لداخ ”کے ڈی اے، ایل اے بی" کا مطالبات تسلیم نہ کیے جانے کی صورت میں احتجاجی تحریک کی دھمکی
اشاعت کی تاریخ: 20th, April 2025 GMT
کے ڈی اے اور ایک اے بی کے رہنماﺅں نے کرگل میں ایک اہم اجلاس کے بعد پریس کانفرنس کے دوران کہا کہ نئی دہلی جان بوجھ کر اہم مسائل کو پس پشت ڈال رہی ہے۔ اسلام ٹائمز۔ بھارت کے غیر قانونی زیر قبضہ جموں و کشمیر میں کرگل ڈیمو کریٹک الائنس (کے ڈی اے) اور لیہہ اپیکس باڈی (ایل اے بی) نے بھارتی حکومت کو متنبہ کیا ہے کہ اگر دلی میں ہونے والے اجلاس میں ان کے مطالبات تسلیم نہ کیے گئے تو وہ بڑے پیمانے پر احتجاجی تحریک شروع کر دیں گے۔ ذرائع کے مطابق بھارتی وزارت داخلہ نے مقبوضہ جموں و کشمیر کے خطے لداخ پر اعلیٰ اختیاراتی کمیٹی (ایچ پی سی) کا اجلاس 20 مئی کو نئی دہلی میں طلب کر رکھا ہے، جس کی صدارت وزیر مملکت برائے امور داخلہ نتیا نند رائے کریں گے۔ کے ڈی اے اور ایک اے بی کے رہنماﺅں نے کرگل میں ایک اہم اجلاس کے بعد پریس کانفرنس کے دوران کہا کہ نئی دہلی جان بوجھ کر اہم مسائل کو پس پشت ڈال رہی ہے۔ کے ڈی اے کے سینئر رہنما اصغر علی کربلائی نے کہا کہ ہم سمجھتے ہیں کہ بھارتی حکومت لداخیوں کے ساتھ مناسب سلوک نہیں کر رہی، ہم ان مسائل پر ٹھوس حل کی توقع کرتے ہیں جو ہم نے بار بار اٹھائے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ ریاست اور چھٹے شیڈول کا درجہ ہمارے اہم مطالبات میں سے ہیں اور ہم امید کرتے ہیں کہ اجلاس میں ان پر توجہ دی جائے گی۔ کربلائی نے خبردار کیا کہ اگر دلی کے اجلاس میں کوئی ٹھوس پیش رفت سامنے نہیں آئی تو ہم احتجاج پر مجبور ہو جائیں گے۔ انہوں نے کہا کہ لداخ کے لوگوں کے صبر کو کمزوری نہ سمجھا جائے۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Islam Times
پڑھیں:
بجٹ میں پیٹرولیم لیوی بڑھانے کا امکان
اسلام آباد:وفاقی بجٹ میں 220 ارب روپے کے نئے ٹیکسز لگانے، تاجروں کے لیے فکسڈ ٹیکس اسکیم لانے کی تجاویز ہیں، بچوں کے فارمولا دودھ، گھی، کوکنگ آئل سمیت درجنوں اشیائے خورونوش سیلز ٹیکس کے تیسرے شیڈول میں شامل کیے جانے کا امکان ہے۔
ایکسپریس نیوز کے مطابق بجٹ میں سالانہ 20 کروڑ روپے سیل پر 25 ہزار روپے فکس ٹیکس دینا ہوگا جس پر تاجروں کو آڈٹ سے استثنیٰ دیا جاسکتا ہے، آئی ایم ایف نے جی ایس ٹی کی شرح 18 سے بڑھا کر 19 فیصد کرنے پر زور دیا ہے۔
ذرائع کے مطابق اگلے مالی سال کا ٹیکس ہدف حاصل کرنے کے لیے بجٹ میں اضافی ٹیکس اقدامات شامل ہوں گے، نئے بجٹ میں سپر ٹیکس میں ایک سے دو فیصد تک کمی کی بھی تجویز ہے۔
بجٹ میں شیر خوار بچوں کے فارمولا دودھ، کیچپ، ویجیٹیبل گھی، کوکنگ آئل، چائے کی پتی، چینی، خشک دودھ اور اس سے تیار شدہ مصنوعات سمیت درجنوں اشیائے خورونوش اور روزمرہ استعمال کی ضروری اشیاء پر سیلز ٹیکس وصولی کے لیے پرچون قیمت پرنٹ کرنے کا لازمی قرار دینے کا اصولی فیصلہ کیا ہے جس کے لیے ان درجنوں اشیاء کو تیسرے شیڈول میں شامل کیا جائے گا۔
علاوہ ازیں جن اشیائے خوردونوش اور اشیائے ضروریہ پر بھاری ٹیکس عائد ہے اسے اگلے بجٹ میں بھی برقرار رکھے جانے کا امکان ہے جس سے ان اشیاء کے مہنگے ہونے کا خدشہ ہے۔
ذرائع کا مزید کہنا ہے کہ الیکٹرک گاڑیوں کی سی کے ڈی کٹس پر سیلز ٹیکس چھوٹ یکم جولائی 2026ء سے ختم ہونے کا امکان ہے جبکہ مقامی طور پر تیار یا اسمبلڈ کی جانے والی الیکٹرک گاڑیوں پر ایک فی صد سیلز ٹیکس 30 جون 2026ء تک نافذ رہے گا اسی طرح ہائبرڈ الیکٹرک گاڑیوں پر رعایتی سیلز ٹیکس کی مدت بھی 30 جون 2026ء کو ختم ہو جائے گی اور اس میں مزید رعایت دیے جانے کا امکان نہیں ہے۔
ذرائع کا کہنا ہے کہ یکم جولائی سے پٹرولیم مصنوعات پر کلائمٹ سپورٹ لیوی دگنی کیے جانے کا امکان ہے اس کے تحت پٹرولیم مصنوعات پر کلائمٹ سپورٹ لیوی 2.5 روپے فی لیٹر سے بڑھا کر پانچ روپے فی لیٹر وصول کی جا سکتی ہے۔ آئندہ مالی سال کے دوران کلائمٹ سپورٹ لیوی کی مد میں 90 ارب روپے سے زائد وصول ہونے کا تخمینہ لگایا گیا ہے۔
بجٹ میں کرپٹو ٹریڈنگ پر 10 سے 30 فی صد تک کیپیٹل گین ٹیکس نافذ کیا جا سکتا ہے جس کیلئے ٹیکس ایکٹ 2001ء کے سیکشن 37 میں کرپٹو ٹرانزیکشنز سے متعلق کیپیٹل گین کی شق شامل کیے جانے کا امکان ہے۔
دریں اثنا وفاقی حکومت کی جانب سے آئندہ مالی سال 2026-27ء کے وفاقی بجٹ میں سابق قبائلی علاقوں کے لیے ٹیکس استثنیٰ ختم کیے جانے کا امکان ہے۔