بنوں :تھانہ کینٹ کی حدود میں ریموٹ کنٹرول بم دھماکہ ،2 پولیس اہلکار زخمی
اشاعت کی تاریخ: 25th, April 2025 GMT
بنوں کے تھانہ کینٹ کی حدود میں واقع علاقے شین کنڈی میں نامعلوم شدت پسندوں کی جانب سے ریموٹ کنٹرول بم دھماکے کے نتیجے میں دو پولیس اہلکار زخمی ہو گئے۔پولیس کے مطابق بارودی مواد بنیادی مرکز صحت کے ساتھ نصب کیا گیا تھا، جہاں اس وقت انسداد پولیو مہم کے سلسلے میں کیچ اپ ڈے جاری تھا۔دھماکے میں زخمی ہونے والے پولیس اہلکاروں کی شناخت جمشید اور صفت کے نام سے ہوئی ہے، جنہیں فوری طور پر طبی امداد کے لیے قریبی ہسپتا ل منتقل کر دیا گیا ۔ پولیس کا کہنا ہے کہ ابتدائی تحقیقات کے مطابق دھماکہ ریموٹ کنٹرول ڈیوائس کے ذریعے کیا گیا اور جائے وقوعہ سے شواہد اکٹھے کیے جا رہے ہیں۔ سکیورٹی فورسز نے علاقے کو گھیرے میں لے کر سرچ آپریشن شروع کر دیا ہے۔واقعہ کے بعد علاقے میں خوف و ہراس پھیل گیا جبکہ انسدادپولیو مہم بھی متاثر ہوئی ۔ مقامی انتظامیہ اور قانون نافذ کرنے والے ادارے حملہ آوروں کی تلاش میں مصروف ہیں۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Nawaiwaqt
پڑھیں:
طالبان رجیم کیخلاف بغاوت؛ ملا ہبت اللہ کا کنٹرول برقرار رکھنے کیلیے نیاحکم جاری
افغان طالبان رجیم کی مرکزی قیادت اور بدخشاں کے مقامی کمانڈروں کے درمیان اختلافات کھل کر سامنے آگئے ہیں۔
طالبان رجیم کے خلاف بغاوت کے اشارے ملنے پر ملا ہبت اللہ کا کنٹرول برقرار رکھنے کے لیے نیا حکم جاری کردیا گیا ہے۔ بدخشاں کے معدنی وسائل پر لڑائی اور عوامی بغاوت کے بعد امیر ہبت اللہ نے حالات کو کنٹرول کرنے کے لیے ایک سخت حکم نامہ جاری کیا ہے۔
میڈیا رپورٹس کے مطابق بدخشاں کے ناراض طالبان کمانڈروں اور حکام کے اثاثوں کی تفتیش کے لیے اعلیٰ سطح کا وفد مقرر کردیاگیا ہے۔ طالبان کے سربراہ ملا ہبت اللہ کا حکم نہ ماننے والے مقامی کمانڈروں کو فوراً گرفتار کرنے کی دھمکی دی گئی ہے۔
ذرائع ابلاغ کی رپورٹس میں بتایا گیا ہے کہ بدخشاں میں جاری عوامی احتجاج اور بڑھتی ہوئی اندرونی بغاوت کو دبانے کے لیے خصوصی فوجی دستہ بھی تعینات کر دیاگیا ہے۔ قندھار گروپ نے بدخشاں گروپ کے ناراض طالبان رہنماؤں پر دباو ڈالنے کے لیے گرفتاریاں بھی شروع کر دی ہیں۔ اس دوران مقامی طالبان کمانڈر موسیٰ کاکے اور سابق مائنز ڈائریکٹر اسلام الدین کو گرفتار کرکے نامعلوم مقام پر منتقل کردیاگیا۔
عالمی ماہرین کے مطابق بدخشاں میں جاری لڑائی افغان طالبان کے اندر گہرے ہوتے ہوئے نسلی اور سیاسی اختلافات کا واضح ثبوت ہے۔ طالبان رجیم کیخلاف ملک کے اندر اور باہر شروع ہونے والی نئی تحریکیں،ان کے مکمل کنٹرول اور عوامی حمایت کے جھوٹے دعووں کی پول کھول رہی ہیں۔