی پارک ایس سی او
پڑھیں:
وفاقی کابینہ، ادویات ٹریک اینڈ ٹریس سسٹم نفاذ کی باقاعدہ منظوری دے دی
اسلام آباد،وفاقی وزیرِ صحت مصطفیٰ کمال (mustafa kamal)نے کہا ہے کہ وفاقی کابینہ نے ملک بھر میں ادویات پر ٹریک اینڈ ٹریس سسٹم کے نفاذ کی باضابطہ منظوری دے دی ہے۔
اس سلسلے میں ڈرگ لیبلنگ اینڈ پیکنگ رولز 1978 میں ضروری ترامیم کی بھی منظوری دے دی گئی ہے۔منگل کو جاری بیان کے مطابق وفاقی وزیرِ صحت نے کہا کہ یہ فیصلہ پاکستان میں جعلی ادویات کے خاتمے کی جانب ایک بڑا اور تاریخی قدم ہے۔
پہلی بار ملک میں ہر دوا کو ڈیجیٹل طریقے سے ٹریک اور ویریفائی کیا جا سکے گا، جس سے جعلی، غیر معیاری اور نقلی ادویات کی مؤثر نشاندہی اور ان کے خاتمے میں مدد ملے گی۔
انہوں نے کہا کہ نئے نظام کے نفاذ کے بعد عام صارفین باآسانی دوا کی میعادِ استعمال، قیمت اور دیگر اہم معلومات کی مستند تصدیق کر سکیں گے، جس سے عوام کا ادویات کے نظام پر اعتماد مزید مضبوط ہوگا۔
مصطفیٰ کمال نے بتایا کہ ڈرگ ریگولیٹری اتھارٹی آف پاکستان اس جدید نظام کو ملک بھر میں نافذ کرے گی۔ نئے قواعد کے تحت تمام دوا ساز کمپنیوں اور درآمد کنندگان کے لیے لازم ہوگا کہ وہ ہر دوا کے پیک پر معیاری ٹو ڈی بارکوڈ اور سیریلائزیشن ڈیٹا درج کریں۔
وفاقی وزیرِ صحت نے کہا کہ یہ اہم اقدام پاکستان میں ادویات کی سپلائی چین کو محفوظ، شفاف اور معیاری بنانے کے لیے کیا گیا ہے۔
حکومت ادویات کے شعبے کو جدید خطوط پر استوار کرنے کے لیے عملی اقدامات کر رہی ہے اور ٹریک اینڈ ٹریس سسٹم کے نفاذ سے جعلی ادویات کے خلاف ایک مضبوط اور مؤثر دیوار قائم ہوگی۔
انہوں نے مزید کہا کہ پاکستان جدید ٹیکنالوجی کے استعمال میں خطے کے نمایاں ممالک میں شامل ہوگا۔ اس نظام کے ذریعے نگرانی کے روایتی طریقوں کی جگہ جدید ڈیجیٹل نظام لے گاجس سے عوام کی صحت، زندگی اور اعتماد کا مکمل تحفظ یقینی بنایا جا سکے گا۔
مزید پڑھیں:میئر لندن، 16 سال سے کم عمر بچوں کیلئے سوشل میڈیا پر پابندی کی حمایت
وفاقی وزیرِ صحت کے مطابق ڈریپ کی جانب سے صنعت کو سہولت فراہم کرنے کے لیے جلد تکنیکی رہنما اصول جاری کیے جائیں گے، جبکہ متعلقہ فریقین کے ساتھ مشاورتی اجلاس بھی منعقد کیے جا چکے ہیں تاکہ نظام کے مؤثر اور مرحلہ وار نفاذ کو یقینی بنایا جا سکے۔