پنجاب میں شدید گرمی کی لہر؛ درجہ حرارت 45 ڈگری تک جانے کا امکان
اشاعت کی تاریخ: 24th, April 2025 GMT
لاہور:
پنجاب میں شدید گرمی کی لہر جاری ہے جب کہ درجہ حرارت 45 ڈگری تک جانے کا امکان ہے۔
محکمہ موسمیات کے مطابق صوبائی دارالحکومت لاہور سمیت پنجاب بھر شدید گرمی کے نرغے میں ہے اور خشک موسم کے باعث گرمی کی شدت میں بتدریج اضافہ ہورہا ہے۔
گرمی کی شدت بڑھنے سے گھروں دفاتر میں اے سیز کا استعمال بڑھ گیا ہے ۔ لاہور میں کم سے کم درجہ حرارت 23ڈگری ریکارڈ کیا گیا جب کہ زیادہ سے زیادہ 40 ڈگری تک جانے کے امکانات ہیں۔
ماہرین کا کہنا ہے کہ آئندہ دو تین روز تک بارش کا امکان نہیں ، موسم خشک رہے گا اور گرمی مزید بڑھے گی۔
دوسری جانب ترجمان پی ڈی ایم اے کے مطابق پنجاب میں آج بھی ہیٹ ویو اور گرمی کی لہر برقرار رہے گی۔ اپریل کے اختتام تک درجہ حرارت 45 ڈگری تک جانے کا خدشہ ہے۔
انہوں نے کہا کہ جنوبی پنجاب کے اضلاع بہاولپور ،رحیم یار خان ،ڈیرہ غازی خان اور ملتان میں ہیٹ ویو کی لہر شدید ہو سکتی ہے ۔گزشتہ روز بہاولنگر 44ڈگری رحیم یار خان بھکر 42 جبکہ کوٹ ادو اور میں 41 ڈگری درجہ حرارت ریکارڈ کیا گیا ۔
ترجمان کے مطابق لاہور سمیت میدانی علاقوں میں تقریباً 40 ڈگری تک درجہ حرارت ریکارڈ کیا گیا ہے۔ ٹوبہ ٹیک سنگھ، سرگودھا، ساہیوال، اوکاڑہ، ملتان، منڈی بہا الدین، خانیوال، قصور، لیہ،جھنگ، حافظ آباد اور فیصل آباد میں 40 ڈگری تک درجہ حرارت ریکارڈ کیا گیا ۔
انہوں نے کہا کہ وزیر اعلیٰ پنجاب کی ہدایات کے پیش نظر متعلقہ ادارے الرٹ ہیں۔ چولستان کے اضلاع میں صاف پانی کی فراہمی کو یقینی بنایا جا رہا ہے ۔ تمام اسپتالوں میں ہیٹ ویو کاؤنٹرز قائم ہیں ۔
پی ڈی ایم اے پنجاب نے ہیٹ اسٹروک سے بچاؤ کے لیے متعلقہ ادویات کی فراہمی یقینی بنانے کی ہدایت کی ہے اور میڈیا کے ذریعے شہریوں کو ہیٹ ویو کے خطرات سے آگاہ کیا جا رہا ہے۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Express News
کلیدی لفظ: ریکارڈ کیا گیا ڈگری تک جانے گرمی کی ہیٹ ویو کی لہر
پڑھیں:
مستونگ میں سیشن جج عبدالحکیم کاکڑ فائرنگ میں شہید، گن مین بھی جاں بحق
بلوچستان کے ضلع مستونگ میں قومی شاہراہ پر نامعلوم مسلح افراد کی فائرنگ کے نتیجے میں سیشن جج عبدالحکیم کاکڑ اور ان کے گن مین شہید ہوگئے، جبکہ ایڈیشنل سیشن جج طارق لاشاری سمیت دو افراد شدید زخمی ہو گئے۔ واقعے کے بعد قانون نافذ کرنے والے اداروں نے علاقے کو گھیرے میں لے کر حملہ آوروں کی تلاش اور تحقیقات کا آغاز کر دیا ہے۔
ڈپٹی کمشنر مستونگ بہرام سلیم کے مطابق سیشن جج عبدالحکیم کاکڑ کوئٹہ سے مستونگ جا رہے تھے کہ قومی شاہراہ پر نامعلوم مسلح افراد نے ان کی گاڑی پر اندھا دھند فائرنگ کر دی۔ حملے کے نتیجے میں سیشن جج اور ان کے گن مین موقع پر ہی شہید ہوگئے، جبکہ گاڑی میں سوار ایڈیشنل سیشن جج طارق لاشاری سمیت دو افراد شدید زخمی ہوئے۔
واقعے کے فوری بعد شہداء اور زخمیوں کو قریبی اسپتال منتقل کیا گیا، جہاں زخمیوں کو طبی امداد فراہم کی جا رہی ہے۔ سکیورٹی فورسز نے جائے وقوعہ کو گھیرے میں لے کر شواہد اکٹھے کیے اور حملہ آوروں کی گرفتاری کے لیے سرچ آپریشن شروع کر دیا ہے۔
دوسری جانب بلوچستان بار کونسل نے حملے کو نظامِ انصاف پر دہشت گردانہ حملہ قرار دیتے ہوئے شدید مذمت کی ہے۔ بار کونسل نے واقعے کے خلاف صوبہ بھر میں دو روزہ عدالتی ہڑتال اور تین روزہ سوگ کا اعلان کیا ہے۔ اعلامیے میں ججز، وکلا اور شہریوں کی سکیورٹی یقینی بنانے، حملے میں ملوث عناصر کی فوری گرفتاری اور انہیں قانون کے مطابق سزا دینے کا مطالبہ بھی کیا گیا۔
وزیراعلیٰ بلوچستان میر سرفراز بگٹی اور صوبائی وزیر داخلہ میر ضیاء اللہ لانگو نے بھی واقعے کی سخت الفاظ میں مذمت کرتے ہوئے شہداء کے اہل خانہ سے اظہار تعزیت کیا۔ انہوں نے متعلقہ اداروں کو حملہ آوروں کی فوری گرفتاری اور واقعے کی جامع تحقیقات کی ہدایت دیتے ہوئے کہا کہ ذمہ دار عناصر کو قانون کی گرفت سے نہیں بچنے دیا جائے گا۔