پی ایس ایل فرنچائز فیس پر اختلافات شدت اختیار کر گئے: ملتان سلطانز کا ری بڈنگ کی دھمکی
اشاعت کی تاریخ: 25th, April 2025 GMT
پاکستان سپر لیگ کے دسویں ایڈیشن سے قبل میدان کے ساتھ ساتھ پس پردہ بھی کشیدگی بڑھتی جا رہی ہے ملتان سلطانز کی جانب سے واضح طور پر عندیہ دیا گیا ہے کہ اگر فرنچائز فیس میں اضافہ کیا گیا تو وہ ٹیم ری بڈنگ کی طرف جائیں گے جس کے بعد پی سی بی اور فرنچائز کے درمیان معاملات مزید پیچیدہ ہوتے دکھائی دے رہے ہیں ذرائع کے مطابق پی ایس ایل 10 کے اختتام پر پی سی بی اور تمام فرنچائزز کے درمیان موجودہ معاہدہ ختم ہو جائے گا جس کے بعد بورڈ ویلیویشن کے عمل کے ذریعے نئی فیس مقرر کرے گا اور موجودہ ٹیموں کو ترجیح دی جائے گی لیکن امکان ہے کہ فیس میں پچیس فیصد یا اس سے زائد اضافہ ہوگا جس پر سب سے زیادہ تحفظات لیگ کی مہنگی ترین فرنچائز ملتان سلطانز کو ہیں ملتان سلطانز ہر سال تقریباً ایک ارب آٹھ کروڑ روپے صرف فیس کی مد میں ادا کرتی ہے جبکہ دیگر آپریشنل اخراجات اس کے علاوہ ہیں اونر علی ترین پہلے ہی اس ماڈل پر کھلے عام اعتراضات کرتے آ رہے ہیں اور حالیہ دنوں ملتان میں میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے انہوں نے صاف الفاظ میں کہا کہ اگر فیس میں اضافہ ہوا تو وہ ٹیم ری بڈنگ میں لے جائیں گے ذرائع کے مطابق چند ماہ قبل جب پی سی بی نے تمام فرنچائزز سے پوچھا تھا کہ کیا وہ اپنی ٹیمیں جاری رکھنا چاہتے ہیں تو ملتان سلطانز نے بھی دیگر ٹیموں کی طرح آمادگی ظاہر کی تھی لیکن اب علی ترین کے سخت بیانات نے سب کو حیران کر دیا ہے جس سے ظاہر ہوتا ہے کہ وہ پہلے سے ہی کسی بڑے فیصلے کی تیاری کر رہے تھے یا بورڈ پر دباؤ ڈالنا چاہتے ہیں بورڈ حکام کا کہنا ہے کہ معاہدے کے تحت کسی بھی وجہ سے فیس میں کمی ممکن نہیں ویلیویشن کے بعد فیس میں اضافہ یقینی ہے اور اگر سلطانز نے ٹیم چھوڑ دی تو ری بڈنگ ہوگی تاہم یہ واضح نہیں کہ موجودہ اونر دوبارہ حصہ لے سکیں گے یا نہیں کیونکہ اگر ایک فرنچائز کو رعایت دی گئی تو دیگر بھی وہی مطالبہ کریں گی جو بورڈ کے لیے ناقابل قبول ہوگا اس کے ساتھ ہی بعض حلقوں نے اس بات پر حیرت کا اظہار کیا ہے کہ علی ترین کے متنازع بیانات کے باوجود پی سی بی نے ان کے خلاف کوئی کارروائی نہیں کی اور نہ ہی انہیں شوکاز نوٹس جاری کیا گیا ذرائع کا کہنا ہے کہ ویلیویشن کے بعد ملتان سلطانز کی سالانہ فیس ڈیڑھ ارب روپے تک جا سکتی ہے جبکہ دو نئی ٹیموں کو دو دو ارب روپے میں فروخت کرنے کا دباؤ بھی بڑھتا جا رہا ہے لیکن موجودہ معاشی صورتحال میں یہ ہدف حاصل کرنا مشکل دکھائی دیتا ہے اگر سلطانز کی فیس کم یا برقرار رکھی گئی تو نئی ٹیمیں بھی کم قیمت پر فروخت ہو سکتی ہیں جس سے پی ایس ایل کی مجموعی قدر متاثر ہوگی تاہم بورڈ نے واضح کر دیا ہے کہ وہ کسی صورت لیگ کی ویلیو کم نہیں کرے گا اور اگر کوئی سستے داموں فرنچائز خریدنے کا سوچ رہا ہے تو وہ غلط فہمی کا شکار ہے کیونکہ پاکستان اور بیرون ملک سے کئی سرمایہ کار پی ایس ایل میں شمولیت کے لیے تیار بیٹھے ہیں
.
ذریعہ
ذریعہ: Nawaiwaqt
کلیدی لفظ: ملتان سلطانز پی ایس ایل پی سی بی فیس میں کے بعد
پڑھیں:
بارشوں کے پانی نے لاہور انتظامیہ کی پول کھول دی‘ اقبال ٹاﺅن اور جوہر ٹاﺅن میں مرکزی شاہراﺅں پر شگاف پڑگئے
لاہور(اردوپوائنٹ اخبارتازہ ترین-انٹرنیشنل پریس ایجنسی۔23 جولائی ۔2026 ) صوبائی دارالحکومت لاہور میں علامہ اقبال ٹاﺅن مین بلیوارڈکی سروس روڈپربھیکے وال کے نزدیک 10فٹ گہرا شگاف پڑگیا ہے‘اسی طرح جوہر ٹاﺅن مصروف ترین شاہراہ خیابان فردوسی پر ایک اورگڑھا پڑ گیاہے گزشتہ تین روز کے دوران مذکورہ سڑک پریہ دوسرا گڑھا پڑا. بارش کے بعد مرکزی شاہراہ پر گڑھنے پڑنے سے حادثات کا خدشہ بڑھ گیا حکام کے مطابق سڑک کی مرمت کا کام شروع ہوگیا گڑھا پڑنے سے ٹریفک کی روانی جزوی طور پر متا ثر ہوئی دوسری جانب اقبال ٹاﺅن میں بھیکے والے موڑ جانب فاروق ہسپتال سروس روڈ پر 10 فٹ گہرا شگاف پڑ گیا.(جاری ہے)
سڑک کے درمیان پڑنے والے گہرے شگاف کے باعث ٹریفک کی روانی متاثر ہو رہی ہے شگاف پڑنے سے کوئی جانی نقصان نہیں ہوا، متعلقہ افسران اور واسا کی ٹیمیں موجود ہیں ٹریفک پولیس کا کہنا ہے کہ متعلقہ محکموں نے سروس روڈ پر شگاف پر کرنے کیلئے کام شروع کردیا. واضح رہے کہ 17جولائی کو ہونے والی بارش سے فیروزپور روڈ پرنشتر کالونی کے قریب سروس روڈ کا ایک حصہ بیٹھ گیا تھا جس کے نتیجے میں وہاں کھڑی تین موٹر سائیکلیں گڑھے میں جا گریں تھیں. شہریوں کا کہنا ہے کہ پورے شہر کے اندر یہی حال ہے بارشوں میںمتوسط آبادیوںکے اندر سڑکوں کے بیٹھ جانے کے واقعات زیادہ ہوتے ہیں مگر انہیں کوریج نہیں ملتی‘نجی یونیورسٹی کے لیکچرار معاذالاسلام سول انجینئرنگ پڑھاتے ہیں ان کا کہنا ہے کہ بدقسمتی سے پاکستان میں سب سے زیادہ بدعنوانی اس شعبے میں ہے ناقص میٹریل اور زمین کی کمپریشن عالمی لیول کی نہیں کی جاتی . ان کا کہنا ہے کہ ٹھیکے دار اب کئی دن مٹی کو کمپریس کرنے میں نہیں لگا اور نہ ہی میٹریل ڈالنے کے بعد ٹھیک طریقے سے اسے کمپریس کیا جاتا ہے ‘مٹی نرم ہونے سے اگر پانی راستہ بنالے تو چند ہفتوں میں ہی اس ایریا کے نیچے زمین کھوکھلی ہوجاتی ہے اور بارشوں کے دوران شگاف پڑنے لگتے ہیں. انہوں نے بتایا کہ لاہور فیصل آباد موٹر وے کو جب تجرباتی طور پرچھوٹی گاڑیوں کے لیے کھولا گیا تھا تو لاہور سے فیصل آباد کے سفر کے دوران انہوں نے نوٹ کیا تھا کہ کئی سو ارب کی لاگت سے بنی اس سڑک میں لیول کا بھی خیال نہیں رکھا تھا اور یہ موٹروے مکمل طور پر ناہموار تھا جس پر انہوں نے کچھ دیگر انجینئرز کے ساتھ مل کر ایک تجزیاتی رپورٹ این ایچ اے اور پنجاب حکومت کو ارسال کی تھی تاہم آج تک ہمیں اس پر کوئی جواب نہیں ملا.