26 نومبر احتجاج: صنم جاوید، مشعال یوسفزئی سمیت پی ٹی آئی کے 16 رہنماؤں و کارکنان کی ضمانت خارج
اشاعت کی تاریخ: 19th, April 2025 GMT
ویب ڈیسک: راولپنڈی کی انسداد دہشتگردی عدالت نے 26 نومبر کے احتجاج سے متعلق مقدمات میں راجا بشارت، صنم جاوید، مشعال یوسفزئی، نادیہ خٹک سمیت پی ٹی آئی کے 16 رہنماؤں و کارکنان کی ضمانت عدم پیروی پر خارج کر دی جب کہ صحافی سمیع ابراہیم کا نام بھی ضمانت خارج ہونے والوں میں شامل ہے۔
پی ٹی آئی رہنماؤں اور کارکنان کی درخواست ضمانتوں پر سماعت انسداد دہشتگردی عدالت کے جج امجد علی شاہ نے کیی۔
’’گانے میں میرا ذاتی کلپ شیئر کیوں کیا‘‘، مناہل ملک کی عمیر اعوان کو قانونی کارروائی کی دھمکی
سماعت کے موقع پر پراسیکیوٹر ظہیر شاہ نے عدالت کے روبرو دلائل دیتے ہوئے کہا کہ ملزمان چار ماہ سے عدالتی رعایت کا ناجائز فائدہ اٹھا رہے ہیں اور مسلسل عدالت سے غیر حاضر ہیں۔
ملزمان تفتیشی عمل میں جان بوجھ کر رکاوٹ ڈال رہے ہیں اور عبوری ضمانت کی رعایت کا بھی ملزمان نے ناجائز استعمال کیا۔
پراسیکیوٹر نے سپریم کورٹ کے فیصلوں کے ریفرنس بھی عدالت میں پیش کیے جس پر عدالت نے پی ٹی آئی کے 16 رہنماؤں و کارکنان کی ضمانت عدم پیروری پر خارج کردی۔
خراب موسم کے باعث 12 پروازیں منسوخ
ضمانت خارج ہونے والوں میں سابق صوبائی راجہ بشارت، صنم جاوید، مشعال یوسفزئی، سیمابیہ طاہر، تیمور مسعود، فہد مسعود، سعد علی خان، راجہ ناصر محفوظ، جاوید کوثر، شہباز احمد، نادیہ خٹک، عمر تنویر بٹ، بابر لودھی، نثار خان، عبدالوحید جبکہ صحافی سمیع ابراہیم کے نام شامل ہیں۔
واضح رہے کہ ملزمان کیخلاف راولپنڈی اور اٹک کے مختلف تھانوں میں مقدمات درج ہیں۔
Ansa Awais Content Writer.
ذریعہ
ذریعہ: City 42
کلیدی لفظ: کارکنان کی
پڑھیں:
نیب کیسز کی مرکزی اپیلوں اور ضمانت کی درخواستوں کی سماعت سے متعلق سپریم کورٹ کا فیصلہ جاری کردیاگیا
اسلام آباد(ڈیلی پاکستان آن لائن)نیب کیسز کی مرکزی اپیلوں اور ضمانت کی درخواستوں کی سماعت سے متعلق سپریم کورٹ کا فیصلہ جاری کردیاگیا۔
نجی ٹی وی چینل جیونیوز کے مطابق سپریم کورٹ نے کہا ہے کہ عدالتیں میڈیا کی پذیرائی یا عوامی مقبولیت کے کیلئے فیصلے نہیں کرسکتیں ،عدالت کا بنیادی فرض آئین اور قانون کے مطابق فیصلے کرنا ہے،قانون سے ہٹ کردائرہ اختیار کو اختیار کرنا یافرض کر لینا عدالتی اصولوں کے منافی ہے،عدالت نہ غیرقانونی دائرہ اختیار استعمال کر سکتی ہے، نہ قانونی دائرہ اختیار سے دستبردار ہو سکتی ہے،دائرہ اختیار کا تعین صرف آئین اور قانون کرتے ہیں۔
سندھ حکومت پولیس فورس کو جدید خطوط پر استوار کرنے کیلئے پرعزم ہے، وزیراعلیٰ سندھ
فیصلے میں کہا گیا ہے کہ آرٹیکل 175کے تحت ہر عدالت صرف وہی دائرہ اختیار استعمال کرسکتی ہے جو آئین یا قانون نے دیا ہو، آئین اور قانون کی مقررہ حدود سے تجاوز اختیارات سے ناجاز تجاوز کے مترادف ہے،دائرہ اختیار کے بغیر دیا گیا فیصلہ کالعدم اورغیرموثر ہوتا ہے،دائرہ اختیار کے بغیر فیصلے کو رم نان جوڈائس کے اصول کی زد میں آتے ہیں،ہر عدالت اپنے آئینی اور قانونی دائرہ اختیار کی پابند ہے،وفاقی آئینی عدالت اور سپریم کورٹ کے دائرہ ہائے اختیار الگ الگ ہیں،وفاقی آئینی عدالت اور سپریم کورٹ کے اختیارات ایک دوسرے پر حاوی نہیں ،وفاقی آئینی عدالت اور سپریم کورٹ ایک دوسرے کے اختیار میں مداخلت بھی نہیں کر سکتے۔
اداکارہ روما مائیکل اداکار شان بیگ سے شادی کے بندھن میں بندھ گئیں
عدالت نے کہاکہ ایک ہی مقدمے پردو متوازی عدالتی دائرہ ہائے اختیار قانون میں قابل قبول نہیں،ایک ہی مقدمے میں ضمانت سپریم کورٹ اوراپیل وفاقی آئینی عدالت میں نہیں چل سکتی،جہاں قانون اپیل کا حق فراہم نہ کرے وہاں فریق اپنے پسند سے نیا قانونی راستہ اختیار نہیں کرسکتا، قانون فورم شاپنگ یعنی پسند کی عدالت منتخب کرنے کے رجحان کی اجازت نہیں دیتا، صرف فریقین کی خواہش یا رضا مندی سے عدالت دائرہ اختیار استعمال نہیں کرسکتی،عدالت فریقین کی منشاء یا خواہش پر لامحدود دائرہ اختیار استعمال نہیں کر سکتی۔
آپریشن العزم ؛مستونگ کے علاقہ کھڈکوچہ میں کارروائی، فتنہ الہندوستان کے 4دہشتگرد ہلاک
مزید :