فلسطینیوں کی حمایت جرم قرار، امریکا نے غیر ملکی طلبہ کے ویزے منسوخ کر دیے
اشاعت کی تاریخ: 19th, April 2025 GMT
امریکا کی حکومت نے گزشتہ چند ہفتوں کے دوران ملک میں زیرتعلیم بیرون ممالک سے تعلق رکھنے والے ایک ہزار سے زائد طلبہ کے ویزے منسوخ کر دیے۔
یہ بھی پڑھیں:امریکا میں غیر ملکی طلبا کے ویزے اچانک منسوخ، طلبا خوف و ہراس کا شکار
اے پی پی کے مطابق امریکی حکومت نے ایک ماہ سے کم دورانیے میں لگ بھگ 160 کالجز اور یونیورسٹیز کے کم از کم 1024 طلبہ کے ویزوں کی قانونی حیثیت ختم کر دی ہے۔
قانونی درخواستیں دائراس اقدام سے متاثر ہونے والے بعض طلبہ نے ڈیپارٹمنٹ آف ہوم لینڈ سیکیورٹی میں قانونی درخواستیں بھی دائر کی ہیں۔ان کا دعویٰ ہے کہ ایک تو یہ اقدام ضابطے کے مطابق نہیں کیا گیا،
دوسرا یہ کہ ان کے امریکہاقیام کے حق کو ختم کرنے کا کوئی جواز نہیں ہے۔
صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی حکومت کا امیگریشن اور طلبہ کے ایکٹوزم کے خلاف کریک ڈاؤن ہاورڈ اور سٹینڈفورڈ جیسی پرائیوٹ یونیورسٹیوں تک ہی محدود نہیں رہا بلکہ یونیورسٹی آف میری لینڈ اور اوہائیو سٹیٹ یونیورسٹی جیسی سرکاری درس گاہیں بھی اس کی زد میں آئیں۔
یہ بھی پڑھیں:فلسطین کے حامی غیرملکیوں کو امریکا بدر کرنے فیصلہ
رواں ہفتے کے اوائل میں میساچوسٹس انسٹی ٹیوٹ آف ٹیکنالوجی (ایم آئی ٹی) نے بتایا کہ ان کے 9 انٹرنیشنل طلبہ اور ریسرچرز کے ویزے اور امیگریشن اسٹیٹس بغیر کسی پیشگی وارننگ کے منسوخ کر دیے گئے۔
دوسری جانب حکومت نے طلبہ کے ایکٹوزم کو روکنے سے متعلق اپنے احکامات پر عمل درآمد نہ کرنے کی صورت میں یونیورسٹیوں کی فنڈنگ روکنے کی دھمکی بھی دی ہے۔
ہاورڈ یونیورسٹی کے 2 ارب 30 کروڑ کے فنڈز پہلے ہی سے منجمد ہیں لیکن یونیورسٹی نے ٹرمپ انتظامیہ کی پالیسیوں کے خلاف لڑنے کا عندیہ دیا ہے۔
ڈی پورٹ کرنے کا حقواضح رہے کہ حکومت کی جانب سے کولمبیا یونیورسٹی کے ایکٹوسٹ طالب علم محمود خلیل کو حراست میں لیے جانے کے بعد وفاقی حکومت نے کہا تھا کہ اسے ان تمام غیرملکی امریکی شہریوں کو ڈی پورٹ کرنے کا حق ہے کہ جو ’یہود دشمن‘ ہیں اور فلسطینوں کی حمایت میں مظاہرے کر رہے ہیں۔
آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں
اسرائیل امریکا امریکا بدر غیرملکی طلبہ فلسطین ویزے منسوخ یہود دشمن.
ذریعہ
ذریعہ: WE News
کلیدی لفظ: اسرائیل امریکا امریکا بدر غیرملکی طلبہ فلسطین ویزے منسوخ یہود دشمن حکومت نے طلبہ کے کے ویزے
پڑھیں:
کراچی کے سرکاری کالجز میں انٹرسال اول کیلیے داخلے شروع نہ ہوسکے، سوا لاکھ طلبا منتظر
محکمہ کالج ایجوکیشن سندھ واضح اعلان کے باوجود کراچی میں سرکاری کالجوں میں داخلہ شروع نہیں کرسکا ہے اور کم از کم سوا لاکھ طلبہ انٹر سال اول میں داخلوں کے منتظر ہیں۔
تفصیلات کے مطابق انٹر سال اول میں داخلہ یکم جون سے شروع ہونے تھے اس سلسلے میں 23 مئی کو قومی اخبارات میں اشتہارات جاری کیے گئے تھے جس کے مطابق تمام سرکاری کالجوں میں انٹر سال اول میں نویں جماعت کے نتائج کی بنیاد پر یکم جون سے داخلہ فارم کی رجسٹریشن شروع ہوجانی تھی جبکہ داخلہ فارم رجسٹریشن کی آخری تاریخ 15 جولائی مقرر کی گئی ہے۔
انٹر سال اول میں صرف کراچی کے سرکاری کالجوں میں سوا لاکھ کے قریب طلبہ داخلہ لیتے ہیں جن کے لیے سینٹرلائزڈ ایڈمیشن پالیسی کے تحت 6 مختلف فیکیلٹیز پری انجینئرنگ، پری میڈیکل، کمپیوٹر سائنس ، کامرس ، ہیومینیٹیز اور ہوم اکنامکس میں داخلے دیے جاتے ہیں۔
اس سلسلے میں جب میٹرک کا امتحان دینے والے داخلے کے خواہشمند طلبہ نے www.seccap.dgcs..gos.pk کے پورٹل پر داخلہ رجسٹریشن فارم تک پہنچنے کی کوشش کی تو معلوم ہوا کہ یہ پورٹل ہی بند ہے۔
ادھر "ایکسپریس" نے اس سلسلے میں ڈائریکٹر جنرل کالجز سندھ پروفیسر زاہد راجپر سے جب اس سلسلے میں رابطہ کیا تو ان کا کہنا تھا کہ تکنیکی وجوہات کی بنا پر پورٹل بند ہے ہماری ٹیکنیکل ٹیم کام کررہی ہے۔
انہوں نے کہا کہ پوری امید ہے کہ بدھ کی صبح تک پورٹل کھل جائے جس کے بعد طلبہ داخلے کے لیے اپلائی کرسکیں گے۔
ڈی جی کالجز کا یہ بھی کہنا تھا کہ اس بار ہم نے تمام سرکاری کالجوں میں "ڈیس ایبل" کوٹہ مختص کیا ہے تاکہ ایسے طلبہ اس کوٹے کی بنیاد پر اپنے قرب و جوار کے کالجوں میں بھی اپلائی کرسکتے ہیں۔