نوبل انعام یافتہ اور درجنوں دیگر ماہرین اقتصادیات کا امریکی ٹیرف پالیسیوں کی مخالفت میں اعلامیہ
اشاعت کی تاریخ: 20th, April 2025 GMT
واشنگٹن :امریکی ڈیجیٹل نیو ز پلیٹ فارم بزنس انسائیڈر کی ایک رپورٹ کے مطابق، دو نوبل انعام یافتہ افراد سمیت درجنوں ماہرین اقتصادیات نے امریکی صدر ٹرمپ کی ٹیرف پالیسی پر تنقید کرتے ہوئے ایک “اینٹی ٹیرف ڈیکلریشن” پر دستخط کیے ہیں اور امریکہ کی موجودہ ٹیرف پالیسی کو “گمراہ کن” قرار دیتے ہوئے خبردار کیا ہے کہ یہ اقدام خود پیدا کردہ کساد بازاری کا باعث بن سکتا ہے۔ اس “اینٹی ٹیرف ڈیکلریشن ” میں ماہرین نے خبردار کیا ہے کہ تجارت پر ٹرمپ انتظامیہ کی متضاد اور تباہ کن پالیسیوں کا فوری طور پر ختم ہونا ضروری ہے۔ اعلامیہ میں کہا گیا ہے کہ موجودہ انتظامیہ کی جانب سے محصولات کا نفاذ عام امریکیوں کو درپیش معاشی حالات کے بارے میں غلط فہمی کی وجہ سے ہے اور ان گمراہ کن پالیسیوں کا خمیازہ عوام زیادہ قیمتوں اور کساد بازاری کی صورت میں برداشت کریں گے۔ اعلامیے میں یہ بھی تنقید کی گئی ہے کہ امریکہ کی طرف سے دھمکی دی گئی اور دوسرے ممالک پر عائد کردہ ‘ ریسیپروکل ٹیرف” کی شرح کا حساب غلط فارمولوں کا استعمال کرتے ہوئے کیا گیا ہے اور ان کی معاشی حقیقت میں کوئی بنیاد نہیں ہے۔ 956 افراد اس “اینٹی ٹیرف ڈیکلریشن” پر دستخط کر چکے ہیں۔
Post Views: 4.
ذریعہ
ذریعہ: Daily Mumtaz
پڑھیں:
ماہرینِ صحت کی دوپہر کے کھانے میں غذائیت سے بھرپور سلاد کو معمول کا حصہ بنانے کی سفارش
کراچی(اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین - این این آئی۔ 24 جولائی2026ء) ماہرینِ صحت نے دوپہر کے کھانے میں غذائیت سے بھرپور سلاد کو معمول کا حصہ بنانے کی سفارش کرتے ہوئے کہا ہے کہ یہ عادت نہ صرف متوازن غذا کی جانب اہم قدم ہے بلکہ بھوک پر قابو پانے، توانائی برقرار رکھنے اور مجموعی صحت کو بہتر بنانے میں بھی مؤثر کردار ادا کر سکتی ہے۔ماہرین کے مطابق صحت مند طرزِ زندگی کا مقصد صرف تیزی سے وزن کم کرنا نہیں بلکہ ایسی پائیدار غذائی عادات اپنانا ہے جن پر طویل عرصے تک آسانی سے عمل کیا جا سکے۔ انہوں نے کہا کہ دوپہر کے کھانے میں متوازن سلاد شامل کرنے سے جسم کو فائبر، وٹامنز، منرلز اور دیگر ضروری غذائی اجزا بیک وقت حاصل ہوتے ہیں، جو بہتر صحت کے لیے نہایت اہم ہیں۔انہوں نے بتایا کہ ایک مکمل اور متوازن سلاد صرف سبز پتوں تک محدود نہیں ہونا چاہیے بلکہ اس میں ثابت مونگ دال، چنے، کھیرا، ٹماٹر، پیاز، گاجر، شملہ مرچ، کینوا، ایووکاڈو، مالٹے کے قتلے، انار کے دانے اور کچے آم جیسے غذائیت سے بھرپور اجزا بھی شامل کیے جا سکتے ہیں۔(جاری ہے)
ذائقے کے لیے نمک، کالی مرچ، لیموں کا رس یا سرکہ استعمال کیا جا سکتا ہے، جبکہ پروٹین کی ضرورت پوری کرنے کے لیے گرل کیا ہوا پنیر، سویا یا دیگر صحت بخش پروٹین ذرائع شامل کرنے کی بھی تجویز دی گئی ہے۔ماہرین نے کہا کہ اگر ایک ہی قسم کا سلاد روزانہ کھایا جائے تو وقت کے ساتھ اکتاہٹ پیدا ہو سکتی ہے، اس لیے مختلف سبزیوں، پھلوں اور دیگر اجزا میں تبدیلی کرتے رہنا چاہیے تاکہ ذائقے کے ساتھ غذائی تنوع بھی برقرار رہے۔طبی ماہرین کے مطابق دوپہر کے کھانے میں سلاد شامل کرنے سے زیادہ دیر تک پیٹ بھرنے کا احساس رہتا ہے، غیر ضروری اسنیکس اور بار بار کھانے کی خواہش میں کمی آتی ہے، جبکہ دوپہر کے کھانے کے بعد محسوس ہونے والی سستی بھی کم ہو سکتی ہے۔ اس کے نتیجے میں روزمرہ سرگرمیوں کے لیے جسمانی توانائی اور چستی برقرار رکھنے میں مدد ملتی ہے۔انہوں نے مزید کہا کہ اگرچہ وزن میں کمی کا عمل ہر فرد میں مختلف ہو سکتا ہے، تاہم متوازن غذا کو مستقل معمول بنانے سے جسمانی ساخت میں مثبت تبدیلیاں آ سکتی ہیں، کپڑوں کی فٹنگ بہتر محسوس ہو سکتی ہے اور مجموعی صحت میں بتدریج بہتری آتی ہے۔ماہرین نے کہا کہ صحت بخش غذائی عادات نہ صرف جسمانی بلکہ ذہنی صحت پر بھی مثبت اثرات مرتب کرتی ہیں اور انسان کے اعتماد میں اضافہ کرتی ہیں۔ ان کے مطابق صحت مند طرزِ زندگی کا مطلب پسندیدہ کھانوں سے مکمل پرہیز نہیں بلکہ اعتدال، توازن اور مستقل مزاجی کے ساتھ غذائیت سے بھرپور خوراک کو روزمرہ معمول کا حصہ بنانا ہے۔