بات استعفوں کی ہے تو پہلے آصف علی زرداری اور یوسف گیلانی استعفیٰ دیں، خالد مقبول صدیقی
اشاعت کی تاریخ: 19th, April 2025 GMT
کراچی میں ایم کیو ایم سے تعلق رکھنے والے وفاقی وزیر کا کینالز کے مسئلے پر پیپلز پارٹی کی حکومت سے علیحدگی پر ردعمل میں کہنا تھا کہ صدر اور چیئرمین سینیٹ کے استعفے کے بعد پھر ان کی دھمکیوں کو سنجیدہ لیں گے۔ اسلام ٹائمز۔ وفاقی وزیر خالد مقبول صدیقی نے کہا کہ بات استعفوں کی ہے تو پہلے صدر اور چیئرمین سینیٹ استعفیٰ دیں۔ وفاقی وزیر خالد مقبول صدیقی نے کینالز کے مسئلے پر پیپلز پارٹی کی حکومت سے علیحدگی پر ردعمل میں کہا کہ صدر اور چیئرمین سینیٹ کے استعفے کے بعد پھر ان کی دھمکیوں کو سنجیدہ لیں گے۔ خالد مقبول صدیقی کا مزید کہنا تھا کہ پیپلزپارٹی کے صدر آصف علی زرداری ایوان صدر اسلام آباد میں موجود ہیں، پیپلزپارٹی وہ جماعت ہے جس کا کام دھمکیوں پر چلتا ہے۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Islam Times
کلیدی لفظ: خالد مقبول صدیقی
پڑھیں:
نواز شریف پہلے یہ بتائیں ووٹ کو عزت کب دینی ہے؟ شرجیل میمن کا ردعمل
سندھ کے سینئر وزیر شرجیل انعام میمن نے میر پور جلسے میں مسلم لیگ (ن) کے قائد نواز شریف کے خطاب پر ردعمل دیتے ہوئے کہا کہ ن لیگ خیراتی مینڈیٹ والی جماعت ہے، اس کے منہ سے الیکشن اور ووٹوں کی باتیں اچھی نہیں لگتیں، میاں نواز شریف صاحب یہ بتائیں کہ ووٹ کو عزت کب دینی ہے؟
شرجیل انعام میمن نے کہا کہ نواز شریف صاحب، سیاست ہوتی رہے گی، سندھ اور کشمیر کی سرزمین و عوام کو طنز و مزاح کا موضوع مت بنائیں، سیاسی اختلاف اپنی جگہ، مگر کسی بھی صوبے، شہر یا علاقے کی تضحیک کسی صورت قابلِ قبول نہیں، سابق وزیر اعظم کا یہ رویہ نہ صرف غیر سنجیدہ بلکہ مضحکہ خیز بھی ہے۔
سینئر صوبائی وزیر نے کہا کہ آپ کے بیان نے لاکھوں پاکستانیوں، کشمیر اور سندھ کے عوام جذبات کو مجروح کیا ہے،کسی بھی شہر یا ضلع کا نام سیاسی تقریر میں مذاق یا تقابل کے انداز میں استعمال کرنا شعوری پسماندگی ہے، کشمیر پاکستان کی قومی جدوجہد کی علامت ہے ، سندھ کا ہر شہر بھی اتنا ہی محترم اور عزیز ہے۔
مزید پڑھیںآزاد کشمیر میں مخالفین کی کانپیں ٹانگ رہی ہیں، اب کشمیر کے وارث آگئے ہیں، مریم نواز
بلاول برخودار! کشمیر کو کشمور، میرپور کو میرپور خاص نہ سمجھنا، نواز شریف
شرجیل انعام میمن نے کہا کہ اگرچہ نواز شریف نے اپنی تقریر میں یہ بھی کہا کہ "تلخی نہیں ہونی چاہیے"، لیکن ان کے اپنے الفاظ ہی سیاسی تلخی اور غیر ضروری تقسیم کا باعث بن رہے ہیں، قومی رہنماؤں کو ایسے بیانات سے گریز کرنا چاہیے جو مختلف علاقوں کے عوام میں احساسِ محرومی یا تفریق کو جنم دیں۔
انہوں نے کہا کہ پاکستان سیاسی پوائنٹ اسکورنگ نہیں بلکہ قومی یکجہتی، باہمی احترام اور سنجیدہ سیاسی رویوں کا متقاضی ہے۔ سندھ اور کشمیر کے عوام اپنی سرزمین و شناخت پر فخر کرتے ہیں اور کسی کو یہ حق نہیں کہ وہ انہیں سیاسی طنز کا نشانہ بنائے، جو سیاست تقسیم اور تمسخر پر مبنی ہو، وہ قومی مفاد کے بجائے سیاسی نقصان کا سبب بنتی ہے۔