جنوبی وزیرستان: انسدادِ پولیو مہم پر مامور پولیس سے فائرنگ کا تبادلہ، دہشتگرد ہلاک، سپاہی شہید
اشاعت کی تاریخ: 21st, April 2025 GMT
—فائل فوٹو
جنوبی وزیرستان میں دہشت گردوں اور پولیس اہلکاروں کے درمیان فائرنگ کا تبادلہ ہوا ہے۔
فائرنگ کے تبادلے میں دہشت گرد ہلاک اور کانسٹیبل شہید ہو گیا۔
پولیس نے کہا ہے کہ ہلاک دہشت گرد سے راکٹ لانچر، مشین گن، 2 موٹر سائیکلیں، شناختی کارڈ، 3 اے ٹی ایم کارڈ اور اسمارٹ فون برآمد ہوا ہے۔
پولیس کے مطابق ملزم فائرنگ تبادلے میں اپنے ہی ساتھیوں کی گولیاں لگنے سے ہلاک ہوا۔
واقعے کا مقدمہ تھانہ سی ٹی ڈی اعظم ورسک میں درج کر لیا گیا ہے۔
پولیس کا کہنا ہے کہ پولیس اہلکار انسدادِ پولیو مہم ڈیوٹی پر مامور تھے۔
.ذریعہ: Jang News
پڑھیں:
کے پی میں رواں سال کارروائیوں میں 955 دہشت گرد ہلاک: رپورٹ جاری
data-id="863a0a8" data-element_type="widget" data-widget_type="theme-post-content.default">
خیبر پختونخوا میں سال کے دوران مختلف کارروائیوں میں مجموعی طور پر 955 دہشت گرد ہلاک کر دیے گئے۔
خیبر پختونخوا میں رواں سال سکیورٹی اداروں کی کارروائیوں میں دہشت گردی کے خلاف جنگ میں اہم کامیابیاں حاصل کی گئی ہیں۔ صوبائی پولیس کی جانب سے جاری کردہ تازہ اعداد و شمار کے مطابق مختلف آپریشنز کے دوران مجموعی طور پر 955 دہشت گرد ہلاک کیے گئے۔
سینٹرل پولیس آفس کے مطابق پولیس اور کاؤنٹر ٹیررازم ڈپارٹمنٹ نے صوبے بھر میں آپریشنز کے دوران 423 دہشت گردوں کو ہلاک کیا، جبکہ دیگر سکیورٹی فورسز نے مزید 532 دہشت گردوں کو مار گرایا۔ کارروائیوں کے دوران ہلاک دہشت گردوں کے قبضے سے بھاری مقدار میں اسلحہ، گولہ بارود اور دیگر جنگی ساز و سامان بھی برآمد کیا گیا۔
رپورٹ میں مزید بتایا گیا کہ ہلاک دہشت گردوں میں 33 اہم کمانڈرز شامل تھے، جن کا تعلق وزیرستان، بنوں، ڈیرہ اسماعیل خان، مردان، کوہاٹ اور دیگر اضلاع سے تھا۔ سب سے زیادہ ہلاکتیں بنوں، ڈی آئی خان، شمالی و جنوبی وزیرستان اور خیبر میں ریکارڈ کی گئیں، جبکہ کرم، اورکزئی اور ملاکنڈ میں بھی اہم دہشت گرد کمانڈرز سمیت متعدد شدت پسند مارے گئے۔
یہ اعداد و شمار صوبے میں دہشت گردی کے خاتمے اور امن و امان کے قیام کے لیے سکیورٹی اداروں کی مسلسل جدوجہد کا ثبوت ہیں۔ صوبائی پولیس کا کہنا ہے کہ آئندہ بھی دہشت گردوں کے نیٹ ورکس کو نشانہ بنایا جائے گا تاکہ خیبر پختونخوا میں دیرپا امن قائم رکھا جا سکے۔