جب جب بھارت کو پاکستان میں سبکی کا سامنا کرنا پڑا؟
اشاعت کی تاریخ: 24th, April 2025 GMT
پاکستان اور بھارت کے درمیان کشیدگی کی ایک طویل تاریخ ہے، جس میں کئی مواقع ایسے آئے جب بھارت نے جارحیت کی راہ اپنائی، مگر ہر بار پاکستان نے نہ صرف بھرپور دفاع کیا بلکہ بھارت کو ایسی شکست دی جس نے اسے عالمی سطح پر شرمندگی سے دوچار کیا۔ چند ایسے تاریخی لمحات کا جائزہ لیتے ہیں جب جب بھارت کو پاکستان کے ہاتھوں سبکی اٹھانا پڑی۔
1965 کی جنگ: بھارتی آرمی چیف کا خواب، لاہور میں چائے؟بھارتی آرمی چیف جنرل جے این چودھری نے 1965 کی جنگ سے پہلے دعویٰ کیا تھا کہ ہم شام کی چائے لاہور میں پئیں گے۔ لیکن پاک فوج نے ان کے خواب کو چکنا چور کر دیا۔ صرف لاہور ہی نہیں، سیالکوٹ، چونڈہ اور دیگر محاذوں پر بھی بھارتی فوج کو پسپا ہونا پڑا۔
چونڈہ کا میدان دنیا کی سب سے بڑی ٹینکوں کی لڑائیوں میں شمار ہوتا ہے، جہاں پاکستانی جوانوں نے بھارتی ٹینکوں کا قبرستان بنادیا تھا۔
ایم ایم عالم: 5 بھارتی جہاز، ایک منٹ میں تباہ7 ستمبر 1965 کو اسکواڈرن لیڈر محمد محمود عالم نے تاریخ رقم کی۔ انہوں نے F-86 سیبر طیارے میں سوار ہو کر صرف 60 سیکنڈ میں بھارتی فضائیہ کے 5 ہنٹر طیارے مار گرائے اور بھارتی فضائیہ کی کمر توڑ دی تھی۔
یہ کارنامہ آج بھی عالمی فضائی جنگی ریکارڈز میں ایک مثال کے طور پر درج ہے۔
ایٹمی دھماکے: چاغی کا گونجتا ہوا جواب11 اور 13 مئی 1998 کو بھارت نے پوکھران میں ایٹمی دھماکے کیے۔ وزیر اعظم واجپائی نے انہیں بھارت کی تاریخی کامیابی کہا اور احساس برتری میں پڑوسیوں کو چوکنا رہنے کی ذومعنی بات بھی کی۔ لیکن 28 مئی کو وزیر اعظم نواز شریف نے بلوچستان کے مقام چاغی میں 5 دھماکوں کے ذریعے بھارت کو کرارا جواب دیکر جوہری برتری کا خواب خاک میں ملادیا۔
وزیراعظم نواز شریف نے 28 مئی 1998 کو کہا تھا کہ ’ہم نے ایٹمی دھماکے نہیں کیے، ہم نے قوم کی غیرت کو زندہ کیا ہے‘۔ یہ دن یومِ تکبیر کے نام سے یادگار بن گیا، اور جنوبی ایشیا میں طاقت کا توازن بحال ہو گیا۔
کلبھوشن یادیو: بھارت کا جاسوس رنگے ہاتھوں پکڑا گیا2016 میں بلوچستان سے بھارتی نیوی کے حاضر سروس افسر کلبھوشن یادیو کو گرفتار کیا گیا، جو پاکستان میں دہشتگردی اور تخریب کاری کے نیٹ ورک کا حصہ تھا۔
اس نے خود ویڈیو بیان میں اعتراف کیا کہ میں بھارتی نیوی کا افسر ہوں اور را کے لیے کام کرتا ہوں۔ اس اعترافی بیان اور ثبوتوں کے بعد بھارت کو دنیا کے سامنے صفائیاں دینا پڑیں، اور پاکستان نے ایک بار پھر سفارتی میدان میں بازی مارلی۔
یہ گرفتاری بھارت کے لیے زبردست سفارتی شرمندگی کا باعث بنی اور پاکستان کے مؤقف کو دنیا بھر میں تقویت ملی۔
ابھینندن کا انجام: ’ٹی از فنٹاسٹک‘فروری 2019 میں بھارت نے لائن آف کنٹرول عبور کر کے بالاکوٹ پر سرجیکل اسٹرائیک کا دعویٰ کیا۔ پاکستان نے اگلے ہی دن بھرپور جوابی کارروائی کی اور 2 بھارتی طیارے مار گرائے۔ بھارتی ونگ کمانڈر ابھینندن ورتھامن گرفتار ہوا اور جب ویڈیو میں اسے چائے پیش کی گئی تو اس نے کہا تھا ’ٹی از فنٹاسٹک‘۔
پاکستان نے بعد ازاں اسے امن کے پیغام کے طور پر رہا کردیا تھا، جس پر عالمی سطح پر پاکستان کو سراہا گیا جبکہ بھارت کو آج تک سبکی اور شرمندگی کا سامنا کرنا پڑ رہا ہے۔ اس واقعے نے بھارت کے تمام بیانیے کی قلعی بھی کھول دی اور پاکستان نے اس پائلٹ کو رہا کر کے دنیا بھر میں سفارتی اخلاقیات کی مثال قائم کی۔
’اے وطن تو نے پکارا تو لہو کھول اُٹھا‘بھارت جب جب پاکستان پر برتری کا خواب لے کر آیا، اسے منہ کی کھانا پڑی۔ پاکستان نے نہ صرف عسکری بلکہ سفارتی اور دفاعی میدان میں بھی ہر موقع پر اپنی برتری منوائی۔
آج بھی دنیا تسلیم کرتی ہے کہ پاکستان ایک مضبوط، خوددار اور پرعزم قوم ہے، جو اپنے دفاع کے لیے ہر قربانی دینے کو تیار ہے۔
آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں
ابھینندن ورتھامن ایٹمی دھماکے ایم ایم عالم بھارت جنرل جے این چودھری چاغی کلبھوشن یادیو لاہور میں چائے.
ذریعہ
ذریعہ: WE News
کلیدی لفظ: ابھینندن ورتھامن ایم ایم عالم بھارت جنرل جے این چودھری چاغی کلبھوشن یادیو لاہور میں چائے پاکستان نے بھارت کو کے لیے
پڑھیں:
ایک ’’غدارِ وطن‘‘ کی سوانح عمری
مجھے خوب یاد ہے کہ راقم نے سب سے پہلے اُن کی تحریر امریکا کے مشہور جریدے ’’نیویارکر‘‘ میں پڑھی تھی۔اِس تحریر کی معرفت میرا اُن سے پہلا تعارف ہُوا۔ یوں میں اُن کی تحریروں کا گرویدہ ہوتا چلا گیا ۔ وہ ہمیشہ مفصل لکھتی ہیں اور اپنا نکتہ نظر کھل کر اور بے دھڑک بیان کرتی ہیں ۔ اُنھی ایام میں گجرات میں ہندو دہشت گردوں اور بدمعاشوں نے دل کھول کر مسلمانوں کے خون کی ہولی کھیلی تھی ۔
اِسی خونریزی میں مشہور گجراتی مسلمان سیاستدان و رکن پارلیمنٹ (احسان جعفری) کا خون بھی کر دیا گیا تھا۔اِسی نسل کشی اور مسلمانوں کی بے دریغ خونریزی پر مذکورہ مصنفہ نے ایسا انکشاف خیز آرٹیکل لکھا تھا کہ بھارتی حکومت اور گجرات کی ریاستی سرکار( جس کے وزیر اعلیٰ نریندر مودی تھے) تھرّا اُٹھے تھے۔ راقم اُن دنوں امریکا میں مقیم تھا اور وہاں سے بھارتی جرائد و اخبارات حاصل کرنا سہل تھا ۔ نیویارک کے معروف علاقے ’’ جیکسن ہائٹس‘‘ میں ایک ہندو کی خاصی بڑی دکان تھی ۔ وہیں سے مَیں بھارتی جریدے خریدا کرتا تھا ۔ مثال کے طور پر: انڈیا ٹوڈے،آؤٹ لک ، فرنٹ لائن وغیرہ ۔اِن تینوں جرائد میں میری پسندیدہ لکھاری کی تحریریں باقاعدہ اور بکثرت شائع ہوتی تھیں ۔
میری اِس محبوب لکھاری کی تحریروں نے مجھے اتنا مسمرائز کررکھا تھا کہ اُن کا عالمی شہرت یافتہ پہلا ناول The God of Small Thingsسامنے آیا تو پہلی ہی فرصت میں نیویارک کی سب سے بڑی کتابوں کی دکان Barnes and Nobleسے خریدا اور ٹرین میں آتے جاتے اِسے پڑھا ۔ ’’دی گاڈ آف اسمال تھنگز‘‘ ناول کی کہانی بھارتی صوبے ، کیرالہ، سے شروع ہوتی ہے ۔
اِس کہانی میں کیرالہ کے ایک قصبے میں رہائش پذیر ایک غریب خاندان کی دل شکستہ داستان بیان کی گئی ہے ۔ ناول میں کیرالہ کے ذات پات کے بندھنوں میں جکڑے خاندانوں اور اُن کی المناک کہانیوں کو الفاظ کی شکل میں فلم بنا کر دکھایا گیا ہے۔یہ ناول اشکبار اور افسردہ کر دینے والا ہے ۔ ناولسٹ کو اِس کی بے پناہ مقبولیت کی بِنا پر معروفِ عالم ادبی انعام ’’ بکر پرائز‘‘ سے بھی نوازا گیا ۔ یوں ناول نگار کو عالمی شہرت بھی مل گئی ۔
میری اِس محبوب بھارتی رائٹر کا نام ارُن دھتی رائے ہے ۔ اُن کی کئی عالمی شہرت یافتہ تحریروں کو اُردو میں ترجمہ کرکے کراچی کے سہ ماہی جریدے ’’آج‘‘ کے ذہین و فطین مدیر،اجمل کمال، شائع کر چکے ہیں ۔ واقعہ یہ ہے کہ اجمل کمال صاحب اپنے نام کی مانند باکمال مترجم بھی ہیں ۔ ارُن دھتی رائے کی شخصیت اور تحریریں خاصی سرکش ، مزاحمتی اور ریاست مخالف ہوتی ہیں۔
ہر بھارتی حکومت اِسی لیے انھیں ناپسندیدہ قرار دیتی ہے ۔ دائیں بازو سے تعلق رکھنے والے کئی معروف بھارتی سیاستدان ( از قسم بی جے پی) متعدد بار ارُن دھتی رائے کو ’’غدارِ وطن‘‘ قرار دے چکے ہیں ۔ لیکن یہ درویش صفت خاتون دانشور اور مصنفہ ہر قسم کی سرکاری و غیر سرکاری مخالفتوں کے باوصف اپنے طے شدہ موقف سے ہٹتی ہیں نہ کوئی مخالف انھیں ہٹا سکا ہے ۔ ارُن دھتی رائے کی تحریروں میں جس طرح مظلوم بھارتی مسلمانوں اور زیر استبداد مقبوضہ کشمیریوں کی غیر مبہم حمائت کی جاتی ہے، اِن کی بنیاد پر اُن کے خلاف غداری کے کئی مقدمات بھی دائر ہو چکے ہیں ۔ مگر یہ سرکش مصنفہ کسی کے غچے اور غرّے میں آنے والی نہیں ہیں ۔
بھارتی مسلمانوں اور مظلوم کشمیریوں کے حقوق کی پاسداری کا اِس محترم و عظیم خاتون نے جس عزیمت سے پرچم اُٹھا رکھا ہے، ہم پاکستانیوں کو شائد اِس لیے بھی ارُن دھتی رائے پسند ہیں ۔ بھارت میں خبثِ باطن کے حامل کئی افراد نے انھیں ’’پاکستان کی ایجنٹ‘‘ بھی قرار دے رکھا ہے ۔ حیرت ہے کہ ماضی قریب میں پاکستان کی بھی ایک ’’ارُن دھتی رائے‘‘ ہُوا کرتی تھیں : وہ باقاعدہ لکھاری تو نہیں تھیں مگر ایک معروف وکیل اور انسانی حقوق کی محافظ ہونے کے ناتے وہ ہر مستبد پاکستانی حکمران کی سخت ناقد رہا کرتی تھیں ۔ اُن کے ہر بیان اور اقدام کی اساس پر اُن کے نظریاتی و سیاسی و سماجی مخالفین انھیں ’’بھارت کی ایجنٹ‘‘ کے لقب سے یاد بھی کرتے تھے ۔
اگست2002کے سلگتے ایام میں ارُن دھتی رائے پاکستان تشریف لائیں تو ہم نے انھیں حیرت انگیز نظروں سے لاہور کے ایک پنج ستارہ ہوٹل میں خطاب کرتے دیکھا اور سُنا ۔ اُن کی سادہ شخصیت اور نہایت سادہ لباس اور بھی دَم بخود کر دینے والا تھا ۔ ایک نئی نئی سیاسی جماعت بنانے والے پاکستانی سیاستدان ( جو اَب مرحوم ہو چکے ہیں) اور ایک معروف صحافی (جو اَب مشہور ٹی وی اینکر ہیں) کی دعوتِ خاص پر ارُن دھتی رائے پاکستان آئی تھیں ۔ اور اب اِنہی ارُن دھتی رائے کی نئی کتابMother Mary Comes to Me شائع ہو کر سامنے آئی ہے تو ہم نے اِسے شوق، تجسس اور مسرت سے دیکھا اور پڑھا ہے ۔
اس کتاب میں مصنفہ کی سچائی ، سچ سے محبت، سماجی روایات سے بغاوت اور سرکشی اپنے عروج پر ہے ۔ جس نے بھی اِس کتاب کو پڑھا ہے،سناٹے میں آ گیا ہے کہ آیا کوئی مصنفہ بیٹی ہونے کے ناتے اپنے خاندان اور خاص طور پر اپنی والدہ بارے اتنے کڑوے سچ بھی بول اور لکھ سکتی ہے؟
یہ تازہ کتاب(Mother Mary Comes to Me) ارُن دھتی رائے نے دراصل اپنی آنجہانی والدہ (Mary) بارے لکھی ہے ۔ یہ درحقیقت والدہ بارے تلخ یادداشتیں اور سوانح ہیں ، مگر بین السطور یہ ارُن دھتی رائے کی سوانح حیات بھی ہے ۔ مصنفہ کے سیاسی و سماجی بھارتی ناقدین(خصوصی طور پر دائیں بازو کے بھارتی سیاستدان)کا کہنا ہے کہ ’’جو رائٹراپنی والدہ بارے یہ سخت الفاظ لکھ سکتی ہے ، اُس کے لیے غداری کا لفظ بھی کم ہے ۔‘‘زیر نظر کتاب میں مصنفہ نے اپنی والدہ کے ساتھ پیچیدہ ، ،مشکل اور جذباتی تعلقات کی داستان بیان کی ہے۔ ارُن دھتی رائے کے بچپن اور والدہ سے تعلقات کی یادداشتوں اور مضبوط حافظے کی داد دینا پڑتی ہے ۔ اُن کی والدہ ایک سخت گیر اور ڈسپلن کی پابند ماہر تعلیم تھیں ۔
اُنھوں نے کیرالہ میں جدید اسکول کی بنیاد رکھی جو بعد ازاں بڑی شہرت کا حامل بنا ۔ Maryاِس اسکول کی ہیڈ مسٹرس بھی رہیں ۔ وہ ایک آزاد روش کی حامل ، باغی اور انقلابی ذہن کی حامل استاد اور سوشل ایکٹوسٹ بھی تھیں ۔ اُنھوں نے بھارتی سپریم کورٹ میں شامی مسیحی بچیوں کا مقدمہ بہادری سے جیتا اور تاریخ رقم کر گئیں ۔ سماج سے بغاوت اور آزادی سے جینے اور لکھنے کی خواہش کے عناصر ارُن دھتی رائے کو اپنی والدہ سے وراثت میں ملے ۔ حکومت ، سیاست اور سماج مخالف آزادانہ تحریروں کے باعث انھیں ’’اینٹی انڈیا‘‘ بھی کہا گیا ۔ بھارت سرکار کی جانب سے ایک بڑا ڈیم ( نرمدا ویلی ڈیم پراجیکٹ) بنانے کے چکر میں لاکھوں کی مقامی آبادی کو جس وحشت سے اکھیڑا گیا، اُرن دھتی رائے نے بھارت بھر میں اِن غریبوں کا مقدمہ لڑا اور بالآخر اُن کے حقوق دلوا ہی دیئے ۔
ارُن دھتی رائے نے جرأتمندی سے طاقتوروں سے سوال پوچھنے اور اُن کے سامنے ڈَٹ جانے کا سلیقہ اپنی والدہ سے سیکھا ۔ شائد اِسی بِنا پر مصنفہ نے اپنی اِس کتاب میں اپنی والدہ کو اپنی Gangster، Shelterاور My Stormبھی قرار دیا ہے ۔ اگر زیر نظر کتاب کے خلاصے کو دو چار الفاظ میں کوزے میں بند کیا جائے تو کہا جائے گا کہ ارُن دھتی رائے کے قلم سے یہUncompromising Memoirsکی بازگشت ہے ۔ اُنھوں نے اپنی ڈسپلن پسند والدہ بارے لکھا ہے کہ وہ اپنے دونوں بچوں سے سفاکی کی حد تک منظم زندگی ، مگر آزادانہ زندگی گزارنے کی طلبگار تھیں ۔
وہ لکھتی ہیں :’’ اور جب میری تحریروں کے باعث مجھے بھارت اور بھارت سے باہر شہرت ملنے لگی تو میری والدہ مجھ سے حسد کرنے لگی تھیں َ‘‘۔ارُن دھتی رائے بھارت اور دُنیا بھر میں اقلیتوں کے حقوق کی جس طرح علمبردار ہیں، اِسی طرح وہ دُنیا کے کسی بھی ملک کو جوہری ہتھیار رکھنے کی حامی نہیں ہیں ۔اُن کے یہ الفاظ اُن کی آزاد منش طبیعت اور باغیانہ روش کے مظہر کہے جاتے ہیں:’’ مجھے کہنے ، لکھنے اور بولنے کی مطلق آزادی چاہیے ۔ اِس کے لیے مجھے کسی خاص ملک کے قومی پرچم کی چھاؤں کی ضرورت نہیں ہے ۔ کسی بھی ملک کا قومی پرچم دراصل کپڑے کو وہ ٹکڑا ہے جو انسانوں کے دماغوں کو محدود بھی کرتا ہے اور اِنہیں سکیڑ کر رکھ دیتا ہے ۔‘‘