بوسٹن میراتھون، تمام 18 پاکستانی رنرز نے دوڑ مکمل کی
اشاعت کی تاریخ: 22nd, April 2025 GMT
پاکستانی رنرز نے دنیا کی سب سے قدیم اور معزز بوسٹن میراتھون میں شاندار کارکردگی کا مظاہرہ کیا اور تمام 18 نے اپنی دوڑ مکمل کی جس میں سے 13 نے چار گھنٹے سے کم وقت میں میراتھون کو مکمل کیا۔
کراچی کے نوجوان رنر امین مکاتی نے مشکل ترین کورس پر 2 گھنٹے 48 منٹ کے شاندار وقت کے ساتھ ایونٹ میں تیز ترین پاکستانی رنر ہونے کا اعزاز حاصل کیا، کراچی ہی سے تعلق رکھنے والی عبدالرحمٰن نے بھی 2 گھنٹے 51 منٹ میں دوڑ مکمل کر کے پاکستان کا نام روشن کیا۔
میراتھون کے بعد سوشل میڈیا پوسٹ میں امین مکاتی نے کہا کہ ہارٹ بریک پل کی دشواریاں بھی ان کے حوصلے پست نہ کرسکیں، عبدالرحمٰن نے بوسٹن میراتھون کو اپنی زندگی کی بہترین ریس قرار دیا۔
پاکستانی خواتین میں سارہ لودھی نے 3 گھنٹے 24 منٹ میں دوڑ مکمل کر کے سب کو حیرت میں ڈال دیا، انہوں نے کہا کہ “میں چاہتی ہوں کہ میری بیٹیاں دیکھیں کہ خواتین کے لیے کوئی خواب ناممکن نہیں۔”
اس سال بوسٹن میراتھون میں پاکستان کیلئے سب سے قابل فخر پہلو چھ پاکستانی رنرز کا “سکس اسٹار فئنشر” کا اعزاز حاصل کرنا تھا۔ دانش الہٰی، عدنان گاندھی، حرا دیوان، جمال خان، یسریٰ بخاری اور نزار نایانی نے دنیا کی چھ بڑی میراتھنز مکمل کر کے پاکستان کا جھنڈا بلند کیا اور سکس اسٹار فںشر ہونے کا اعزاز اپنے نام کیا ۔
امریکہ میں مقیم پاکستانی ڈاکٹر سلمان خان نے پانچویں مرتبہ بوسٹن میراتھون مکمل کی وہ پہلے ہی سکس اسٹار فںشر کا اعزاز حاصل کر چکے ہیں۔ ڈاکٹر سلمان نے کہا کہ بین الاقوامی میراتھون مقابلوں میں پاکستان کی بڑھتی ہوئی تعداد دیکھنا قابل فخر لمحہ ہے۔
بوسٹن میراتھون میں مجموعی طور پر 18 پاکستانی رنرز نے حصہ لیا، جن میں سے 13 نے چار گھنٹے سے کم وقت میں میراتھون مکمل کی۔ یہ کارکردگی پاکستانی کھیلوں کے مستقبل کے لیے مثبت علامت ہے۔
1897 سے جاری اس تاریخی مقابلے میں پاکستانیوں کی یہ شاندار شرکت ثابت کرتی ہے کہ ہمارے رنرز کسی سے کم نہیں۔ اب وقت آ گیا ہے کہ حکومت اور نجی ادارے اس صلاحیت کو نکھارنے میں اپنا کردار ادا کریں۔
Post Views: 1.
ذریعہ
ذریعہ: Daily Mumtaz
کلیدی لفظ: پاکستانی رنرز کا اعزاز دوڑ مکمل مکمل کی
پڑھیں:
سانحہ گل پلازہ میں اہم پیش رفت؛ 5 اداروں کے افسران کے بیانات ریکارڈ
کراچی:سانحہ گل پلازہ میں اہم پیش رفت سامنے آئی ہے جس میں تفتیشی افسر نے 5 اداروں کے افسران کے بیانات ریکارڈ کر لیے۔
سٹی کورٹ نے تفتیش مکمل کرنے کے لیے تفتیشی افسر کو 7 دن کی مہلت دے دی۔
تفتیشی افسر ڈی ایس پی عامر ورک نے عدالت سے کہا کہ بیانات مکمل نہیں ہوئے لہٰذا تفتیش مکمل کرنے کے لیے مہلت دی جائے۔ ایس ایس پی ٹریفک، فائربریگیڈ، سول ڈیفنس اور کے ایم سی افسران کے بیان ریکارڈ کر لیے ہیں۔
مزید پڑھیںسانحہ گل پلازہ کی جوڈیشل کمیشن رپورٹ پبلک کرنے کی درخواست مسترد
سانحہ گل پلازہ کیس: سرکاری اداروں نے تعاون نہیں کیا، تفتیشی افسر نے پیشرفت رپورٹ عدالت میں جمع کرادی
تفتیشی افسر کے مطابق فائر بریگیڈ کے اس فائر آفیسر کا بیان ریکارڈ کیا ہے، جو پہلی گاڑی کے ساتھ گل پلازہ پہنچا تھا۔ تنویر پاستا، عمار اسماعیل، امین، رمضان، نعمت اللہ اور 11 سالہ حذیفہ کا بیان پہلے ہی ریکارڈ ہوچکا ہے۔
ڈی ایس پی عامر ورک نے 8 سرکاری اداروں کے سربراہوں کو خطوط لکھے ہیں۔