پولیس سے مزاحمت کا الزام، عالیہ حمزہ کارکنوں سمیت گرفتار، اڈیالہ جیل بھیجنے کا حکم WhatsAppFacebookTwitter 0 19 April, 2025 سب نیوز

اسلام آباد(سب نیوز)سڑک بلاک کرنے اور پولیس پر پتھراو کے الزام میں پی ٹی آئی پنجاب کی چیف آرگنائزر عالیہ حمزہ سمیت 5 کارکنوں کو گرفتار کرلیا گیا، عدالت نے دو کارکنوں کو رہا کردیا، عالیہ حمزہ اور دو کارکنوں کو اڈیالہ جیل بھیجنے کا حکم دے دیا۔ تفصیلات کے مطابق پولیس کو اطلاع ملی تھی کہ پی ٹی آئی کے کچھ لوگ سڑک بلاک کر رہے ہیں، جس پر پولیس فوری موقع پر پہنچی۔پولیس کے مطابق عالیہ حمزہ اور ساتھیوں کو غیر قانونی فعل سے اجتناب کا کہا گیا تو پولیس سے مزاحمت کی گئی جس پر انہیں گرفتار کرکے تھانہ ائیرپورٹ میں مقدمہ درج کرلیا گیا، جس میں شاہراہ عام کو بلاک کرنے پولیس پر پتھرا واور مزاحمت کی دفعات شامل ہیں۔

مقدمے میں 35 افراد نامزد ہیں، دو خواتین سمیت 5 کارکنوں کو موقع سے گرفتار کیا گیا تھا۔ مقدمہ تھانہ ائیرپورٹ پولیس نے محمد افضل سب انسپکٹر کی مدعیت میں درج کیا گیا۔ بعدازاں عالیہ حمزہ کو جوڈیشل کمپلیکس پہنچادیا جہاں انہیں سول ڈیوٹی جج ڈاکٹر ممتاز ہنجرا کی عدالت میں پیش کیا گیا۔ پولیس نے عالیہ حمزہ کو جوڈیشل ریمانڈ پر جیل بھجوانے کی استدعا کی۔وکیل صفائی نے گرفتاری کی مخالف کی، دلائل دیے اور عالیہ حمزہ کی ضمانت کی درخواست دائر کردی۔ عدالت نے درخواست پر فیصلہ محفوظ کیا اور جج سماعت مکمل کرکے اپنے چیمبر میں چلے گئے۔بعدازاں عدالت نے دو ملزمان زاہد اور شمیم آفتاب کو بے گناہ قرار دے کر رہا کردیا جب کہ عالیہ حمزہ کو جوڈیشل ریمانڈ پر اڈیالہ جیل بھیجنے کا حکم دے دیا۔ عدالت نے عالیہ حمزہ کے ساتھ دو ملزمان نعمان اور عادل کو بھی جوڈیشل ریمانڈ جیل بھیجنے کا حکم دے دیا۔وکلا نے عالیہ حمزہ کی درخواست ضمانت دائر کردی جس پر عدالت نے آج ہی نوٹس کے ساتھ ارجنٹ سماعت استدعا منظور کرلی، پی ٹی آئی وکیل ملک فیصل اور ڈاکٹر علی عمران نے دلائل شروع کر دئیے۔عدالت نے کہا کہ دفعات قابل ضمانت تھیں 506 دفعہ کا اضافہ کر دیا گیا ہے۔

وکلا صفائی نے کہا کہ الزام ایک طرح کا ہے تو تین ملزمان کو جوڈیشل اور دو کی ضمانت کیسے ہوسکتی ہے؟ عدالت پانچوں ملزمان کو ایک طرح ٹریٹ کرے،عدالتی عملے نے پہلے دو ملزمان کو ڈسچارج کرنے کا کہا،اب عدالتی عملے نے کہا پانچوں ملزمنان کو جوڈیشل کرکے دو کی ضمانت ہوچکی ہے۔سول جج ڈاکٹر ممتاز ہنجرا نے سماعت میں وقفہ کردیا۔قبل ازیں عالیہ حمزہ نے عدالت میں پیشی پر میڈیا سے گفتگو میں کہا کہ راولپنڈی میں فلسطین پر یوتھ کنونشن تھا انہیں اس سے بھی ڈر لگا، ان سے پوچھا جائے رات سے ہمیں کیوں حبس بے جا میں رکھا ہوا ہے؟ ایک نئی ایف آئی آر ایک نیا میڈل ہے، کیا تفتیشی افسر عدالت کے سامنے حلف دے گا؟ پولیس سے کہا تھا کارکنان کو گرفتار نہ کریں مجھے کرنا ہے تو کریں،انہوں نے کہا کہ ظلم جتنا مرضی کرلیں ہم ہنس کر سہیں گے، پولیس پر کسی نے پتھرا نہیں کیا، پولیس سے پوچھیں ان کے سامنے میں کھڑی تھی ایک پتھر بھی کسی نے نہیں مارا پھر بھی ہم پر پتھرا کرکے پولیس سے مزاحمت کا مقدمہ درج کرلیا گیا۔

.

ذریعہ

ذریعہ: Daily Sub News

کلیدی لفظ: اڈیالہ جیل بھیجنے کا حکم پولیس سے مزاحمت کارکنوں کو عالیہ حمزہ کو جوڈیشل عدالت نے کہا کہ نے کہا

پڑھیں:

طالبان کے خلاف مسلح مزاحمت کا دائرہ وسیع، کئی افغان صوبوں میں جھڑپوں کی اطلاعات

افغانستان میں طالبان حکومت کے خلاف مسلح مزاحمتی سرگرمیوں میں تیزی آنے کی اطلاعات سامنے آئی ہیں۔ مختلف صوبوں سے موصول ہونے والی رپورٹس کے مطابق طالبان مخالف گروہوں نے شمالی اور شمال مشرقی علاقوں میں متعدد کارروائیوں کا دعویٰ کیا ہے، جس سے بعض علاقوں میں سیکیورٹی صورتحال مزید کشیدہ ہو گئی ہے۔ تاہم ان دعوؤں کی آزاد ذرائع سے مکمل تصدیق نہیں ہو سکی۔

رپورٹس کے مطابق ’فریڈم اینڈ جسٹس موومنٹ‘ نے دعویٰ کیا ہے کہ اس کے کمانڈر حامد سیفی کی قیادت میں جنگجوؤں نے 20 جولائی کو صوبہ کاپیسا کے ضلع کوہستان میں مختلف شاہراہوں پر چیک پوسٹیں قائم کیں اور اہم راستوں پر نقل و حرکت کو اپنے کنٹرول میں لے لیا۔

یہ بھی پڑھیں:افغانستان میں پرتشدد واقعات، سابق انٹیلیجنس افسر اور قبائلی عمائدین الگ الگ حملوں میں قتل

ادھر صوبہ بدخشاں کے ضلع یفتل میں حالیہ مزاحمتی کارروائی کے بعد ضلع زیبک سے بھی طالبان مخالف حملے کی اطلاعات موصول ہوئی ہیں۔ مقامی ذرائع کے مطابق ٹاپ خانہ کے علاقے میں طالبان کی چیک پوسٹوں کے قریب شدید جھڑپیں جاری ہیں، تاہم ہلاکتوں اور زخمیوں کی تعداد کے بارے میں کوئی مصدقہ معلومات سامنے نہیں آئیں۔ بعض اطلاعات کے مطابق لڑائی قریبی علاقوں تک پھیلنے کا خدشہ بھی ظاہر کیا جا رہا ہے۔

اس سے قبل ’سپاہیانِ میہن‘ نامی گروپ نے دعویٰ کیا تھا کہ اس کے جنگجوؤں نے یفتل میں ضلعی انتظامیہ، پولیس ہیڈکوارٹر اور انٹیلی جنس دفاتر پر قبضہ کرکے طالبان کا پرچم اتار دیا، اسلحہ، فوجی گاڑیاں اور دیگر سامان اپنے قبضے میں لے لیا تھا۔ بعد ازاں طالبان کی اضافی نفری پہنچنے پر علاقے کا دوبارہ کنٹرول طالبان کے ہاتھ میں آنے کی اطلاعات بھی سامنے آئیں۔

تازہ رپورٹس میں کہا جا رہا ہے کہ بدخشاں طالبان حکومت کے لیے ایک اہم دباؤ والے علاقے کی صورت اختیار کرتا جا رہا ہے، جہاں بار بار ہونے والی مزاحمتی کارروائیاں طالبان کی سیکیورٹی حکمت عملی اور صوبے پر گرفت کو چیلنج کر رہی ہیں۔

رپورٹس کے مطابق طالبان مخالف سرگرمیاں اب صرف پنج شیر اور اندراب تک محدود نہیں رہیں بلکہ کابل، بغلان، تخار، قندوز، کاپیسا، بلخ، ہرات اور بدخشاں سمیت متعدد صوبوں میں بھی مختلف مزاحمتی گروہوں نے کارروائیوں کے دعوے کیے ہیں، جس سے ظاہر ہوتا ہے کہ مسلح مزاحمت کا دائرہ بتدریج وسیع ہو رہا ہے۔

آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں

افغانستان بدخشاں طالبان فریڈم اینڈ جسٹس موومنٹ

متعلقہ مضامین

  • افغانستان میں طالبان رجیم کیخلاف مزاحمت مزید زور پکڑنے لگی، مخالف گروپوں کے حملوں میں تیز ی آگئی
  • این سی سی آئی اے کے افسران کو فرائض کی انجام دہی سے نہ روکا جائے، اسلام آباد ہائیکورٹ
  • اداکار منیب بٹ اغوا برائے تاوان کیس کا ڈراپ سین
  • طالبان کے خلاف مسلح مزاحمت کا دائرہ وسیع، کئی افغان صوبوں میں جھڑپوں کی اطلاعات
  • باکو میں بین الاقوامی جوڈیشل ٹریننگ پروگرام، سپریم کورٹ کے جج نے متبادل نظامِ انصاف پر زور
  • کراچی، شہر کے مختلف علاقوں میں پولیس مقابلے، 5 ڈاکو زخمی حالت میں گرفتار
  •  230 سے زائد پی ٹی آئی رہنماؤں  کارکنوں کی عبوری ضمانت میں توسیع
  • کراچی، فیڈرل بی انڈسٹریل ایریا میں پولیس مقابلہ، 2 زخمی ڈاکو گرفتار، چھینی گئی موٹر سائیکل برآمد
  • کراچی: زیادتی کی شکار غیرملکی خاتون نے ملزم کو معاف کردیا
  • کراچی میں موٹر سائيکل چوری میں ملوث خاتون گرفتار