ناانصافی ہو رہی ہو تو اُس پر آنکھیں بند نہیں کی جا سکتیں: سپریم کورٹ
اشاعت کی تاریخ: 22nd, April 2025 GMT
ویب ڈیسک : صنم جاوید کی 9 مئی مقدمے سے بریت کے خلاف کیس کی سماعت میں سپریم کورٹ کے جسٹس ہاشم کاکڑ نے ریمارکس دیے ہیں کہ اگر ناانصافی ہو تو اس پر آنکھیں بند نہیں کی جا سکتیں۔
سپریم کورٹ میں 9 مئی مقدمات میں صنم جاوید کی بریت کے فیصلے کے خلاف پنجاب حکومت کی اپیل پر سماعت ہوئی، جس میں حکومتی وکیل نے دلائل دیتے ہوئے کہا کہ صنم جاوید کے ریمانڈ کیخلاف لاہور ہائیکورٹ میں درخواست دائر ہوئی۔ ریمانڈ کیخلاف درخواست میں لاہور ہائیکورٹ نے ملزمہ کو مقدمے سے بری کردیا۔
صوبہ بھر میں انفورسمنٹ سٹیشن قائم کرنے کا فیصلہ، وزیراعلیٰ پنجاب کی زیر صدارت خصوصی اجلاس
جسٹس ہاشم کاکڑ نے ریمارکس دیے کہ ان کیسز میں تو عدالت سے ہدایات جاری ہوچکی ہیں کہ 4 ماہ میں فیصلہ کیا جائے۔ اب آپ یہ مقدمہ کیوں چلانا چاہتے ہیں؟ جس پر وکیل نے جواب دیا کہ ہائی کورٹ نے اپنے اختیارات سے بڑھ کر فیصلہ دیا اور ملزمہ کو بری کیا۔
جسٹس ہاشم کاکڑ نے کہا کہ میرا اس حوالے سے فیصلہ موجود ہے کہ ہائیکورٹ کے پاس تمام اختیارات ہوتے ہیں۔ اگر ہائیکورٹ کو کوئی خط بھی ملے کہ ناانصافی ہورہی تو وہ اختیارات استعمال کرسکتی ہے۔ اگر ناانصافی ہو تو اس پر آنکھیں بند نہیں کی جاسکتیں۔
واٹس ایپ کا ویڈیو کالز کیلئے فلٹرز، ایفیکٹس اور بیک گراؤنڈز تبدیل کرنے کا نیا فیچر
وکیل پنجاب حکومت نے کہا کہ ہائیکورٹ سوموٹو اختیارات کا استعمال نہیں کرسکتی، جس پر جسٹس صلاح الدین نے ریمارکس دیے کہ کریمنل ریویژن میں ہائی کورٹ کے پاس تو سوموٹو کے اختیارات بھی ہوتے ہیں۔
صنم جاوید کے وکیل نے بتایا کہ ہم نے ہائیکورٹ میں ریمانڈ کے ساتھ بریت کی درخواست بھی دائر کی تھی۔
جسٹس اشتیاق ابراہیم نے استفسار کیا کہ آہپ کو ایک سال بعد یاد آیا کہ ملزمہ نے جرم کیا ہے؟ جسٹس ہاشم کاکڑ نے کہا کہ شریک ملزم کے اعترافی بیان کی قانونی حیثیت کیا ہوتی ہے آپ کو بھی معلوم ہے۔ اس کیس میں جو کچھ ہے بس ہم کچھ نہ ہی بولیں تو ٹھیک ہے۔
لاہور؛ بین الاصوبائی گینگ کا سرغنہ مارا گیا
جسٹس ہاشم کاکڑ نے ریمارکس میں کہا کہ ہائی کورٹ کا جج اپنے فیصلے میں بہت آگے چلا گیا۔ لاہور ہائیکورٹ کے جج نے غصے میں فیصلہ دیا۔ بعد ازاں عدالت نے مقدمے کی سماعت غیر معینہ مدت تک کے لیے ملتوی کردی۔
Ansa Awais Content Writer.
ذریعہ
ذریعہ: City 42
کلیدی لفظ: لاہور لاہور لاہور جسٹس ہاشم کاکڑ نے صنم جاوید کورٹ کے کہا کہ
پڑھیں:
گل پلازہ انکوائری رپورٹ منظرِ عام پر نہ لانے کا فیصلہ، شفافیت اور تفتیشی عمل پر نئی بحث
گل پلازہ آتشزدگی کیس کی انکوائری رپورٹ منظرِ عام پر لانے کے لیے ایم کیو ایم پاکستان کی جانب سے دائر درخواست مسترد ہونے کے بعد عوام کے حقِ معلومات اور جاری فوجداری تحقیقات کے درمیان توازن ایک بار پھر بحث کا موضوع بن گیا ہے۔ سندھ انفارمیشن کمیشن نے قرار دیا ہے کہ چونکہ مقدمہ ابھی زیرِ تفتیش ہے، اس لیے اس مرحلے پر انکوائری رپورٹ جاری کرنا مناسب نہیں ہوگا۔
کمیشن نے اپنے فیصلے میں کہا کہ تحقیقات مکمل ہونے اور تفتیشی افسر کی جانب سے چالان عدالت میں پیش کیے جانے کے بعد متعلقہ دستاویزات عدالتی ریکارڈ کا حصہ بن جائیں گی، جس کے بعد ان تک رسائی قانونی طریقۂ کار کے مطابق ممکن ہوگی۔ کمیشن کے مطابق جاری تحقیقات کے دوران معلومات کی فراہمی سے تفتیشی عمل متاثر ہونے کا خدشہ موجود ہے، اس لیے ضروری ہے کہ تحقیقات بلا رکاوٹ اپنے منطقی انجام تک پہنچیں۔
ایم کیو ایم پاکستان نے اپنی درخواست میں مؤقف اختیار کیا تھا کہ گل پلازہ سانحہ عوامی مفاد، شہریوں کے حقِ زندگی اور سرکاری اداروں کی کارکردگی سے جڑا معاملہ ہے۔ پارٹی کے مطابق انکوائری رپورٹ منظرِ عام پر آنے سے ذمہ داریوں کے تعین، شفافیت اور احتساب کے عمل کو تقویت ملے گی، جبکہ مستقبل میں ایسے واقعات کی روک تھام کے لیے بھی رہنمائی حاصل ہو سکے گی۔
سماعت کے دوران یہ پہلو بھی سامنے آیا کہ کیس کی تفتیش کرنے والے افسران نے بتایا کہ انہیں انکوائری رپورٹ دستیاب نہیں تھی، جبکہ مختلف سرکاری اداروں نے مؤقف اختیار کیا کہ مطلوبہ ریکارڈ ان کے پاس موجود نہیں۔ اس صورتحال نے انکوائری، انتظامی کارروائی اور فوجداری تحقیقات کے باہمی تعلق پر بھی کئی سوالات کھڑے کر دیے ہیں۔
گل پلازہ کیس نے دراصل 2 اہم قانونی اصولوں کو ایک دوسرے کے مقابل لا کھڑا کیا ہے۔ ایک طرف عوام کا مطالبہ ہے کہ ایسے بڑے سانحات سے متعلق حقائق منظرِ عام پر آنے چاہییں تاکہ ذمہ داروں کا تعین ہو اور ادارہ جاتی خامیوں کی نشاندہی کی جا سکے۔ دوسری جانب ریاستی اداروں کا مؤقف ہے کہ اگر کسی مرحلے پر معلومات کی فراہمی سے تحقیقات یا عدالتی کارروائی متاثر ہونے کا خدشہ ہو تو تفتیش کو ترجیح دینا قانونی تقاضا ہے۔
حقِ معلومات سے متعلق قوانین کا مقصد سرکاری معاملات میں شفافیت کو فروغ دینا ہے، تاہم ان میں یہ گنجائش بھی رکھی گئی ہے کہ حساس نوعیت کے معاملات میں معلومات کی فراہمی اس وقت تک مؤخر رکھی جا سکتی ہے، جب تک تحقیقات اپنے منطقی انجام تک نہ پہنچ جائیں۔ یہی وجہ ہے کہ گل پلازہ کیس میں اصل سوال صرف رپورٹ کی اشاعت کا نہیں بلکہ اس مناسب وقت کا بھی ہے، جب ایسی معلومات عوامی دسترس میں لائی جانی چاہییں۔
یہ بھی پڑھیے سانحہ گل پلازا: جوڈیشل کمیشن نے انکوائری رپورٹ مکمل کرکے سندھ حکومت کے حوالے کردی
یہ مقدمہ شہری سلامتی کے وسیع تر تناظر میں بھی غیر معمولی اہمیت رکھتا ہے۔ گل پلازہ آتشزدگی نے عمارتوں کے حفاظتی انتظامات، فائر سیفٹی کے نظام، تعمیراتی ضوابط پر عمل درآمد اور متعلقہ اداروں کی نگرانی سے متعلق کئی سوالات کو جنم دیا تھا۔ ایسے میں انکوائری رپورٹ کو صرف ذمہ داریوں کے تعین کی دستاویز نہیں بلکہ مستقبل کی اصلاحات کے لیے ایک اہم حوالہ بھی تصور کیا جا رہا ہے۔
اب توجہ اس بات پر مرکوز ہے کہ جاری تحقیقات کب مکمل ہوتی ہیں اور عدالتی کارروائی کس مرحلے تک پہنچتی ہے۔ اگر تحقیقات اپنے منطقی انجام تک پہنچنے کے بعد انکوائری رپورٹ یا اس کے نتائج عوامی ریکارڈ کا حصہ بنتے ہیں تو اس سے نہ صرف اس مقدمے سے متعلق کئی سوالات کے جواب مل سکیں گے بلکہ یہ بھی واضح ہوگا کہ اس سانحے سے حاصل ہونے والے اسباق کو ادارہ جاتی اصلاحات میں کس حد تک ڈھالا جا سکا۔
یوں گل پلازہ کیس محض ایک انکوائری رپورٹ تک محدود نہیں رہا بلکہ پاکستان میں شفافیت، مؤثر تحقیقات اور ادارہ جاتی احتساب کے درمیان توازن کا ایک اہم امتحان بن چکا ہے۔
آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں