اس سال یعنی 2025 میں عالمی سیاحت کی بحالی اور نئے مقامات کی دستیابی کے ساتھ، بیرون ملک سفر کا رجحان ایک بار پھر زور پکڑ رہا ہے۔ لیکن ایک چھوٹی سی غلطی، جیسے پاسپورٹ سے متعلق معمولی کوتاہی، آپ کے مہینوں کی منصوبہ بندی کو لمحوں میں خاک میں ملا سکتی ہے۔ افسوسناک امر یہ ہے کہ اکثر مسافر بنیادی چیزوں کو نظر انداز کر جاتے ہیں، جس کا نتیجہ ایئرپورٹ پر پریشانی، پرواز سے محرومی یا امیگریشن پر واپسی کی صورت میں نکلتا ہے۔

آئیے ان عام غلطیوں پر نظر ڈالتے ہیں جن سے بچ کر آپ اپنا سفر باآسانی اور بغیر کسی تناؤ کے مکمل کر سکتے ہیں۔

میعاد ختم ہونے کی تاریخ چیک نہ کرنا

بہت سے ممالک کے قوانین کے مطابق، آپ کا پاسپورٹ آپ کی متوقع واپسی کی تاریخ سے کم از کم چھ ماہ تک کارآمد ہونا چاہیے۔ ورنہ آپ کو داخلے سے انکار ہو سکتا ہے، چاہے آپ کے پاس ویزا بھی ہو۔ سفر سے کم از کم چھ ماہ پہلے پاسپورٹ کی معیاد چیک کریں۔ اگر معیاد ختم ہونے کے قریب ہے تو فوراً تجدید کروائیں۔ کچھ ممالک تین خالی صفحات کا بھی تقاضا کرتے ہیں، اس پر بھی نظر رکھیں۔

پاسپورٹ بنوانے یا تجدید کی مدت کو نظر انداز کرنا

2025 میں ممکنہ طور پر درخواستوں کا دباؤ زیادہ ہوگا، جس سے پاسپورٹ پراسیسنگ میں تاخیر متوقع ہے۔ لہٰذا نئے یا تجدید شدہ پاسپورٹ کے لیے کم از کم 10 سے 12 ہفتے پہلے درخواست دیں۔ ہنگامی صورت میں ایکسپریس سروس استعمال کریں، لیکن تمام کاغذات مکمل اور درست ہونے چاہییں۔

خراب یا پھٹے ہوئے پاسپورٹ کا استعمال

پاسپورٹ پر پانی کے دھبے، پھٹے ہوئے اندرونی صفحات کی خرابی، امیگریشن افسران کے لیے مشتبہ ہو سکتی ہے۔ ہمیشہ اہم ترین کاغذات اور پاسپورٹ کو کور میں رکھیں اور اگر یہ شدید خراب ہو چکا ہو تو تجدید (رینیول) ضرور کروائیں، چاہے اس کی میعاد باقی ہو۔

ذاتی معلومات بروقت اپڈیٹ نہ کروانا

شادی، طلاق یا کسی قانونی تبدیلی کے بعد اگر نام یا جنس تبدیل ہوئی ہو تو پاسپورٹ میں بھی فوری تبدیلی لازم ہے۔ لہٰذا کسی بھی تبدیلی کی صورت میں پاسپورٹ کو جلد از جلد اپڈیٹ کریں۔ جیسے شوہر کا نام یا والد کا نام اپڈیٹد ہونا لازمی ہے۔ آپ کی فلائٹ بکنگ اور ویزا کی معلومات پاسپورٹ سے مطابقت رکھتی ہوں۔

ویزے کی ضروریات کو نظر انداز کرنا

صرف پاسپورٹ ہونے سے ہر ملک کا دروازہ نہیں کھلتا، کچھ ممالک ویزا لازمی قرار دیتے ہیں۔ ہر اس ملک کے ویزا قوانین کی تحقیق کریں جہاں آپ جا رہے ہیں۔ اگر ای۔ویزا کی سہولت موجود ہے تو اس میں بھی درست پاسپورٹ تفصیلات درج ہونا ضروری ہے۔

پاسپورٹ کی کاپی ساتھ نہ رکھنا

سفر کے دوران پاسپورٹ گم ہو جانا ایک خوفناک تجربہ ہو سکتا ہے۔ ایک فوٹو کاپی اپنے سامان میں رکھیں اور ایک اسکین شدہ کاپی ای میل یا کلاؤڈ اسٹوریج میں محفوظ رکھیں۔ یہ فوری مدد حاصل کرنے میں آسانی پیدا کرے گی۔

درست پاسپورٹ کے انتخاب میں غلطی

دوہری شہریت والے افراد کے لیے اکثر یہ مسئلہ ہوتا ہے کہ وہ غلط پاسپورٹ استعمال کر لیتے ہیں۔ فلائٹ بکنگ، ویزا اور سفر کے تمام مراحل میں ایک ہی پاسپورٹ استعمال کریں۔ الجھن کی صورت میں کسی ٹریول ایجنٹ یا ایئرلائن سے رہنمائی لیں۔

پاسپورٹ صرف ایک شناختی دستاویز نہیں بلکہ آپ کا عالمی سفر کا گیٹ وے ہے۔ چھوٹی سی غفلت مہنگی پڑ سکتی ہے۔ اگر آپ چاہتے ہیں کہ آپ کا 2025 کا سفر یادگار اور بے فکری سے بھرپور ہو، تو ابھی سے ان تمام پہلوؤں پر توجہ دیں۔ منظم رہیں، پہلے سے تیاری رکھیں اور بے فکر اور مطمئن سفر سے لطف اندوز ہوں۔

.

ذریعہ

ذریعہ: Daily Ausaf

کلیدی لفظ: کے لیے

پڑھیں:

لاہور ہائی کورٹ کا اہم فیصلہ: ہا ئوسنگ سوسائٹیوں کے پارک، اسکول اور مسجد کی زمین فروخت نہیں کی جا سکتی

لاہور ہائی کورٹ کا اہم فیصلہ: ہا ئوسنگ سوسائٹیوں کے پارک، اسکول اور مسجد کی زمین فروخت نہیں کی جا سکتی WhatsAppFacebookX 0 23 July, 2026 سب نیوز

لاہور(آئی پی ایس )لاہور ہائی کورٹ نے ایک اہم فیصلے میں واضح کیا ہے کہ ہاسنگ سوسائٹیوں میں اسکول، پارک، مسجد، ہسپتال اور دیگر عوامی سہولیات (Amenity Sites) کے لیے مختص زمین عوام کی امانت ہے۔ اگرچہ ایسی زمین کا قانونی ٹائٹل بعض حالات میں لاہور ڈویلپمنٹ اتھارٹی (LDA) کے پاس منتقل ہو سکتا ہے، لیکن LDA اسے اپنی ملکیت سمجھ کر کمرشل مقاصد کے لیے فروخت یا نیلام نہیں کر سکتی۔

مقدمہ AGRICS Cooperative Housing Society اور LDA کے درمیان تھا۔ سوسائٹی نے مقف اختیار کیا کہ وہ Cooperative Societies Act, 1925 کے تحت قائم ہوئی ہے، اس لیے LDA کے بعض قوانین اس پر لاگو نہیں ہوتے، جبکہ LDA کا مقف تھا کہ عوامی سہولیات کے لیے مختص زمین اس کے نام منتقل کیے بغیر اسکول کا بلڈنگ پلان منظور نہیں کیا جا سکتا۔

لاہور ہائی کورٹ نے قرار دیا کہ Cooperative Societies Act سوسائٹی کے اندرونی معاملات سے متعلق ہے، جبکہ LDA Act لاہور میں شہری منصوبہ بندی (Urban Planning) اور ہاسنگ اسکیموں کو منظم کرنے والا خصوصی قانون ہے، اس لیے پلاننگ اور ترقیاتی معاملات میں LDA کے قوانین پر عمل کرنا تمام ہاسنگ سوسائٹیوں کے لیے لازم ہے۔

عدالت نے یہ بھی قرار دیا کہ 1990 کی Mortgage Deed اور سوسائٹی کے اپنے سابقہ ریکارڈ سے ثابت ہوتا ہے کہ متعلقہ عوامی سہولیات کی زمین LDA کے نام منتقل ہو چکی تھی، لہذا سوسائٹی کئی دہائیوں بعد اس مقف سے انکار نہیں کر سکتی۔

فیصلے کا سب سے اہم حصہ Doctrine of Public Trust (پبلک ٹرسٹ ڈاکٹرائن) سے متعلق ہے۔ عدالت نے واضح کیا کہ اگرچہ زمین کا قانونی ٹائٹل LDA کے پاس ہے، لیکن وہ اس کا مطلق مالک نہیں بلکہ صرف Trustee (امین) ہے۔ اس لیے اسکول، پارک، مسجد یا دیگر عوامی سہولیات کے لیے مختص زمین کو کسی اور مقصد، خصوصا تجارتی استعمال یا فروخت کے لیے استعمال نہیں کیا جا سکتا۔ ایسی زمین صرف اسی مقصد کے لیے استعمال ہوگی جس کے لیے اسے مختص کیا گیا تھا۔

عدالت نے یہ بھی نوٹ کیا کہ 30 سال سے زائد عرصہ گزرنے کے باوجود اسکول کے لیے مختص پلاٹ پر اسکول تعمیر نہیں کیا گیا، جس سے علاقے کے رہائشیوں کے بنیادی حقوق متاثر ہوئے۔ اسی بنیاد پر لاہور ہائی کورٹ نے LDA کو تین ماہ کے اندر قانونی طریقہ کار کے مطابق اس پلاٹ کو ایسے ادارے یا فریق کے حوالے کرنے کا حکم دیا جو وہاں اسکول تعمیر کرے، اور مقررہ مدت میں تعمیر نہ ہونے کی صورت میں متعلقہ قانونی کارروائی عمل میں لائی جائے۔

یہ فیصلہ ہاسنگ سوسائٹیوں کے رہائشیوں کے لیے ایک اہم نظیر ہے، جو اس اصول کو مضبوط کرتا ہے کہ عوامی سہولیات کے لیے مختص زمین کسی بھی سرکاری یا نجی ادارے کی تجارتی ملکیت نہیں بلکہ عوام کی امانت ہے، اور اسے صرف عوامی مفاد کے اسی مقصد کے لیے استعمال کیا جا سکتا ہے جس کے لیے وہ مختص کی گئی ہو۔

روزانہ مستند اور خصوصی خبریں حاصل کرنے کے لیے ڈیلی سب نیوز "آفیشل واٹس ایپ چینل" کو فالو کریں۔

WhatsAppFacebookX پچھلی خبروزیراعظم سے چینی کمپنی کے وفد کی ملاقات، غذائی تحفظ کے منصوبوں پر تبادلہ خیال اگلی خبرمقبوضہ کشمیر میں 1989 سے اب تک 96 ہزار 499 شہادتیں، ایک لاکھ 84 ہزار سے زائد گرفتاریاں: رپورٹ پاکستان میں اسمارٹ فون کا استعمال 62 سے بڑھ کر 72 فیصد تک پہنچ گیا، وزیراعظم کو بریفنگ پاکستان کو درپیش خطرات کا باعث بننے والے دہشتگردوں اور ان کے سہولتکاروں کا ہر قیمت پر خاتمہ کیا جائے گا، فیلڈ مارشل سید... صدر ٹرمپ کی پالیسی آنکھ کے بدلے سرکی ہے، ایران کو ہر گزرتی رات کیساتھ بھاری قیمت چکانا ہوگی: مارکو روبیو کا انتباہ ٹرمپ نے سعودی عرب سے سول جوہری معاہدے کو معاہدہ ابراہیمی میں شمولیت سے مشروط کردیا آزاد کشمیر کے شہر میرپور میں 45 روز بعد موبائل فون اور انٹرنیٹ سروس بحال ہونا شروع امریکا کی جانب سے ایران پر بمباری کیلئے برطانوی ائیربیس کا استعمال، پاسداران انقلاب کی برطانیہ کو سخت ردعمل کی دھمکی TikTokTikTokMail-1MailTwitterTwitterFacebookFacebookYouTubeYouTubeInstagramInstagram

Copyright © 2026, All Rights Reserved

رابطہ کریں ہماری ٹیم

متعلقہ مضامین

  • ’میری قبر پہلے ہی تیار ہے‘، موت کی تیاریوں سے متعلق عطا اللہ خان عیسیٰ خیلوی کا حیران کن بیان
  • پشاور: حیات میڈیکل کمپلیکس میں ینگ ڈاکٹرز کی ہڑتال دوسرے روز بھی جاری، مریض مشکلات سے دوچار
  • جرمنی کا بڑا فیصلہ، یکم اگست سے توسیع شدہ افغان پاسپورٹ تسلیم نہیں کیے جائیں گے
  • نئی امریکی ویزا پالیسی پاکستانی طلبہ کے لیے مشکلات کا سبب بن سکتی ہے
  • گوجرانوالہ: ایجنٹ مافیا کے خلاف ایف آئی اے کا کریک ڈاؤن، 15 گرفتار
  • گل فیروزہ، سدرہ امین اور نشرہ سندھو کی شاندار کارکردگی، پاکستان نے سری لنکا کیخلاف پہلا پہلے ون ڈے جیت لیا
  • طوفانی سیلاب سے عوام شدید مشکلات کا شکار ہیں، حکومت فوری اقدامات اٹھائے، کاظم میثم
  • لاہور ہائی کورٹ کا اہم فیصلہ: ہا ئوسنگ سوسائٹیوں کے پارک، اسکول اور مسجد کی زمین فروخت نہیں کی جا سکتی
  • عالمی مارکیٹ میں تیل کی قیمت 100 ڈالر سے تجاوز، مزید اضافے کا خدشہ
  • یو اے ای ویزا آن ارائیول کی نئی شرائط اور فیس جاری