بنوں میں سیکورٹی فورسز کا خفیہ اطلاعات کی بنیاد پر آپریشن، 6 خوارج ہلاک
اشاعت کی تاریخ: 25th, April 2025 GMT
خیبرپختونخوا کے ضلع بنوں میں سیکورٹی فورسز نے خفیہ اطلاعات کی بنیاد پر آپریشن کرتے ہوئے 6 خوارج دہشت گردوں کو ہلاک کردیا جبکہ 4 زخمی ہوگئے۔
پاک فوج کے شعبہ تعلقات عامہ (آئی ایس پی آر) کے مطابق 23 اور 24 اپریل کی درمیانی شب سیکورٹی فورسز کی جانب سے ضلع بنوں میں انٹیلی جنس کی بنیاد پر خوارجیوں کی موجودگی کی اطلاع پر آپریشن کیا۔
آئی ایس پی آر کے مطابق کارروائی کے دوران سیکیورٹی فورسز نے مؤثر طریقے سے خوارج کے ٹھکانے کو نشانہ بنایا، شدید فائرنگ کے تبادلے کے بعد 6 خوارج جہنم واصل کر دیے گئے جبکہ کارروائی میں 4 خوارج زخمی بھی ہوئے۔
ترجمان کا کہنا ہے کہ علاقے میں کلیئرنس اور سینیٹائزیشن آپریشن جاری ہے تاکہ کسی بھی چھپے ہوئے دہشت گرد کو انجام تک پہنچایا جا سکے۔
آئی ایس پی آر نے مزید کہا کہ سیکیورٹی فورسز ملک سے دہشت گردی کے مکمل خاتمے کے لیے پرعزم ہیں۔
وزیراعظم شہباز شریف نے ضلع بنوں میں 6 خوارجیوں کو جہنم واصل کرنے پر سیکیورٹی فورسز کو خراج تحسین پیش کیا ہے۔
وزیراعظم نے سیکیورٹی فورسز کے اہلکاروں کی پیشہ ورانہ صلاحیتوں کی پزیرائی کی اور کہا کہ انسانیت کے دشمن دہشت گردوں کے مذموم عزائم کو اسی طرح خاک میں ملاتے رہیں گے، ملک سے دہشت گردی کے مکمل خاتمے تک ہماری دہشتگردوں کے خلاف جنگ جاری رہے گی۔
صدر مملکت آصف علی زرداری نے ضلع بنوں میں خوارجی دہشت گردوں کے خلاف کامیاب آپریشن میں سیکیورٹی فورسز کو خراج تحسین کیا اور فتنۃ الخوارج کے دہشت گردوں کا قلع قمع کرنے پر سیکیورٹی فورسز کی بہادری کو سراہا۔
صدر نے کہا کہ سیکیورٹی فورسز دہشت گردی کے خاتمے کے لیے کارروائیاں کر رہی ہیں، پوری قوم دہشت گردی کے خلاف اپنی سیکورٹی فورسز کے ساتھ ہے۔
صدر مملکت آصف علی زرداری نے ملک سے فتنتہ الخوارج کے مکمل خاتمے کے عزم کا اعادہ کیا۔
وزیر داخلہ محسن نقوی نے بھی ضلع بنوں میں خوارجی دہشت گردوں کے خلاف کامیاب آپریشن پر فورسز کو خراج تحسین کیا اور 6 دہشت گردوں کو جہنم واصل کرنے پر سیکیورٹی فورسز کی صلاحیتوں کو سراہا۔
محسن نقوی نے کہا کہ سیکیورٹی فورسز نےکامیاب آپریشن کرکے خوارجی دہشتگردوں کے ناپاک عزائم کو خاک میں ملایا، 6 خوارجی دہشت گردوں کو عبرتناک انجام تک پہنچانے پر سیکیورٹی فورسز کو شاباش دیتے ہیں، خوارجی دہشت گردوں کے خلاف سکیورٹی فورسز نے نمایاں کامیابی حاصل کی ہیں۔
واضح رہے کہ 21 اپریل کو سیکیورٹی فورسز نے خیبرپختونخوا میں 2 مختلف کارروائیاں کرتے ہوئے انتہائی مطلوب خارجی رنگ لیڈر ذبیح اللہ زکران سمیت 6 دہشت گردوں کو ہلاک کر دیا تھا۔
پاک فوج کے شعبہ تعلقات عامہ نے بتایا تھا کہ 20 اور 21 اپریل کی درمیانی شب صوبہ خیبر پختونخوا میں دو الگ الگ آپریشن کیے، جس کے نتیجے میں 6 خوارج مارے گئے تھے۔
اعلامیے کے مطابق خوارج کی موجودگی کی اطلاع پر سیکیورٹی فورسز نے ضلع شمالی وزیرستان کے علاقے رزمک میں آپریشن کیا، دوران کارروائی فورسز نے خوارج کے ٹھکانے کو مؤثر طریقے سے نشانہ بنایا، جس کے نتیجے میں 5 خوارج کو ہلاک کر دیا گیا تھا۔
ذریعہ
ذریعہ: Daily Mumtaz
کلیدی لفظ: پر سیکیورٹی فورسز خوارجی دہشت گردوں سیکیورٹی فورسز نے سیکورٹی فورسز دہشت گردوں کو دہشت گردوں کے گردوں کے خلاف دہشت گردی کے خوارج کے فورسز کو کہا کہ
پڑھیں:
چینی شہریوں کی سیکیورٹی کیلیے بلٹ پروف لینڈ کروزر خریدنے کا فیصلہ
اسلام آباد:حکومت نے چینی شہریوں کی سیکیورٹی کو مزید موثر بنانے کے لیے 95.049 ملین روپے (تقریباً 9 کروڑ 50 لاکھ روپے) مالیت کی نئی بلٹ پروف ٹویوٹا لینڈ کروزر خریدنے کا فیصلہ کیا ہے۔
یہ گاڑی چین پاکستان اقتصادی راہداری (سی پیک) سیکریٹریٹ کے استعمال کے لیے حاصل کی جائے گی تاکہ چینی وفود اور ماہرین کو محفوظ سفری سہولت فراہم کی جا سکے۔
وفاقی وزیر برائے منصوبہ بندی احسن اقبال کے مطابق چینی شہریوں کا تحفظ حکومتِ پاکستان کی اولین ذمے داری ہے اسی مقصد کے تحت یہ گاڑی خریدی جا رہی ہے۔
سرکاری دستاویزات کے مطابق یہ نئی لینڈ کروزر پہلے سے موجود بلٹ پروف گاڑیوں اور کم از کم 2ہیلی کاپٹروں کے علاوہ ہوگی، جنھیں مختلف سرکاری ادارے چینی شہریوں کی حفاظت کے لیے استعمال کر رہے ہیں یا خریدنے کے عمل میں ہیں۔
سی پیک سیکریٹریٹ نے موقف اختیار کیا کہ کابینہ ڈویژن کے محدود گاڑیوں کے بیڑے کے باعث مطلوبہ وقت پر بلٹ پروف گاڑیاں دستیاب نہیں ہوتیں، جس سے اہم سرکاری ملاقاتوں، غیر ملکی وفود کے دوروں اور اجلاسوں میں تاخیر یا بعض اوقات منسوخی کی نوبت آ جاتی ہے۔
دستاویزات کے مطابق نجی مارکیٹ سے کرائے پر بلٹ پروف گاڑیاں لینا نہ صرف غیر یقینی بلکہ انتہائی مہنگا بھی ثابت ہوتا ہے، جس سے قومی خزانے پر اضافی بوجھ پڑتا ہے۔حکومت نے پبلک پروکیورمنٹ ریگولیٹری اتھارٹی (PPRA) کے رول 42(c)(vii) کے تحت براہِ راست معاہدے کے ذریعے گاڑی خریدنے کا فیصلہ کیا ہے۔
3 ٹویوٹا ڈیلرز نے قیمتیں پیش کیں، جن میں،ٹویوٹا سینٹرل موٹرز: 95.049 ملین روپے،ٹویوٹا پورٹ قاسم: 95.25 ملین روپے،ٹویوٹا سوسائٹی: 95.45 ملین روپے ہے،حکومت نے سب سے کم بولی دینے والی ٹویوٹا سینٹرل موٹرز کی پیشکش منظور کر لی۔
سی پیک سیکریٹریٹ کے پاس گاڑی کی خریداری کے لیے مطلوبہ رقم موجود نہیں تھی، جس پر وزارتِ منصوبہ بندی نے مختلف منصوبوں سے 5 کروڑ 83 لاکھ روپے منتقل کرنے کا فیصلہ کیا۔
تاہم مالی سال کے اختتام تک ضروری منظوری نہ ملنے کے باعث آرڈر جاری نہ ہو سکا۔
وزارت نے یہ رقم مختلف منصوبوں سے فراہم کرنے کا انتظام کیا، جن میں،سینٹر فار ایکسی لینس برائے سی پیک سے 1 کروڑ 88 لاکھ روپیوفاقی ایس ڈی جیز پروگرام سے 91 لاکھ روپے،مانیٹرنگ اینڈ ایویلیوایشن منصوبے سے 1 کروڑ 10 لاکھ روپے،پالیسی ریسرچ گرانٹس پروگرام سے 1 کروڑ 60 لاکھ روپے ہے ،ان میں 62 لاکھ روپے وہ بھی شامل تھے جو کنٹریکٹ ملازمین کی ادائیگی کے لیے مختص تھے۔