بھارت کے دو بار کے اولمپک میڈلسٹ نیرج چوپڑا نے پاکستانی جیولن تھرو کے اولمپک چیمپیئن ارشد ندیم کو بنگلورو میں ہونے والے ’نیرج چوپڑا کلاسک‘ میں شرکت کی دعوت دینے پر اٹھنے والے تنازع پر وضاحتی بیان جاری کیا ہے۔ انہوں نے واضح کیا ہے کہ یہ دعوت پہلگام میں ہونے والے دہشتگرد حملے سے 2 روز قبل دی گئی تھی اور اس کا مقصد کھیل کے فروغ کے سوا کچھ نہیں تھا۔

نیرج نے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ایکس پر جاری بیان میں کہا ہے کہ میں عموماً کم بولنے والا انسان ہوں، لیکن اس کا مطلب یہ نہیں کہ اگر کچھ غلط ہو تو خاموش رہوں۔ میرے ملک سے محبت اور اپنے خاندان کی عزت پر سوال اٹھانا ناقابل برداشت ہے۔

انہوں نے بتایا کہ ارشد ندیم کو دعوت صرف ایک ایتھلیٹ کی طرف سے دوسرے ایتھلیٹ کے لیے تھی، جس کا مقصد عالمی معیار کے مقابلے بھارت میں منعقد کروانا تھا۔ پہلگام واقعے سے 2 دن قبل تمام ایتھلیٹس کو دعوت نامے بھیجے گئے تھے۔ اس کے باوجود مجھ پر اور میرے خاندان پر تنقید اور نفرت کا جو طوفان آیا ہے، وہ افسوسناک ہے۔

مزید پڑھیں: پہلگام حملہ: لواحقین مودی سرکار پر برس پڑے، سانحہ فالس فلیگ آپریشن قرار

اب ارشد ندیم کی شرکت ممکن نہیں، نیرج چوپڑا

نیرج چوپڑا نے اس بات پر زور دیا کہ پہلگام واقعے کے بعد حالات یکسر تبدیل ہو گئے ہیں، اور اب ارشد ندیم کی شرکت ممکن نہیں۔ میرے ملک اور اس کے مفادات ہمیشہ سب سے پہلے ہیں۔ میں ان تمام متاثرین کے لیے دعا گو ہوں جنہوں نے اپنے پیاروں کو کھویا۔ پورا ملک دکھی اور غصے میں ہے، اور مجھے یقین ہے کہ ہمارا ردعمل ہماری قومی طاقت کی عکاسی کرے گا۔

نیرج نے کہا کہ وہ کئی برس سے ملک کی نمائندگی فخر سے کر رہے ہیں، اب ان کے کردار پر سوال اٹھانا تکلیف دہ ہے۔ کچھ میڈیا حلقے غلط بیانی کر رہے ہیں اور ان کی والدہ کے گزشتہ بیانات کو تنقید کا نشانہ بنایا جا رہا ہے۔ ہم سادہ لوگ ہیں، ہمیں کسی اور زاویے سے نہ دیکھا جائے۔ جھوٹے بیانیے بنانے سے سچ نہیں بدل جاتا۔ میں اور بھی محنت کروں گا تاکہ دنیا بھارت کو فخر، عزت اور حسرت سے دیکھے۔

ارشد ندیم کی بھارت میں ہونے والے جیولن تھرو مقابلے میں شرکت سے معذرت

واضح رہے کہ پاکستان کے اولمپین جیولن تھرور ارشد ندیم نے بھارت میں ہونے والی کلاسک جیولن تھرو مقابلے میں شرکت سے معذرت کرلی تھی۔ چنف دن قبل لاہور میں میڈیا سے گفتگو میں ارشد ندیم نے کہا کہ 20 مئی کو بھارت میں ایونٹ ہے جبکہ 22 مئی کو ایشین چیمپیئن شپ کے لیے روانگی شیڈول ہے، اس لیے بنگلورو کلاسک جیولین تھرو میں جانا ممکن نہیں۔ نیرج چوپڑا نے یاد رکھا اور مجھے شرکت کی دعوت دی، اس پر شکریہ ادا کرتا ہوں۔

آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں

’نیرج چوپڑا کلاسک‘ ارشد ندیم اولمپک چیمپیئن ارشد ندیم ایشین چیمپیئن شپ پاکستان نیرج چوپڑا.

ذریعہ

ذریعہ: WE News

کلیدی لفظ: ایشین چیمپیئن شپ پاکستان نیرج چوپڑا نیرج چوپڑا بھارت میں میں ہونے کے لیے

پڑھیں:

سعودی عرب ابراہام معاہدوں میں شامل ہوا تو یہ تاریخی پیش رفت ہوگی؛ اسرائیلی وزیراعظم

امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے سعودی عرب کے ساتھ جوہری معاہدے کے لیے اسرائیل سے تعلقات کی بحالی سے مشروط کردیا۔

عالمی خبر رساں ادارے کے مطابق اسرائیلی وزیراعظم بنیامین نیتن یاہو نے کہا ہے کہ اگر سعودی عرب ابراہام معاہدوں  میں شامل ہو جاتا ہے تو یہ مشرقِ وسطیٰ میں امن کے لیے ایک ’’تاریخی جست‘‘ ثابت ہوگی۔

نیتن یاہو نے اپنے بیان میں مزید کہا کہ سعودی عرب کی ابراہام معاہدوں میں شمولیت نہ صرف اسرائیل اور عرب دنیا کے تعلقات میں ایک نئے باب کا آغاز کرے گی بلکہ پورے خطے میں استحکام اور تعاون کے امکانات بھی بڑھ جائیں گے۔

خیال رہے کہ اسرائیلی وزیراعظم کا یہ بیان امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی جانب سے سعودی عرب کے سول جوہری پروگرام کو اسرائیل سے تعلقات معمول پر لانے سے مشروط کرنے کے بعد سامنے آیا ہے۔

کچھ دیر قبل ہی امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے اپنے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ٹروتھ سوشل پر کہا تھا کہ امریکا اور سعودی عرب کے درمیان مجوزہ سول جوہری معاہدے کی منظوری اس وقت تک نہیں دی جائے گی جب تک سعودیہ ابراہام معاہدوں میں شامل نہیں ہوجاتا۔

صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے اپنی پوسٹ میں یہ بھی واضح کیا تھا کہ مجوزہ معاہدہ صرف پُرامن اور غیر فوجی مقاصد کے لیے ہوگا اور اس کے تحت سعودی عرب کو یورینیم افزودگی کی اجازت نہیں دی جائے گی۔

یاد ہے کہ ایک روز قبل جب جوہری معاہدے کی ابتدائی منظوری کا اعلان کیا گیا تھا تو صدر ٹرمپ نے اسے سعودی عرب کے اسرائیل سے تعلقات معمول پر لانے کی شرط سے نہیں جوڑا تھا تاہم بعد میں انھوں نے واضح کیا کہ دونوں معاملات ایک دوسرے سے منسلک ہیں۔

ادھر سعودی حکومت نے تاحال صدر ٹرمپ کے تازہ بیان پر کوئی باضابطہ ردعمل نہیں دیا تاہم ریاض متعدد مواقع پر واضح کرچکا ہے کہ وہ اس وقت تک اسرائیل کو تسلیم نہیں کرے گا جب تک فلسطینی ریاست کے قیام کے لیے قابلِ عمل اور واضح راستہ موجود نہ ہو۔

سعودی عرب کا مؤقف رہا ہے کہ 1967 کی سرحدوں کی بنیاد پر آزاد فلسطینی ریاست کا قیام، مشرقی یروشلم کو اس کا دارالحکومت بنانا اور فلسطینی عوام کے جائز حقوق کا تحفظ اسرائیل سے تعلقات کی بحالی کے لیے بنیادی شرائط ہیں۔

ابراہام معاہدے کیا ہیں؟

ابراہام معاہدے 2020 میں امریکی ثالثی کے تحت طے پائے تھے جن کے نتیجے میں متحدہ عرب امارات، بحرین، سوڈان اور مراکش نے اسرائیل کے ساتھ سفارتی تعلقات قائم کیے۔ بعد ازاں قازقستان نے بھی معاہدے کی حمایت کا اعلان کیا تاہم سعودی عرب اب تک اس کا حصہ نہیں بنا۔

ان معاہدوں کا مقصد اسرائیل کے عرب و مسلم ممالک کے ساتھ سفارتی، اقتصادی اور سکیورٹی تعاون کو فروغ دینا تھا لیکن غزہ جنگ اور فلسطینی مسئلے کے باعث سعودی عرب نے اسرائیل کے ساتھ تعلقات معمول پر لانے کا عمل روک رکھا ہے۔

 

متعلقہ مضامین

  • سونم وانگچک نے 26 روز تک جاری رہنے والی اپنی بھوک ہڑتال ختم کر دی
  • باب المندب بند۔ آگے کیا ہوگا؟
  • پاکستان کا موقف اور خطے میں امن کا تقاضا
  • جامعہ کراچی میں سالانہ یومِ حسینؑ، شیعہ سنی علماء کا خطاب، اساتذہ و طلباء کی شرکت
  • جدہ قونصل خانے میں اہم انتظامی تبدیلی، فرینہ ارشد نے ڈپٹی قونصل جنرل کا عہدہ سنبھال لیا
  • سیلابی صورتِ حال کو ہتھیار بنانا بھارت کی آبی جارحیت کا ثبوت ہے:سینیٹر شیری رحمان
  • مقبوضہ کشمیر میں تیز بارشیں، بھارت نے پانی کا بڑا ریلہ پاکستان کی جانب چھوڑ دیا
  • سعودی عرب ابراہام معاہدوں میں شامل ہوا تو یہ تاریخی پیش رفت ہوگی؛ اسرائیلی وزیراعظم
  • حیسکو میں ایک ارب 6 کروڑ سے زائد کی کرپشن کا انکشاف
  • شہباز شریف سمیت حکومتی شخصیات کو 21 تحائف ملے، توشہ خانہ کا ریکارڈ جاری