اسلام آباد (ڈیلی پاکستان آن لائن )ترجمان دفتر خارجہ شفقت علی خان نے تصدیق کی ہے کہ پاکستان اور بنگلہ دیش کے درمیان حالیہ اعلیٰ سطحی سفارتی مشاورت کے دوران بعض دیرینہ معاملات پر بات چیت ہوئی، جن میں 1971 کے واقعات پر بنگلہ دیش کی جانب سے رسمی معافی اور معاوضے کے مطالبات شامل تھے۔

دفتر خارجہ کی سیکریٹری آمنہ بلوچ گزشتہ دنوں 15 سال بعد دفتر خارجہ کی مشاورت کے لیے ڈھاکہ پہنچیں۔ ملاقات کے بعد بین الاقوامی میڈیا اور بنگلہ دیشی اخبارات ”ڈیلی اسٹار“ اور ”ڈھاکہ ٹریبیون“ نے رپورٹ کیا کہ بنگلہ دیش نے 1971 کے واقعات پر معافی، معاوضے، غیر ادا شدہ فنڈز اور 1970 کے سمندری طوفان کے لیے ملنے والے بین الاقوامی عطیات کی رقم کی واپسی کا مطالبہ کیا ہے۔

کانگو میں کشتی میں آگ لگنے سے ہلاک افراد کی تعداد 148 ہو گئی 

جس کے بعد ہفتہ وار پریس بریفنگ میں سوال و جواب کے دوران دفتر خارجہ کے ترجمان نے کہا کہ ’کچھ دیرینہ معاملات واقعی زیر بحث آئے، تاہم دونوں فریقوں نے انہیں باہمی احترام اور افہام و تفہیم کے ماحول میں پیش کیا۔‘شفقت علی خان نے کہا کہ بعض عناصر ’جھوٹی یا سنسنی خیز خبریں پھیلا کر‘ پاکستان اور بنگلہ دیش کے درمیان بڑھتے ہوئے تعلقات کو نقصان پہنچانے کی کوشش کر رہے ہیں۔ تاہم، انہوں نے زور دیا کہ مذاکرات انتہائی خوشگوار اور تعمیری ماحول میں ہوئے۔

انہوں نے کہا کہ ’15 سال کے تعطل کے بعد ان مشاورتوں کا انعقاد دونوں ممالک کے درمیان خیرسگالی اور ہم آہنگی کا ثبوت ہے، اور گمراہ کن رپورٹس اس اہم پیشرفت کی اہمیت کو کم نہیں کر سکتیں۔‘دفتر خارجہ کے ترجمان نے کہا کہ دونوں ممالک نے سیاسی، معاشی، ثقافتی، تعلیمی اور تزویراتی تعاون پر وسیع تبادلہ خیال کیا، جو مشترکہ تاریخ، ثقافتی ہم آہنگی اور عوامی امنگوں پر مبنی ہے۔ دونوں فریقوں نے نیویارک، قاہرہ، ساموآ اور جدہ میں ہونے والی حالیہ اعلیٰ سطحی ملاقاتوں پر اطمینان کا اظہار کیا اور تعلقات میں بہتری کے لیے مسلسل ادارہ جاتی رابطے، زیر التواء معاہدوں کی جلد تکمیل، تجارت، زراعت، تعلیم اور روابط میں تعاون بڑھانے پر زور دیا۔

بابراعظم نے کراچی کنگز کو کیوں چھوڑا ؟ بڑا دعویٰ سامنے آ گیا 

ترجمان دفتر خارجہ کے مطابق، پاکستان نے اپنی زرعی جامعات میں تعلیمی مواقع فراہم کرنے کی پیشکش کی، جبکہ بنگلہ دیش نے فشریز اور میری ٹائم اسٹڈیز میں تکنیکی تربیت کی پیشکش کی۔ بنگلہ دیشی فریق نے پاکستانی نجی جامعات کی جانب سے اسکالرشپ کی پیشکش کو سراہا اور تعلیم کے شعبے میں مزید تعاون کی ضرورت پر زور دیا۔

مزید :.

ذریعہ

ذریعہ: Daily Pakistan

کلیدی لفظ: دفتر خارجہ بنگلہ دیش نے کہا کہ

پڑھیں:

پاکستان کا بنگلہ دیش کے ساتھ تعلیمی تعاون بڑھانے کا عزم، ڈھاکہ یونیورسٹی کے شعبہ اردو میں کمپیوٹر لیب قائم

پاکستان نے بنگلہ دیش کے ساتھ تعلیمی اور علمی تعاون کو مزید مضبوط بنانے کے عزم کا اعادہ کرتے ہوئے ڈھاکہ یونیورسٹی کے شعبہ اردو کو نئے کمپیوٹر عطیہ کر دیے، جبکہ پاکستانی ہائی کمیشن کے تعاون سے قائم جدید کمپیوٹر لیبارٹری اور تزئین و آرائش شدہ کلاس رومز کا بھی افتتاح کر دیا گیا۔

تقریب میں بنگلہ دیش میں پاکستان کے ہائی کمشنر عمران حیدر اور ڈھاکہ یونیورسٹی کے وائس چانسلر پروفیسر ڈاکٹر اے بی ایم عبیدالاسلام نے مشترکہ طور پر کمپیوٹر لیب کا افتتاح کیا۔ اس موقع پر دونوں رہنماؤں نے تعلیم، تحقیق، ثقافتی روابط اور انسانی وسائل کی ترقی کے شعبوں میں تعاون کو مزید وسعت دینے پر اتفاق کیا۔

ہائی کمشنر عمران حیدر نے افتتاحی تقریب سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ کمپیوٹر لیب کا قیام صرف نئی سہولیات کی فراہمی نہیں بلکہ پاکستان اور بنگلہ دیش کے درمیان تعلیم، ثقافتی ہم آہنگی اور نئی نسل کے روشن مستقبل کے لیے مشترکہ عزم کی علامت ہے۔ انہوں نے امید ظاہر کی کہ جدید لیبارٹری طلبہ اور اساتذہ کی صلاحیتوں میں اضافے، تحقیق کے فروغ اور معیاری تعلیم کے حصول میں اہم کردار ادا کرے گی۔

انہوں نے کہا کہ تعلیم باہمی اعتماد، تعاون اور عوامی روابط کو فروغ دینے کا مؤثر ذریعہ ہے، اسی مقصد کے تحت پاکستانی ہائی کمیشن مختلف تعلیمی اور علمی تعاون کے منصوبوں پر کام کر رہا ہے۔ ان کے مطابق دونوں ممالک کی جامعات کے درمیان مشترکہ تحقیقی منصوبوں، اساتذہ اور طلبہ کے تبادلہ پروگرام، سمسٹر ایکسچینج، مشترکہ ڈگری پروگرامز اور قلیل مدتی تربیتی کورسز شروع کرنے کے وسیع امکانات موجود ہیں۔

اس سے قبل ہائی کمشنر عمران حیدر نے وائس چانسلر پروفیسر ڈاکٹر اے بی ایم عبیدالاسلام سے ملاقات کی، جس میں ڈھاکہ یونیورسٹی اور پاکستان کی مختلف جامعات کے درمیان تعلیمی روابط بڑھانے اور مشترکہ تحقیقی سرگرمیوں کو فروغ دینے پر تبادلہ خیال کیا گیا۔

یہ بھی پڑھیں:بنگلہ دیش میں طارق رحمان کی وزراتِ عظمیٰ: پاک بنگلہ دیش تعلقات میں تاریخی پیشرفت کے مواقع

وائس چانسلر نے پاکستانی ہائی کمیشن کی جانب سے شعبہ اردو کی ترقی کے لیے فراہم کیے گئے تعاون پر شکریہ ادا کرتے ہوئے کہا کہ 1921 میں قائم ہونے والا شعبہ اردو یونیورسٹی کے قدیم اور ممتاز شعبوں میں شمار ہوتا ہے، جہاں اس وقت بی ایس (آنرز)، ماسٹرز، ایم فل اور پی ایچ ڈی کی سطح پر تعلیم دی جا رہی ہے۔ انہوں نے امید ظاہر کی کہ پاکستان کا تعاون مستقبل میں بھی جاری رہے گا، جس سے دونوں ممالک کے درمیان تاریخی، ثقافتی اور تعلیمی تعلقات مزید مستحکم ہوں گے۔

تقریب میں فیکلٹی آف آرٹس کے ڈین پروفیسر ڈاکٹر محمد ابوالکلام سرکار، شعبہ اردو کے چیئرمین ایسوسی ایٹ پروفیسر محمد غلام مولا، پروفیسر ڈاکٹر محمد غلام ربانی، پاکستانی ہائی کمیشن کے ڈپٹی ہائی کمشنر محمد واصف سمیت اساتذہ، طلبہ اور دونوں ممالک کے حکام نے بھی شرکت کی۔

آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں

پاک بنگلہ دیش پاکستان پروفیسر ڈاکٹر محمد ابوالکلام سرکار ڈھاکہ یونیورسٹی کمپیوٹر لیب

متعلقہ مضامین

  • اسحاق ڈار اور ایرانی وزیر خارجہ عباس عراقچی کی ملاقات، علاقائی امن کے لیے سفارتی روابط جاری رکھنے پر اتفاق
  • اسحاق ڈار کی ایرانی وزیر خارجہ عباس عراقچی سے ملاقات، علاقائی امن و استحکام پر تبادلہ خیال
  • ایشین گیمز کرکٹ : پاکستان، بھارت، بنگلہ دیش اور سری لنکا کو براہِ راست کوارٹر فائنل میں رسائی مل گئی
  • پاکستان کا بنگلہ دیش کے ساتھ تعلیمی تعاون بڑھانے کا عزم، ڈھاکہ یونیورسٹی کے شعبہ اردو میں کمپیوٹر لیب قائم
  • عطا اللہ تارڑ نے اب تک معافی نہیں مانگی، وزیراعظم وزرا کے تضحیک آمیز رویے کا نوٹس لیں، سحر کامران
  • اسحاق ڈار ایس سی او وزرائے خارجہ اجلاس کیلئے کرغزستان پہنچ گئے
  • آزاد کشمیر الیکشن، استحکام پاکستان پارٹی اور مسلم کانفرنس کے درمیان انتخابی اتحاد پر اتفاق
  • استحکام پاکستان پارٹی آزاد کشمیر اور آل جموں و کشمیر مسلم کانفرنس کے درمیان انتخابی اتحاد طے
  • بلوچستان میں پیش آنیوالے پے درپے دہشتگردی کے واقعات افسوسناک ہیں، علامہ مقصود ڈومکی
  • پاکستانی پرچم بردار جہازوں کیخلاف کسی بھی قسم کی جارحانہ کارروائی کو قومی سلامتی کا خطرہ تصور کیا جائیگا: دفتر خارجہ