چینی چھوڑنے سے فائدہ ہوتا ہے یا نقصان؟وہ حقائق جو سب کومعلوم نہیں
اشاعت کی تاریخ: 25th, April 2025 GMT
چینی کا زیادہ استعمال موٹاپے، دانتوں کی خرابی، اور دیگر صحت کے مسائل کا باعث بن سکتا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ بہت سے لوگ چینی کو خیرباد کہنے کی کوشش کر رہے ہیں۔
لیکن اس سے پہلے کہ آپ چینی مکمل طور پر چھوڑ دیں، آپ کو جاننا چاہیے کہ یہ فیصلہ آپ کے جسم پر کس طرح کے اثرات ڈال سکتا ہے۔
ڈائیٹیشین شفا چشتی کے مطابق چینی ایک آسان کاربوہائیڈریٹ ہے جو عام طور پر گنے اور چقندر سے حاصل کی جاتی ہے۔ زیادہ مقدار میں چینی کھانے سے جسم میں چربی بڑھتی ہے، جس سے ذیابیطس، جگر کے مسائل، سوزش اور دانتوں کی خرابی جیسے مسائل جنم لیتے ہیں۔
چینی چھوڑنے سے پہلے جاننے والی 7 اہم بات
موڈ میں اتار چڑھاؤچینی چھوڑنے سے دماغ میں خوشی کے ہارمونز (ڈوپامین اور سیروٹونن) کی سطح کم ہو سکتی ہے، جس کی وجہ سے چڑچڑا پن اور بےچینی محسوس ہو سکتی ہے۔ باقاعدہ ورزش، مثبت سوچ اور غذائیت سے بھرپور خوراک سے اس کا حل ممکن ہے۔
نیند میں خللچینی ترک کرنے کے بعد نیند متاثر ہو سکتی ہے، کیونکہ اس سے جسم میں تناؤ پیدا کرنے والا ہارمون کورٹیسول متاثر ہوتا ہے۔ اس کے لیے سونے سے پہلے اسکرین سے پرہیز کریں اور وقت پر سونا معمول بنائیں۔
معدے کی گڑبڑچینی چھوڑنے سے معدے کے اندر موجود بیکٹیریا میں تبدیلی آ سکتی ہے، جس سے اپھارہ یا بدہضمی ہو سکتی ہے۔ دہی یا پروبایوٹک غذا اس مسئلے میں مددگار ہو سکتی ہے۔
میٹھے کی طلبچینی کی عادت ایک جذباتی تعلق بھی رکھتی ہے، اس لیے اچانک اسے چھوڑنے سے میٹھے کی شدید طلب محسوس ہو سکتی ہے۔ اس کا حل یہ ہے کہ آہستہ آہستہ چینی کم کریں اور پھل یا شہد جیسے قدرتی متبادل اپنائیں۔
جسمانی کمزوریچینی فوری توانائی کا ذریعہ ہوتی ہے، اس لیے اس کے بغیر تھکن محسوس ہو سکتی ہے۔ توانائی برقرار رکھنے کے لیے متوازن غذا لیں جس میں پروٹین، صحت مند چکنائی اور فائبر شامل ہو۔
سر دردکچھ لوگوں کو چینی چھوڑنے کے بعد ہلکا یا شدید سر درد بھی ہو سکتا ہے۔ اس کی وجہ ڈوپامین کی کمی ہو سکتی ہے۔ پانی کا زیادہ استعمال اور پرسکون نیند اس میں بہتری لا سکتی ہے۔
وزن میں تبدیلیچینی چھوڑنے سے وزن کم ہو سکتا ہے، کیونکہ چینی موٹاپے کی ایک بڑی وجہ سمجھی جاتی ہے۔ لیکن خیال رکھیں کہ متوازن غذا کا استعمال جاری رکھیں تاکہ جسمانی توازن برقرار رہے۔
ماہرین کا کہنا ہے کہ چینی کو کم کرنا یقیناً ایک صحت مند فیصلہ ہے، لیکن اسے آہستہ آہستہ اور سمجھداری سے ترک کرنا ہی بہتر ہے تاکہ جسم پر اس کے منفی اثرات نہ ہوں۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Daily Ausaf
کلیدی لفظ: چینی چھوڑنے سے ہو سکتی ہے سکتا ہے
پڑھیں:
سرمایہ کاری نہیں قرضے ترجیح کب تک
حکمران اکثر یہ بات کرتے رہتے ہیں کہ ہمیں قرضے نہیں سرمایہ کاری درکار ہے بلکہ ایسے بیانات مسلسل آتے رہے ہیں اور آئی ایم ایف کے مطالبات پر حکومت فوری رضامندی بھی ظاہر کر دیتی ہے تاکہ قرض کی منظوری میں تاخیر نہ ہو۔ قرض منظوری کے بعد ایسے بیانات جاری ہوتے ہیں جیسے بہت بڑا معرکہ سر کر لیا ہو۔ مطلب یہ ہے کہ ہمیں قرض کے حصول کے لیے آئی ایم ایف کی ہر شرط ماننا اور بے انتہا کوشش کے بعد قرض حاصل کرنے میں کامیابی حاصل ہوتی ہے۔
ملک کو اس حالت میں پہنچایا جا چکا ہے کہ خود انحصاری کی منزل بہت دور ہوگئی ہے ۔ پاکستان کی ہر حکومت نے آئی ایم ایف کی ہر بات مانی لیکن خود انحصاری کی منزل نہ مل سکی۔ غیر سیاسی وزیر خزانہ بھی اس امید پر لائے گئے کہ ان کی کوشش سے ملک خود انحصاری کی طرف بڑھے گا اور غیر ملکی قرضوں کے مزید حصول کی کوشش نہیں ہوگی لیکن سب نے اپنا اولین مقصد مزید قرضے حاصل کرنا بنا رکھا ہے اور آئی ایم ایف کو ہر ممکن طریقے سے مزید قرض دینے پر آمادہ کرنا رہ گیا ہے ۔
اب بھی پاکستان کے لیے آئی ایم ایف کا مزید قرضہ منظور کرا لیا گیا ہے جس کا حکومتی حلقے پرجوش خیر مقدم کررہے ہیں۔ ہر وزیر خزانہ کے بارے میں یہ دعویٰ سننے میں آتا رہاکہ وہ آئی ایم ایف سے معاملات طے کرنے کا وسیع تجربہ رکھتے ہیں، لیکن معاملہ مرض بڑھتا ہی گیا جوں جوں دوا کی جیسا ہی رہا۔ آئی ایم ایف سے جان نہیں چھوٹ رہی بلکہ آئی ایم ایف مزید شرائط سخت کرتا جا رہا ہے اور حکومت کو پرانے قرضوں پر سود ادا کرنے کے لیے مزید قرضے لینا پڑ رہے ہیں۔
آئی ایم ایف اپنی ہر شرط منوا رہا ہے اور حال ہی میں آئی ایم ایف نے پٹرولیم لیوی ہدف میں 18 فی صد اضافے کا کہا ہے جب کہ حکومت نے یہ لیوی آئی ایم ایف کے مطالبے سے بھی بہت زیادہ بڑھا رہی ہے مگر آئی ایم ایف ہے کہ مطمئن ہی نہیں ہوتا۔ آئی ایم ایف نے قرض دینے کے لیے کبھی یہ شرط نہیں رکھی کہ پاکستانی حکومت اپنے شاہانہ اخراجات اور حکومتی افراد کے غیر ملکی دورے کم کرکے اپنی آمدنی کے مطابق اخراجات کم کرے تاکہ اسے مزید قرضے نہ لینا پڑیں۔
موجودہ حکومت کی طرف سے پی ٹی آئی حکومت پر الزام لگایا جاتا ہے کہ اس نے سب سے زیادہ غیر ملکی قرضے لیے اور اقتدار جاتا دیکھ کر آئی ایم ایف کو مزید ناراض کرنے کے فیصلے کیے تھے جس پر نئی حکومت کو غیر ملکی قرضوں کے حصول کے لیے سخت محنت کرنا پڑی تھی اور چار سال سے عوام سرکاری طور یہ دعوے ہی سنتے آ رہے ہیں کہ ہمیں قرضے نہیں غیر ملکی سرمایہ کاری چاہیے۔
یہ دعوے صرف دکھاوے کے لیے ہیں اور حکومت کی اولین ترجیح غیر ملکی قرضوں اور امداد کا حصول رہی ہے۔ حکومت پاکستان کو قرضے مانگنے کی عادت چھوڑدینی چاہیے اور اپنے پیروں پر کھڑے ہونے اور اپنے حاصل مالی وسائل استعمال کرکے خود انحصاری کی عملی کوشش کرنے پر توجہ دینی چاہیے۔ ملکی صنعتوں اور غریبوں پر ٹیکسوں کی بھرمار ہے اور جو تنخواہ دار طبقہ ٹیکسز کے شکنجے میں پہلے سے پھنسا ہوا ہے اس پر اور عوام پر مزید ٹیکس بڑھا دیے گئے ہیں۔
حکومتی ٹیکسوں کی بھرمار، مہنگی بجلی و گیس پر فکسڈ چارجز لگا کر بھی حکومت مطمئن نہیں۔ عوام بجلی نہ بھی استعمال کریں اور سولر سسٹم لگائیں وہ بھی حکومت کو قبول نہیں۔ بجلی پر پہلے ہی بے شمار ٹیکس لگے ہوئے ہیں اس پر کم سے کم بجلی استعمال پر فکسڈ چارجز دو ماہ بعد ہی چھ سو سے نو سو روپے ماہانہ کر دیے گئے ہیں۔ فکسڈ چارجز سے آمدنی بڑھانے کا نیا طریقہ ایجاد کر لیا گیا ہے۔
عوام سانس لینے اور سڑکیں ضرور مفت استعمال کر رہے ہیں اور ہر چیز پر ٹیکس متعلقہ اداروں کو ادا کر رہے ہیں اور وزارت خزانہ ایک ہزار روپے معاوضہ لینے والوں سے بھی ڈیڑھ سو روپے ٹیکس لے رہا ہے اور بیس ہزار ماہانہ کمانے والوں سے بھی تین ہزار روپے لیے جا رہے ہیں جو حکومتی مظالم کی انتہا ہے پھر بھی حکومتی رونا ختم ہونے میں نہیں آتا اور عوام پر جھوٹا الزام کہ وہ ٹیکس نہیں دیتے۔
بڑے تاجروں سے انکم ٹیکس وصولی اور ہر سال اپنے اہداف وصولی میں ناکامی سرکار کا قصور ہے سرکاری ادارے اپنے اہداف حاصل کرنے میں ناکام ثابت ہو چکے ہیں۔ حکومت دکھاوے کی حد تک سرمایہ کاری کو اپنی ترجیح قرار تو دیتی ہے مگر عملی طور ایسا نہیں کر رہی اور اس کی ترجیح اب بھی غیر ملکی قرضوں اور امداد کا حصول ہے۔
وزیر توانائی نے کہا ہے کہ قابل تجدید توانائی کے لیے تین سو ارب ڈالر کی سرمایہ کاری کی ہمیں ضرورت ہے۔ ملکی صنعتوں پر پہلے سے ٹیکسوں کی بھرمار ہے ، نئی سرمایہ کاری کہاں سے آئے گی۔ صنعتیں باہر سے کون لائے گا یہاں تو ملکی سرمایہ بیرون ملک منتقل کیا جا رہے ہے تو یہاں بیرونی سرمایہ کار کیوں آنا چاہیں گے۔ نجیبجلی کمپنیوں کو نوازنا جاری ہے ۔ ایک مخصوص طبقے کو ٹیکسوں پر چھوٹ دی جارہی ہے، جب کہ عام لوگوں کو حکومت ریلیف کیا دے گی ،اسے تو طاقتوروں کو ٹیکسوں سے چھوٹ دینے سے ہی فرصت نہیں مل رہی۔