UrduPoint:
2026-07-24@07:35:16 GMT

ایران جوہری مذاکرات میں امید افزا پیش رفت

اشاعت کی تاریخ: 25th, April 2025 GMT

ایران جوہری مذاکرات میں امید افزا پیش رفت

اسلام آباد (اُردو پوائنٹ ۔ DW اردو۔ 25 اپریل 2025ء) امریکی اور ایرانی وفد کے درمیان ہفتے کے روز عمان میں ہونے والے تکنیکی مذاکرات سے قبل صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے جمعرات کو کہا کہ امریکہ ایران کے ساتھ جوہری معاہدہ کرنے کی کوشش کر رہا ہے اور اس حوالے سے ہونے والی بات چیت اچھی طرح آگے بڑھ رہی ہے۔

امریکہ کے ساتھ ساتھ جوہری مذاکرات ’’تعمیری‘‘ رہے، ایران

اسی دوران چین کی سرکاری خبر رساں ایجنسی ژنہوا نے بتایا کہ چین، روس اور ایران نے مشترکہ طور پر بین الاقوامی ایٹمی توانائی ایجنسی (آئی اے ای اے) سے ایران کے جوہری پروگرام پر تبادلہ خیال کیا ہے۔

ژنہوا نے جمعہ کو اپنی رپورٹ میں بتایا کہ ایرانی وزیر خارجہ عباس عراقچی نے کہا ہے کہ وہ تہران کے جوہری پروگرام پر بات چیت کے لیے یورپ کا سفر کرنے کے لیے تیار ہیں۔

(جاری ہے)

فرانس نے اشارہ دیا کہ اگر تہران سنجیدگی سے کام کر رہا ہے تو یورپی طاقتیں بھی بات چیت کے لیے تیار ہیں۔

ایران جوہری مذاکرات: پوٹن اور عمان کے سلطان میں تبادلہ خیال

اس ہفتے ایران کے وزیر خارجہ عباس عراقچی کے بیجنگ کے دورے کے بعد آئی اے ای اے کے نمائندوں اور ایٹمی ایجنسی کے ڈائریکٹر جنرل کے درمیان جمعرات کو مشترکہ اجلاس ہوا۔

ژنہوا نے کہا کہ آئی اے ای اے کی میٹنگ میں ایران کے جوہری پروگرام کے سیاسی اور سفارتی تصفیے کے عمل میں آئی اے ای اے کے کردار پر تفصیل سے بات چیت ہوئی۔ اور چین نے ایران کی امریکہ سمیت تمام فریقوں کے ساتھ بات چیت میں تعاون کا اظہار کیا۔

اس پیش رفت کے حوالے سے صدر ٹرمپ نے ایران کے ساتھ مذاکرات کو اطمینان بخش قرار دیا۔

ٹرمپ نے اوول آفس میں نامہ نگاروں کو بتایا، "میرے خیال میں ہم ایران کے ساتھ ایک معاہدے پر بہت اچھا کر رہے ہیں ۔

۔۔ یہ اچھی طرح اپنی راہ پر آگے بڑھ رہا ہے۔ ہم ایک بہت بہتر، بہت اچھا فیصلہ لے سکتے ہیں اور بہت ساری زندگیاں بچائی جا سکتی ہیں۔" اچھی پیش رفت

ایران اور امریکہ کے درمیان بالواسطہ مذاکرات کا پہلا دور 12 اپریل کو عمان کی ثالثی میں مسقط میں انجام پایا۔ ایران امریکہ بالواسطہ مذاکرات کا دوسرا دور 19 اپریل کو عمان کی ہی ثالثی میں روم میں انجام پایا اور دونوں فریقوں نے مذاکرات جاری رکھنے پر اتفاق کیا اور طے پایا کہ مذاکرات کا یہ سلسلہ عمان میں جاری رکھا جائے۔

امریکہ کے خصوصی ایلچی اسٹیو وٹکوف ہفتے کو روز تیسرے دور کے مذاکرات میں شرکت کریں گے۔

ایک سینئر امریکی اہلکار نے بتایا ہے کہ روم مذاکرات کے دوران وٹکوف اور عراقچی نے بہت اچھی پیش رفت کی ہے۔ عراقچی نے بیجنگ کے اپنے دورے کے دوران وضاحت کی ہے کہ ایران اور امریکہ ممکنہ معاہدے کے اصولوں پر بہتر سمجھوتہ کر چکے ہیں اور اب مزید آگے بڑھنے کا موقع ہے۔

بات چیت کے بعد عمان نے ایک بیان میں کہا کہ ایران اور امریکہ نے ایک ایسے منصفانہ، دیرپا اور پابند معاہدے کے لیے کام کرنے پر اتفاق کیا ہے جو ایران کی ایٹمی ہتھیاروں اور پابندیوں سے مکمل آزادی کو یقینی بنائے اور پرامن جوہری توانائی تیار کرنے کی صلاحیت کو محفوظ رکھے۔

عراقچی یورپ کا دورہ کرنے کے لیے تیار

ایرانی وزیر خارجہ عباس عراقچی نے کہا ہے کہ وہ تہران کے جوہری پروگرام پر بات چیت کے لیے یورپ کا سفر کرنے کے لیے تیار ہیں۔

ستمبر کے بعد سے تہران اور تین یورپی طاقتوں، جرمنی، فرانس اور برطانیہ، جنہیں 'ای تھری' کے نام سے جانا جاتا ہے، ایران کے ساتھ اپنے تعلقات اور جوہری مسئلہ پر کئی دور کی بات کرچکے ہیں۔

عراقچی نے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ایکس پر لکھا،"حالیہ عرصے میں ای تھری کے ساتھ ایران کے تعلقات سرد و گرم رہے ہیں۔ آپ مانیں یا نہ مانیں اس وقت سرد ہیں۔

"

عراقچی نے مزید لکھا،"میں ایک بار پھر سفارت کاری کی تجویز پیش کرتا ہوں۔ ماسکو اور بیجنگ میں مشاورت کے بعد میں پیرس، برلن اور لندن کے دورے کے ذریعہ پہلا قدم اٹھانے کے لیے تیار ہوں۔ فیصلہ اب ای تھری کو کرنا ہے۔"

جب عراقچی کے بیان کے بارے میں پوچھا گیا تو فرانس کی وزارت خارجہ کے ترجمان نے کہا کہ ای تھری مذاکرات کی حمایت کرتا ہے لیکن یہ دیکھنا چاہتا ہے کہ ایران کتنا سنجیدہ ہے۔

ترجمان نے ایک نیوز کانفرنس کو بتایا،"اس (تنازع) کا واحد حل سفارتی حل ہے اور ایران کو بھی پوری ایمانداری کے ساتھ اس سمت آگے بڑھنا چاہیے۔ ای تھری نے اپنی تجویز کئی بار پیش کی ہے اور ہم ایرانیوں کے ساتھ بات چیت جاری رکھیں گے۔"

جرمنی اور برطانیہ نے اس معاملے پر فوری طور پر کوئی تبصرہ نہیں کیا۔

خیال رہے کہ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے گزشتہ ماہ ایران کو براہ راست ایک نئے جوہری معاہدے کی پیش کش کی تھی اور اپنے جوہری پروگرام کو محدود نہیں کرنے کی صورت میں فوجی کارروائی کی دھمکی دی تھی۔

ادارت: صلاح الدین زین

.

ذریعہ

ذریعہ: UrduPoint

کلیدی لفظ: تلاش کیجئے کے جوہری پروگرام ایران کے ساتھ کے لیے تیار بات چیت کے عراقچی نے کہ ایران اے ای اے پیش رفت کے بعد نے کہا کہا کہ

پڑھیں:

اقوام متحدہ میں پاکستان کا امن اور مذاکرات پر زور، بھارت پر عالمی قوانین کی خلاف ورزی کا الزام

پاکستان نے عالمی برادری پر زور دیا ہے کہ بڑھتے ہوئے مسلح تنازعات کے تناظر میں سفارتکاری، مذاکرات اور ثالثی کو مضبوط بنایا جائے.

اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل میں تنازعات کے پرامن حل سے متعلق کھلے مباحثے کے دوران پاکستان نے بھارت پر عالمی قوانین، اقوام متحدہ کی قراردادوں اور سندھ طاس معاہدے کی خلاف ورزی کا الزام بھی عائد کیا۔

یہ بھی پڑھیں: پاکستان کی ایک اور بڑی سفارتی کامیابی، سلامتی کونسل میں امن دستوں کے تحفظ کی قرارداد متفقہ طور پر منظور

اقوام متحدہ میں پاکستان کے مستقل مندوب عاصم افتخار احمد نے سلامتی کونسل کے اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ موجودہ عالمی حالات میں تنازعات کے پرامن حل کی ضرورت پہلے سے کہیں زیادہ بڑھ گئی ہے۔

انہوں نے کہا کہ ہر نیا بحران یہ ثابت کرتا ہے کہ انصاف پر مبنی اور دیرپا امن کا کوئی فوجی متبادل موجود نہیں، اس لیے عالمی برادری کو تنازعات کی روک تھام، مکالمے، ثالثی اور اقوام متحدہ کے چارٹر کے مطابق پرامن تصفیے پر نئی توجہ دینا ہوگی۔

Today, the imperative of peaceful settlement is more urgent than ever before. At a time when armed conflicts are growing across regions, the costs of delayed diplomacy are becoming more evident. Every new crisis underscores a simple truth: there is no military substitute for a… pic.twitter.com/ITgheZpBLd

— Permanent Mission of Pakistan to the UN (@PakistanUN_NY) July 23, 2026

انہوں نے یاد دلایا کہ پاکستان کی سلامتی کونسل کی صدارت کے دوران متفقہ طور پر منظور کی جانے والی قرارداد 2788 نے اس اصول کی توثیق کی تھی کہ سفارت کاری کو اس وقت استعمال نہیں کرنا چاہیے جب امن ناکام ہو جائے، بلکہ اسے ایسے حالات پیدا ہونے سے پہلے ہی فعال ہونا چاہیے۔

دوسری جانب اجلاس میں بھارتی مندوب کے بیان کے جواب میں پاکستانی مشن کی قونصلر صائمہ سلیم نے حقِ جواب استعمال کرتے ہوئے کہا کہ جب رکن ممالک تنازعات کے پرامن حل کے طریقہ کار کو مضبوط بنانے پر گفتگو کر رہے تھے، بھارت نے حقائق کو مسخ کرنے اور بے بنیاد الزامات لگانے کی کوشش کی۔

مزید پڑھیں: سلامتی کونسل بریفنگ: پاکستان نے مستقل جنگ بندی اور آزاد فلسطینی ریاست کا مطالبہ دہرا دیا

انہوں نے کہا کہ بھارت ایک طرف امن کی بات کرتا ہے جبکہ دوسری جانب بین الاقوامی قانون، سلامتی کونسل کی قراردادوں اور اقوام متحدہ کے چارٹر کی خلاف ورزی کر رہا ہے۔

ان کے مطابق جموں و کشمیر نہ تو بھارت کا اٹوٹ انگ ہے اور نہ ہی اس کا داخلی معاملہ، بلکہ یہ بین الاقوامی سطح پر تسلیم شدہ متنازع خطہ ہے، جس کے بارے میں سلامتی کونسل کی قراردادیں آج بھی مؤثر ہیں۔

صائمہ سلیم نے کہا کہ آزاد جموں و کشمیر اور بھارتی زیرِ انتظام جموں و کشمیر کی صورتحال میں واضح فرق ہے۔

It is ironic to hear India preaching peace while breaching international law and Security Council resolutions, and practising aggression against its neighbours, repression in Indian-occupied Jammu and Kashmir, persecution of minorities, and perpetrating State-sponsored terrorism… pic.twitter.com/oPfkrOvSJ5

— Permanent Mission of Pakistan to the UN (@PakistanUN_NY) July 24, 2026

ان کے مطابق آزاد کشمیر میں عوام سیاسی عمل میں حصہ لیتے اور آزادی سے اپنی رائے کا اظہار کرتے ہیں، جبکہ بھارتی زیرِ انتظام کشمیر میں گرفتاریوں، ماورائے عدالت ہلاکتوں، جبری گمشدگیوں، آبادی کے تناسب میں تبدیلی اور حقِ خودارادیت سے محرومی جیسے اقدامات جاری ہیں۔

انہوں نے بھارت کے سندھ طاس معاہدے کو معطل کرنے کے فیصلے کو یکطرفہ اور غیر قانونی قرار دیتے ہوئے کہا کہ دریائے سندھ کا پانی پاکستان کے تقریباً 24 کروڑ عوام کی زندگی کا ذریعہ ہے، اسے جنگی ہتھیار کے طور پر استعمال نہیں کیا جا سکتا۔

مزید پڑھیں: سلامتی کونسل میں اصلاحات ناگزیر، مستقل رکنیت کا نظام فرسودہ ہو چکا ہے، پاکستان

پاکستانی مندوب نے مزید الزام عائد کیا کہ بھارت ریاستی سرپرستی میں دہشتگردی میں ملوث ہے اور پاکستان میں دہشتگرد تنظیموں کی معاونت کرتا رہا ہے۔

ان کا کہنا تھا کہ پاکستان دہشتگردی کے خلاف جنگ میں تقریباً ایک لاکھ شہریوں کی جانوں کی قربانی دے چکا ہے۔

انہوں نے بھارت میں مسلمانوں، عیسائیوں، سکھوں اور دلتوں کے ساتھ مبینہ امتیازی سلوک کا بھی ذکر کرتے ہوئے کہا کہ پاکستان نے ہمیشہ اشتعال انگیزی کے باوجود تحمل کا مظاہرہ کیا، مذاکرات کا دروازہ کھلا رکھا اور تنازعات کے پرامن حل کو ترجیح دی۔

مزید پڑھیں: سلامتی کونسل کی بلوچستان حملوں کی شدید مذمت، عالمی برادری سے پاکستان کیساتھ تعاون پر زور

صائمہ سلیم نے کہا کہ جنوبی ایشیا میں پائیدار امن کا راستہ بین الاقوامی قانون، اقوام متحدہ کے چارٹر، سلامتی کونسل کی قراردادوں پر عملدرآمد اور مسئلہ جموں و کشمیر کے پرامن حل سے ہو کر گزرتا ہے۔

انہوں نے بھارت پر زور دیا کہ وہ قرارداد 2788 پر اس کی روح اور متن کے مطابق عمل کرے، اپنے بین الاقوامی معاہدوں کا احترام کرے اور کشمیر تنازع کے حل کے لیے سنجیدہ مذاکرات کی راہ اختیار کرے۔

آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں

اقوام متحدہ امتیازی سلوک بھارت پاکستان جموں و کشمیر چارٹر دریائے سندھ دہشتگردی سلامتی کونسل سندھ طاس معاہدے صائمہ سلیم عاصم افتخار احمد مستقل مندوب

متعلقہ مضامین

  • عباس عراقچی شنگھائی تعاون تنظیم کے سالانہ اجلاس میں شرکت کے لیے کرغزستان پہنچ گئے
  • جارحیت کے باوجود مذاکرات کا دروازہ اب بھی کھلا ہے، ایران نے امریکا کو بڑا پیغام دے دیا
  • ایرانی اثاثے ضبط کرنے کی ٹرمپ کی دھمکی خطرناک نظیر ہے، عباس عراقچی کا سخت ردعمل
  • اقوام متحدہ میں پاکستان کا امن اور مذاکرات پر زور، بھارت پر عالمی قوانین کی خلاف ورزی کا الزام
  • جارحیت کی قیمت واشنگٹن کو بہت مہنگی پڑے گی، عباس عراقچی
  • روس مذاکرات کے لیے تیار، یوکرین میں فوجی آپریشن جاری رہے گا، کریملن
  • سعودی توانائی معاہدہ ابراہیمی معاہدوں سے مشروط، وائٹ ہاؤس نے ٹرمپ کا مؤقف دہرا دیا
  • بلاول بھٹو نے مظفرآباد اور دیگر علاقوں میں بھی انٹرنیٹ پابندیاں جلد ختم ہونے کی امید ظاہر کر دی
  • صدر ٹرمپ کی پالیسی آنکھ کے بدلے سرکی ہے، ایران کو ہر گزرتی رات کیساتھ بھاری قیمت چکانا ہوگی: مارکو روبیو کا انتباہ
  • ٹرمپ نے سعودی عرب سے سول جوہری معاہدے کو معاہدہ ابراہیمی میں شمولیت سے مشروط کردیا