سرکاری بجلی کمپنیوں کے نقصانات میں اضافہ، 9 ماہ میں 143 ارب روپے کا خسارہ
اشاعت کی تاریخ: 26th, April 2025 GMT
ویب ڈیسک: سرکاری بجلی تقسیم کار کمپنیوں (ڈسکوز) کے مالی نقصانات میں رواں مالی سال کے دوران خطرناک حد تک اضافہ ہوا ہے۔
حکومتی ذرائع کے مطابق جولائی 2024 سے مارچ 2025 کے دوران ڈسکوز کے نقصانات 41 ارب روپے بڑھ کر 143 ارب روپے تک پہنچ گئے ہیں، جو گزشتہ سال اسی عرصے میں 102 ارب روپے تھے۔
ذرائع کا کہنا ہے کہ اگرچہ مالی نقصانات میں اضافہ ہوا ہے تاہم وصولیوں (ریکوری) میں واضح بہتری دیکھنے میں آئی ہے۔ رواں مالی سال کے پہلے 9 ماہ میں ڈسکوز کی انڈر ریکوریز میں 184 ارب روپے کی کمی ہوئی ہے جو گزشتہ سال 262 ارب روپے سے گھٹ کر 78 ارب روپے رہ گئی ہیں۔
گلیڈئیٹرز vs کے کے؛ روسو حسن علی کا تیسرا شکار بن گئے
ذرائع کے مطابق ڈسکوز کے یہ مالی نقصانات اور انڈر ریکوریز پاور سیکٹر کے سرکلر ڈیٹ کا حصہ بن رہے ہیں جس سے ملک کی معاشی صورتحال پر منفی اثرات مرتب ہو رہے ہیں۔
واضح رہے کہ شہباز حکومت نے رواں مالی سال کے دوران بجلی کے بنیادی ٹیرف میں فی یونٹ 7.
ذریعہ
ذریعہ: City 42
کلیدی لفظ: ارب روپے
پڑھیں:
پیٹرول اور ڈیزل کے بعد مٹی کے تیل کی قیمت میں بھی بڑا اضافہ
اسلام آباد: مٹی کے تیل کی قیمت میں ایک بار پھر نمایاں اضافہ کر دیا گیا ہے، جبکہ پیٹرول اور ہائی اسپیڈ ڈیزل بھی مزید مہنگے ہو گئے ہیں۔ آئل اینڈ گیس ریگولیٹری اتھارٹی (اوگرا) اور پیٹرولیم ڈویژن نے نئی قیمتوں کے نوٹیفکیشن جاری کر دیے ہیں، جن کا اطلاق فوری طور پر کر دیا گیا ہے۔
اوگرا کی جانب سے جاری نوٹیفکیشن کے مطابق مٹی کے تیل کی قیمت میں 7 روپے 80 پیسے فی لیٹر اضافہ کیا گیا ہے، جس کے بعد اس کی نئی قیمت 297 روپے 17 پیسے فی لیٹر مقرر کر دی گئی ہے۔ اس سے قبل مٹی کا تیل 289 روپے 37 پیسے فی لیٹر میں دستیاب تھا۔
حکام کے مطابق صرف تین روز کے دوران مٹی کے تیل کی قیمت میں مجموعی طور پر 14 روپے 58 پیسے فی لیٹر اضافہ ریکارڈ کیا گیا ہے، جس کے باعث خصوصاً سرد علاقوں اور گھریلو صارفین پر مالی بوجھ مزید بڑھنے کا امکان ہے۔
دوسری جانب پیٹرولیم ڈویژن نے بھی پیٹرول اور ہائی اسپیڈ ڈیزل کی نئی قیمتوں کا اعلان کر دیا ہے۔ نوٹیفکیشن کے مطابق پیٹرول کی قیمت میں 6 روپے 39 پیسے فی لیٹر اضافہ کیا گیا ہے، جس کے بعد نئی قیمت 327 روپے 12 پیسے فی لیٹر ہو گئی ہے۔
اسی طرح ہائی اسپیڈ ڈیزل 7 روپے 83 پیسے فی لیٹر مہنگا ہونے کے بعد 375 روپے 04 پیسے فی لیٹر میں فروخت ہوگا۔
اعلامیے کے مطابق نئی قیمتوں کا اطلاق 23 جولائی 2026 سے کر دیا گیا ہے۔ اس سے قبل بھی پیٹرول اور ڈیزل کی قیمتوں میں اضافہ کیا گیا تھا، جس کے بعد مسلسل بڑھتی ہوئی ایندھن کی قیمتوں نے عوام، ٹرانسپورٹ سیکٹر، زرعی شعبے اور کاروباری سرگرمیوں پر اضافی مالی دباؤ بڑھا دیا ہے۔
معاشی ماہرین کا کہنا ہے کہ اگر عالمی منڈی میں خام تیل کی قیمتوں میں استحکام نہ آیا تو آئندہ بھی پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں مزید ردوبدل کا امکان موجود ہے۔