وفاقی وزیر عمران شاہ کابی آئی ایس پی ہیڈ کوارٹرز کا دورہ،مستحق افراد کی بروقت مالی امداد پر زور
اشاعت کی تاریخ: 24th, April 2025 GMT
اسلام آباد: وفاقی وزیر برائے تخفیف غربت و سماجی تحفظ سید عمران احمد شاہ نے بینظیر انکم سپورٹ پروگرام ہیڈ کوارٹرز کا دورہ کیا جہاں ان کا استقبال چیئرپرسن سینیٹر روبینہ خالد اور سیکرٹری بی آئی ایس پی عامر علی احمد نے کیا۔
چیئرپرسن بی آئی ایس پی سینیٹر روبینہ خالد نے پاکستان میں خواتین کو سماجی و اقتصادی طور پر بااختیار بنانے میں بی آئی ایس پی کے کردار پر روشنی ڈالی ۔ انہوں نے کہا کہ یہ پروگرام شہید محترمہ بینظیر بھٹو کا وژن ہے جنہوں نے دبئی میں جلاوطنی کے دوران اس پروگرام کی بنیاد رکھی۔
بعد ازاں صدر آصف علی زرداری نے 2008 میں پروگرام کو عملی جامہ پہنایا۔ پروگرام میں شمولیت کیلئے قومی شناختی کارڈ کو لازمی قرار دیا گیا اور اسطرح پاکستان کی تقریبا ًایک کروڑ غریب خواتین کو قومی شناخت ملی۔ یہ اقدام پاکستان کی ترقی اور بالخصوص خواتین کی معاشی خودمختاری کی جانب ایک اہم سنگ میل ہے۔ بی آئی ایس پی کی چیئرپرسن نے پاورٹی گریجویشن اور سکل ٹریننگ کے اقدامات جیسے کہ بینظیر ہنرمند پروگرام کے ذریعے مستحقین کی زندگیوں میں بہتری لانے کیلئے بی آئی ایس پی کے عزم کا اظہار کیا جس کا مقصد مستحق خواتین اور انکے گھرانوں کے افراد کو عالمی تقاضوں کے مطابق تکنیکی مہارتوں سے آراستہ کرنا ہے ۔ مزید برآں، انہوں نے وفاقی وزیر کو آگاہ کیا کہ بل اینڈ میلنڈا گیٹس فاؤنڈیشن اور اسٹیک بینک آف پاکستان کے تعاون سے مستحق خواتین کے بینک اکاؤنٹس کھولنے کیلئے پائلٹ مرحلے کا آغاز کیا جارہا ہے۔ ملاقات کے دوران وفاقی وزیر برائے تخفیف غربت و سماجی تحفظ سید عمران احمد شاہ نے سکل ٹریننگ کی اہمیت پر زور دیا ۔
انہوں نے ہنر مند افراد کو بیرون ملک بھیجنے کے حوالے سے جرمنی جیسے ممالک کے ساتھ اشتراک کی تجویز پیش کی۔ انہوں نے سروے کے تحت رجسٹرڈ مستحق افراد کو بروقت مالی امداد فراہم کرنے پر زور دیا۔ انہوں نے کہا کہ صوبائی پولیس کے محکموں کے ساتھ مشترکہ کوششوں سے نظام میں شفافیت اور احتساب کو یقینی بنانے کے لیے فیلڈ وزٹ کرنا ضروری ہے۔وفاقی وزیر سید عمران احمد شاہ نے ملک میں تخفیف غربت کے حوالے سے بی آئی ایس پی کے کردار کی تعریف کی اور مستحقین میں پروگرام سے متعلق آگاہی بڑھانے کی ضرورت پر زور دیا۔ انہوں نے پسماندہ طبقات بالخصوص خواتین کی فلاح و بہبود کے لیے بینظیر انکم سپورٹ پروگرام کے مشن کے لیے اپنی مکمل حمایت اور تعاون کا یقین دلایا۔سیکرٹری بی آئی ایس پی عامر علی احمد نے وفاقی وزیر کو بی آئ ایس پی کے تحت خواتین کی مالی معاونت اور سماجی تحفظ کے متعدد اہم اقدامات سے آگاہ کیا جن میں نئے ادائیگی کے ماڈل، ہائبرڈ سوشل پروٹیکشن سکیم، موبائل رجسٹریشن وینز (MRVs) اور نوعمر لڑکیوں کے لیے غذائیت کا پروگرام شامل ہیں۔ انہوں نے ملک میں ہنگامی حالات اور قدرتی آفات کے دوران متاثرہ افراد کی مدد کیلئے بینظیر انکم سپورٹ پروگرام کے اہم کردار کو بھی اجاگر کیا۔قبل ازیں ایڈیشنل سیکرٹری بی آئی ایس پی ڈاکٹر طاہر نور نے بی آئی ایس پی کے بنیادی پروگراموں کا ایک جامع جائزہ پیش کیا جن میں بینظیر کفالت، بینظیر تعلیمی وظائف، بینظیر نشوونمااور قومی سماجی و اقتصادی رجسٹری (NSER) شامل ہیں۔
ذریعہ
ذریعہ: Daily Mumtaz
کلیدی لفظ: بی ا ئی ایس پی کے وفاقی وزیر انہوں نے کے لیے
پڑھیں:
ضم اضلاع کیلئے ٹیکس استثنیٰ بحال کریں: گورنر خیبر پی کے کا وزیراعظم کو خط
پشاور (بیورو رپورٹ) گورنر خیبرپی کے فیصل کریم کنڈی نے وزیراعظم پاکستان سے ضم قبائلی اضلاع کیلئے وفاقی ٹیکس استثنیٰ بحالی کی درخواست کردی۔ وزیراعظم کو بھیجے گئے خط میں گورنر نے مطالبہ کیا کہ ضم شدہ اضلاع اور پاٹا کے لیے وفاقی ٹیکس استثنیٰ میں توسیع کرتے ہوئے انضمام کے وقت قبائلی عوام سے کیے گئے وعدوں کی پاسداری کی جائے۔ ضم قبائلی اضلاع اور پاٹا میں انکم ٹیکس، سیلز ٹیکس اور دیگر وفاقی محصولات کے نفاذ پر نظرثانی کی جائے۔ وفاقی ٹیکسوں کے خاتمے کے بغیر قبائلی عوام کو مکمل ٹیکس ریلیف فراہم نہیں کیا جا سکتا۔ صوبائی حکومت پہلے ہی ضم شدہ اضلاع اور پاٹا پر عائد تمام صوبائی ٹیکس ختم کر چکی ہے، تاہم وفاقی ٹیکس برقرار رہنے سے عوام کو مکمل ریلیف نہیں مل رہا۔ دریں اثناء گورنر فیصل کریم کنڈی سے پاکستان کونسل آف سائنٹیفک اینڈ انڈسٹریل ریسرچ (پی سی ایس آئی آر) پشاور کے ڈائریکٹر جنرل انجینئر سہیل امیر مروت نے گورنر ہاؤس پشاور میں ملاقات کی۔ ادارے کی تحقیق و ترقی (ریسرچ اینڈ ڈویلپمنٹ)، جاری پی ایس ڈی پی منصوبوں، ادارے کی تحقیقی صلاحیتوں اور استعداد سے متعلق تفصیلی بریفنگ دی۔