پاک بھارت کشیدگی: پیٹرولیم مصنوعات ذخیرہ کرنے کے احکامات جاری
اشاعت کی تاریخ: 26th, April 2025 GMT
ویب ڈیسک: پاک بھارت کشیدگی کے پیش نظر حکومت نے پیٹرولیم مصنوعات کی وافر مقدار میں ذخیرہ اندوزی کے احکامات جاری کر دیے ہیں تاکہ کسی بھی ہنگامی صورتحال سے بروقت نمٹا جا سکے۔
میڈیا رپورٹس کے مطابق، پہلگام واقعے کے بعد خطے میں بڑھتی ہوئی کشیدگی کے تناظر میں آئل مارکیٹنگ کمپنیوں اور آئل ریفائنریوں کو ڈیزل اور جیٹ فیول کی زیادہ سے زیادہ دستیابی یقینی بنانے کی ہدایات دی گئی ہیں۔
گلیڈئیٹرز vs کے کے؛ روسو حسن علی کا تیسرا شکار بن گئے
ذرائع کا کہنا ہے کہ ڈائریکٹر جنرل آئل (ڈی جی آئل) نے پاکستان اسٹیٹ آئل (پی ایس او) سمیت دیگر امپورٹنگ کمپنیوں کو بھی ہدایت کی ہے کہ وہ پیٹرولیم مصنوعات کی بروقت درآمد کو یقینی بنائیں۔
ذرائع نے مزید بتایا کہ اس وقت ملک میں جیٹ فیول، ہائی اسپیڈ ڈیزل اور دیگر پیٹرولیم مصنوعات موجود ہیں اور کسی فوری قلت کا خطرہ نہیں۔ تاہم، احتیاطی تدابیر کے طور پر ہنگامی صورتحال سے نمٹنے کے لیے تمام متعلقہ ادارے متحرک ہو چکے ہیں۔
قذافی سٹیڈیم میں کوئٹہ گلیڈئیٹرز اور کراچی کنگز کے میچ میں ڈرامائی آغاز
ڈی جی آئل کی جانب سے ہدایات ملنے کے بعد تمام آئل مارکیٹنگ کمپنیوں نے اپنے اسٹاکس کو بہتر بنانے کے اقدامات شروع کر دیے ہیں۔
.
ذریعہ
ذریعہ: City 42
کلیدی لفظ: پیٹرولیم مصنوعات
پڑھیں:
سونم وانگچک نے 26 روز تک جاری رہنے والی اپنی بھوک ہڑتال ختم کر دی
بھارت کے معروف سماجی کارکن سونم وانگچک نے 26 روز تک جاری رہنے والی اپنی بھوک ہڑتال ختم کرنے کا اعلان کر دیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ طویل مذاکرات اور ملک میں ممکنہ تشدد کے خدشات کے پیش نظر یہ فیصلہ کیا گیا۔
عرب میڈیا کے مطابق سونم وانگچک نے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ایکس پر جاری بیان میں بتایا کہ مختلف شرائط پر ہونے والے طویل مذاکرات کے بعد اور ملک میں کشیدگی کے امکانات کو دیکھتے ہوئے انہوں نے اپنا احتجاج ختم کر دیا ہے۔
Just now in the presence of Union Ministers Sh. JP Nadda, Dr. Jitendra Singh and the senior leaders of Apex Body of Leh Ladakh I finally broke my fast after 26 days. Earlier 65 members of parliament from different political parties had visited or signed letters urging me to break… pic.twitter.com/RFCet7Oksy
— Sonam Wangchuk (@Wangchuk66) July 23, 202659 سالہ سونم وانگچک نے 28 جون کو بھوک ہڑتال کا آغاز کیا تھا۔ ان کی یہ ہڑتال بھارت میں نوجوانوں کی قیادت میں چلنے والی کاکروچ موومنٹ سے اظہارِ یکجہتی کے لیے تھی۔
اس تحریک کے شرکاء میڈیکل کالجوں کے داخلہ امتحانات کے پرچوں کے مبینہ لیک ہونے کے معاملے پر بھارتی وزیرِ تعلیم دھرمیندر پردھان سے استعفے کا مطالبہ کر رہے ہیں۔
مظاہرین کا مؤقف ہے کہ امتحانی نظام میں شفافیت کو یقینی بنانے اور ذمہ داروں کے خلاف کارروائی کے لیے وزیرِ تعلیم کو اپنے عہدے سے الگ ہونا چاہیے۔
سونم وانگچک کے بھوک ہڑتال ختم کرنے کے اعلان کے باوجود بھارت میں امتحانی نظام اور حکومتی پالیسیوں کے خلاف احتجاجی تحریک بدستور جاری ہے۔