لیاری سے کالعدم تنظیم کا دہشتگرد گرفتار، اہم انکشافات متوقع
اشاعت کی تاریخ: 21st, April 2025 GMT
رینجرز اور سی ٹی ڈی کی لیاری میں کارروائی، کالعدم تنظیم کا دہشتگرد گرفتار، ملزم اختر عرف اکو عرف بنگالی کے قبضے سے اسلحہ و ایمونیشن بھی برآمد کیا گیا۔
ترجمان رینجرز کے مطابق ملزم ساتھی کے ہمراہ حساس مقامات کی ریکی کرنے اور ویڈیوز بنانے میں ملوث رہا ہے، ملزم نے 2021 میں لیاری میں چینی شہری کی گاڑی پر فائرنگ کی، فائرنگ سے چینی شہری اور راہگیر خالد زخمی ہوئے تھے۔
مزید پڑھیں: لیاری گینگ کے سرغنہ عزیر بلوچ تہرے قتل کے مقدمے سے بری
ترجمان رینجرز کے مطابق ملزمان کو سی سی ٹی وی وڈیو میں واضح دیکھا گیا ہے، ملزم نے ساتھی فراز کے ہمراہ حب چوکی میں صحافی اکرم ساجدی اور شاہد زہری کی ریکی کی اوروڈیو بنائی، ملزمان نے وڈیو بنا کر کالعدم تنظیم کے کمانڈر عبدالرحمان عرف عدنان کو بھیجی۔
ترجمان رینجرز کے مطابق 10 اکتوبر 2021 کو دہشتگردوں نے حب چوکی پر شاہد زہری کی گاڑی پر مقناطیسی بم نصب کرکے بلاسٹ کیا، حملے میں شاہد زہری جاں بحق اور 2 افراد زخمی ہوئے تھے۔
مزید پڑھیں: جیل میں قید لیاری گینگ وار کے سرغنہ عزیر بلوچ کی انوکھی فرمائش
یکم نومبر 2021 کو دہشتگردوں نے صحافی اکرم ساجدی کی گاڑی پر مقناطیسی بم نصب کرکے بلاسٹ کیا، حملے میں صحافی اکرم ساجدی ہلاک ہوگیا تھا، ملزم سے مزید اہم انکشافات متوقع ہیں۔
آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں
دہشتگرد رینجرز سی ٹی ڈی کالعدم تنظیم کراچی لیاری.
ذریعہ
ذریعہ: WE News
کلیدی لفظ: دہشتگرد سی ٹی ڈی کالعدم تنظیم کراچی لیاری کالعدم تنظیم
پڑھیں:
اٹلی میں چار پاکستانی زرعی مزدوروں کا قتل، دو پاکستانی شہری گرفتار
اسلام آباد (اُردو پوائنٹ ۔ DW اردو۔ 02 جون 2026ء) اخبار کے مطابق جلی ہوئی گاڑی امینڈولارا نامی گاؤں کے قریب ایک پٹرول پمپ پر ملی، جو کالابریا کے وسیع زرعی علاقے میں واقع ہے۔
اخبار کے مطابق پٹرول پمپ کے سی سی ٹی وی کیمروں کی فوٹیج میں دو افراد کو منی وین کے دروازے باہر سے بند کرتے اور اس کے اندر آتش گیر مائع پھینکتے ہوئے دیکھا گیا۔
رپورٹ کے مطابق اس کے بعد گاڑی میں آگ بھڑک اٹھی اور دونوں مشتبہ افراد موقع سے فرار ہو گئے۔
فائر بریگیڈ نے آگ بجھانے کے بعد گاڑی کے اندر سے چار لاشیں برآمد کیں۔
مقامی پولیس چیف نے اس اطالوی اخبار سے گفتگو کرتے ہوئے کہا، ’’یہ یقینی طور پر قتل کا واقعہ ہے، اب ہمیں صرف اس کی تفصیلات معلوم کرنا ہیں۔
(جاری ہے)
‘‘
اخبار نے مزید لکھا کہ گزشتہ چند مہینوں کے دوران اس علاقے میں پاکستانیوں کی گاڑیوں اور منی وینز کے نذر آتش کیے جانے کے 14 واقعات پیش آ چکے ہیں۔
رپورٹ کے مطابق علاقے میں تارکین وطن کے مختلف گروہوں کے درمیان زرعی کام کی تقسیم، رہائشی دستاویزات (ریذیڈنسی پیپرز)، اور رہائش کے مسائل پر کشیدگی پائی جاتی ہے، جسے ممکنہ طور پر اس واقعے کے پس منظر سے جوڑا جا رہا ہے۔
اطالوی حکام اس واقعے کی تحقیقات جاری رکھے ہوئے ہیں تاکہ اکٹھے چار افراد کے اس قتل کے محرکات اور اس کے ذمہ دار افراد کے اس جرم میں کردار کی مکمل طور پر وضاحت ہو سکے۔
ادارت: مقبول ملک