سکھ سپاہی بھارتی فوجی پاکستان کے خلاف مودی کی جنگ کا حصہ نہ بنیں، گرپتونت سنگھ
اشاعت کی تاریخ: 25th, April 2025 GMT
سکھوں کی عالمی تنظیم سکھ فارجسٹس کے رہنما گرپتونت سنگھ نے بھاتی فوج میں موجود تمام سکھ سپاہیوں و افسران سے کہا ہے کہ وہ نریندر مودی کے مذموم مقاصد پورے کرنے کے لیے اس کی پاکستان کے خلاف جنگ کا حصہ نہ بنیں۔
یہ بھی پڑھیں: لاس اینجلس میں آزاد خالصتان کے حق میں ریفرنڈم، 30 ہزار سکھوں نے ووٹ ڈال دیے
اپنے ہم مذہب افسران و سپاہیوں کے نام ایک پیغام میں سکھوں کے رہنما نے ان سے کہا کہ آپ کی اصل دشمن نریندر مودی کے اشاروں پر کام کرنے والی بھارتی فوج ہے لہٰذا آپ پاکستان کے خلاف نہ لڑیں اور اس میں حصہ لینے سے صاف انکار کردیں۔
گرپتونت سنگھ نے کہا کہ بی جے پی کے ہندوتوا ایجنڈے کو حاصل کرنے کے لیےسکھ سپاہیوں کو پاکستان کےخلاف ہتھیار کے طور پر استعمال کیا جا رہا ہے لہٰذا مودی کی اس کوشش کو جنگ مت سمجھو اور اس سے انکار کردو۔
مزید پڑھیے: ’بی جے پی نے مجھے مارنے پر انعام رکھا ہے‘،گرپتونت سنگھ پنوں کا امریکی نائب صدر کو خط
ان کا کہنا تھا کہ جب پاکستان نے ہمیشہ سکھوں کی حمایت کی ہے اور خالصتان بن جانے کے بعد پاکستان ہمارا دوست ملک ہوگا لہٰذا اس کے خلاف جنگ میں خود کو استعمال ہونے سے سختی سے گریز کیا جائے۔
گرپتونت کا مزید کہنا تھا کہ مودی حکومت نے 13 اپریل 2025 کو خالصہ سجنا ڈیہارا نگر کیرتن کے دوران سری نگر کے چننا پورہ میں سکھوں کے قتل عام کی بھی منصوبہ بندی کی تھی اور مودی حکومت نے نیشنل سیکیورٹی ایڈوائزر اجیت دوول کے ساتھ مل کر پہلگام میں ہندوؤں کا قتل عام کروایا۔
گرپتونت سنگھ کون ہیں؟واضح رہے کہ پیشے کے اعتبار سے وکیل گرو پتونت سنگھ کے والد مہندر سنگھ پنجاب مارکیٹنگ بورڈ کے سیکریٹری تھے۔
سنہ1990 کی دہائی میں انہوں نے پنجاب یونیورسٹی، چندی گڑھ سے قانون کی تعلیم حاصل کی۔ وہ کالج کے زمانے سے ہی طلبا سیاست میں سرگرم ہو گئے تھے۔
مزید پڑھیں: سکھ فار جسٹس کے رہنما گرپتونت سنگھ پنوں نے بھارتی حکومت کے خلاف اقدام قتل کا مقدمہ کردیا
سنہ 1990 کی دہائی میں ان کے خلاف امرتسر، لدھیانہ، پٹیالہ اور چندی گڑھ کے شہروں میں واقع تھانوں میں قتل کے مقدمات درج کروائے گئے جو ان کے مطابق سب کے سب جھوٹے ہیں۔
تحریکِ خالصتان کے سکھ راہنما Gurpatwant Singh Pannun نے بھارتی فوج میں سکھ فوجی جوانوں اور افسروں کو نصیحت کرتے ہوئے کہا کہ پاکستان ہمارا دوست ملک ہے.
— Afzal Khan Sherwani (@AfzalSherwani93) April 25, 2025
اس کے بعد گرپتونت سنگھ سنہ 1991-92 میں امریکا چلے گئے جہاں انہوں نے کنیٹیکٹ یونیورسٹی میں داخلہ لیا اور فنانس میں ایم بی اے اور نیویارک یونیورسٹی سے قانون میں ماسٹرز کیا۔ وہاں اعلیٰ تعلیم مکمل کرنے کے بعد، انہوں نے سنہ 2014 تک نیویارک میں وال اسٹریٹ میں سسٹم اینالسٹ کے طور پر کام کیا۔
یہ بھی پڑھیے: گرپتونت سنگھ کے قتل کی سازش، بھارت امریکا میں بھی ریاستی دہشتگردی میں ملوث نکلا
انہوں نے سنہ 2007 میں سکھس فار جسٹس نامی تنظیم کی بنیاد رکھی اور ان کا مشن بھارت سے علیحدگی اور سکھوں کے لیے ایک الگ ملک خالصتان کا قیام ہے۔
آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں
پاکستان خالصتان گرپتونت سنگھ گرپتونت کا سکھ فوجیوں کو پیغام نریندر مودی
ذریعہ
ذریعہ: WE News
کلیدی لفظ: پاکستان خالصتان گرپتونت سنگھ گرپتونت سنگھ بھارتی فوج پاکستان کے ان کے خلاف انہوں نے میں سکھ
پڑھیں:
بھارتی سماجی کارکن سونم وانگچک نے 26 روز بعد بھوک ہڑتال ختم کر دی
بھارت کے معروف سماجی کارکن، ماہرِ تعلیم سونم وانگچک(Sonam Wangchuck) نے تعلیمی اصلاحات کا مطالبہ کرنے والے نوجوان مظاہرین کی حمایت میں جاری 26 روزہ بھوک ہڑتال ختم کر دی۔
وانگچک، جنہیں عوام میں “سونم سر” کے نام سے بھی جانا جاتا ہے، نے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ایکس پر بتایا کہ انہوں نے مختلف شرائط پر طویل مذاکرات کے بعد اور ملک میں ممکنہ تشدد سے بچنے کے لیے بھوک ہڑتال ختم کرنے کا فیصلہ کیا ہے۔
59 سالہ وانگچک کاکروچ جنتا پارٹی کے مظاہرین کی حمایت میں بھوک ہڑتال پر تھے، جو (NEET) کا پرچہ لیک ہونےکے بعد تعلیمی اصلاحات کے ساتھ ساتھ بھارتی وزیر تعلیم دھرمیندر پردھان کے استعفے کا بھی مطالبہ کر رہے ہیں۔
وانگچک نے ہڑتال کے دوران بتایا تھا کہ ان کا 11 کلوگرام وزن کم ہو چکا ہے، تاہم وہ “اب بھی زندہ ہیں”۔ گزشتہ ہفتے انہیں دہلی میں احتجاجی مقام سے پولیس نے زبردستی ہٹا کر اسپتال منتقل کر دیا تھا۔
Just now in the presence of Union Ministers Sh. JP Nadda, Dr. Jitendra Singh and the senior leaders of Apex Body of Leh Ladakh I finally broke my fast after 26 days. Earlier 65 members of parliament from different political parties had visited or signed letters urging me to break… pic.twitter.com/RFCet7Oksy
— Sonam Wangchuk (@Wangchuk66) July 23, 2026
بھارتی میڈیا این ڈی ٹی وی کے مطابق، حکومت کی جانب سے یہ یقین دہانی کرانے کے بعد کہ جنتر منتر پر احتجاج کرنے والے مظاہرین کے خلاف قانونی کارروائی نہیں کی جائے گی، وانگچک نے اپنی بھوک ہڑتال ختم کر دی۔ اس دوران بھارت کے وزرائے مملکت اور وزیر صحت نے بھی اسپتال میں ان سے ملاقات کی۔
وانگچک کے فیصلے پر ردعمل دیتے ہوئے کاکروچ جنتا پارٹی کے بانی ابھیجیت دیپکے نے کہا کہ ہمیں خوشی اور اطمینان ہے کہ سونم سر نے 26 دن بعد اپنی بھوک ہڑتال ختم کر دی ہے۔
تاہم انہوں نے واضح کیا کہ جنتر منتر پر کاکروچ جنتا پارٹی کا پُرامن احتجاج اس وقت تک جاری رہے گا جب تک وزیر تعلیم دھرمیندر پردھان استعفیٰ نہیں دیتے۔
مزیدپڑھیں:پاک ویسٹ انڈیز ٹیسٹ سیریز، ٹرافی کی رونمائی کردی گئی
واضح رہے کہ نئی دہلی میں بڑے پیمانے پر مظاہرے بدستور جاری ہیں۔ پیر کے روز پارلیمنٹ کی جانب مارچ کرنے والے مظاہرین پر پولیس کے سخت کریک ڈاؤن کے نتیجے میں متعدد مظاہرین اور پولیس اہلکار زخمی ہوئے تھے۔
کاکروچ جنتا پارٹی اس وقت بھارت کی نمایاں نوجوان تحریکوں میں شمار کی جا رہی ہے اور اسے وزیراعظم نریندر مودی کی حکومت کے خلاف عوامی اختلاف کی بڑی علامت سمجھا جا رہا ہے۔
یہ تحریک مئی میں اعلیٰ تعلیمی امتحانات کے پرچے لیک ہونے اور دیگر بے ضابطگیوں کے خلاف ایک طنزیہ آن لائن مہم کے طور پر شروع ہوئی تھی، جس نے بعد ازاں سوشل میڈیا پر وسیع مقبولیت حاصل کی۔
مظاہرین، جو خود کو “کاکروچ” کہتے ہیں، گزشتہ ایک ماہ سے احتجاج کر رہے ہیں، جبکہ بعض ارکان نے بھوک ہڑتال بھی کی۔
ان کا مطالبہ ہے کہ ڈاکٹر بننے کے خواہشمند طلبہ کے اہم داخلہ امتحان کا پرچہ لیک ہونے کے بعد امتحان منسوخ ہونے کی اخلاقی ذمہ داری قبول کرتے ہوئے وزیر تعلیم دھرمیندر پردھان مستعفی ہوں۔