پاکستان پر کوئی آنچ آئے گی تو عوام مسلح افواج کے ساتھ کھڑے ہوں گے، وزیراعلیٰ سندھ
اشاعت کی تاریخ: 25th, April 2025 GMT
ایک بیان میں مراد علی شاہ نے کہا کہ پیپلز پارٹی ناصرف سندھ بلکہ پورے ملک کے لوگوں کے حقوق کی ضامن ہے، کچھ لوگوں نے پیپلز پارٹی کو بدنام کرنے کی کوشش کی لیکن ناکام رہے، ہم نے جون میں پانی کی دستیابی کے جاری سرٹیفکیٹ کو چیلنج کیا۔ اسلام ٹائمز۔ وزیرِاعلیٰ سندھ مراد علی شاہ کا کہنا ہے کہ پاکستانی عوام بھارت کو منہ توڑ جواب دینا جانتے ہیں۔ مراد علی شاہ نے پہلگام میں پیش آئے واقعے اور اس پر بھارت کے رویے کی مذمت کی ہے۔ اُنہوں نے کہا ہے کہ بھارت کو بتا دیا ہے کہ پاکستان کے لوگ جارحیت کامنہ توڑ جواب دینا جانتے ہیں، پاکستان پر کوئی آنچ آئے گی تو عوام مسلح افواج کے ساتھ کھڑے ہوں گے۔ وزیرِاعلیٰ سندھ نے کہا ہے کہ پنجاب میں کینالوں پر کوئی کام شروع نہیں ہوا، جب تک ایکنک سے منظور نہ ہو نہریں نہیں بن سکتیں۔
اُنہوں نے کہا کہ پیپلز پارٹی ناصرف سندھ بلکہ پورے ملک کے لوگوں کے حقوق کی ضامن ہے، کچھ لوگوں نے پیپلز پارٹی کو بدنام کرنے کی کوشش کی لیکن ناکام رہے، ہم نے جون میں پانی کی دستیابی کے جاری سرٹیفکیٹ کو چیلنج کیا۔ مراد علی شاہ نے کہا ہے کہ صدر زرداری کے پاس منصوبے کی منظوری کا اختیار ہی نہیں، نہر کے منصوبے کی گراؤنڈ بریکنگ کی گئی جو نہیں کرنی چاہیئے تھی، ہم سوتے ہوئے بھی سندھ کے حقوق کے لیے غلط فیصلہ نہیں کر سکتے۔
ذریعہ
ذریعہ: Islam Times
کلیدی لفظ: مراد علی شاہ پیپلز پارٹی نے کہا
پڑھیں:
کے ڈی اے کو مرحوم افسر کے واجبات لواحقین کو ادا کرنے کا حکم
— فائل فوٹوسندھ ہائی کورٹ نے کے ڈی اے کو مرحوم افسر کے لواحقین کے واجبات کی ادائیگی کا حکم دے دیا۔
عدالت کے آئینی بینچ نے کے ڈی اے کے مرحوم افسر کے واجبات کی لواحقین کو عدم ادائیگی کے کیس کی سماعت کی۔
درخواست گزار کے وکیل نے عدالت کو بتایا کہ کے ڈی اے نے واجبات تسلیم کرنے کے باوجود ادائیگی نہیں کی۔
عدالت کے استفسار پر کے ڈی اے کے وکیل نے بتایا کہ کے ڈی اے اب تک 3 لاکھ 50 ہزار روپے ادا کرچکا ہے، ادائیگی میں تاخیر مالی مشکلات کے باعث ہوئی۔
کے ڈی اے کے وکیل نے بتایا کہ سندھ حکومت سے 5 ارب روپے کی گرانٹ طلب کی گئی ہے۔
کراچی سندھ ہائی کورٹ نے ایکسائز افسر کے خلاف 4 من سے...
جس پر عدالت نے اپنے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ ریکارڈ کے مطابق مرحوم افسر کے واجبات ان کی زندگی میں ادا نہیں کیے گئے، درخواست گزار قانونی وارث ہونے کے باعث واجبات کی حق دار ہیں، پینشن اور ریٹائرمنٹ فوائد کسی ادارے کی صوابدید نہیں بلکہ قانونی حق ہے۔
عدالت نے اپنے حکم میں کہا کہ واجبات کی بر وقت ادائیگی ریاستی اداروں کی آئینی ذمے داری ہے، ادارے کی مالی مشکلات ملازمین کو تسلیم شدہ حقوق سے محروم رکھنے کا جواز نہیں بن سکتیں، سرکاری ادارے مالی اور انتظامی امور بہتر انداز میں چلانے کے پابند ہیں، کے ڈی اے درخواست گزار کو واجبات کی مد میں 1 کروڑ 10 لاکھ روپے ادا کرے اور عمل درآمد رپورٹ رجسٹرار سندھ ہائی کورٹ کو پیش کی جائے۔