اسرائیل کی پالیسی پر چلتے ہوئے مودی مقبوضہ کشمیر کو غزہ بنانے کی کوشش کررہا ہے، عرفان صدیقی
اشاعت کی تاریخ: 26th, April 2025 GMT
مسلم لیگ (ن ) کے سینیٹر عرفان صدیقی نے کہا ہے کہ اسرائیل کی پالیسی پر چلتے ہوئے مودی مقبوضہ کشمیر کو غزہ بنانے کی کوشش کررہا ہے۔
سماجی رابطے کی ویب سائٹ ایکس پر جاری اپنے ایک بیان میں انہوں نے کہا کہ بھارت اب سب سے بڑی جمہوریت نہیں، مسلمان اور دیگر اقلیتوں کی سب سے بڑی قتل گاہ بن چکا ہے۔
ان کا کہنا تھا کہ اسرائیل کی پالیسی پر چلتے ہوئے نریندر مودی مقبوضہ کشمیرکو، فلسطین اور غزہ بنانے کی کوشش کررہا ہے۔
عرفان صدیقی نے کہا کہ پاکستان کا پانی بند کرنے کی دھمکی دینے والے بھارت کو معلوم ہونا چاہئیے کہ ہمارے دریاؤں کا گلا گھوٹنے کے لئے کسی رکاوٹ، کسی ڈیم پر لگنے والی پہلی اینٹ کا جواب پتھر سے دیا جائے گا- اس کا رد عمل وہی ہوگا جو کسی اعلان جنگ کاہونا چاہئیے۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Express News
پڑھیں:
سعودیہ کی ابراہم معاہدوں میں شمولیت مشرقِ وسطیٰ میں تاریخی پیش رفت ہوگی، نیتن یاہو
عالمی خبر رساں ادارے کے مطابق اسرائیلی وزیراعظم کا اپنے بیان میں کہنا تھا کہ سعودی عرب کی ابراہم معاہدوں میں شمولیت نہ صرف اسرائیل اور عرب دنیا کے تعلقات میں ایک نئے باب کا آغاز کرے گی بلکہ پورے خطے میں استحکام، تعاون اور امن کے امکانات بھی بڑھ جائیں گے۔ اسلام ٹائمز۔ اسرائیلی وزیراعظم بنیامین نیتن یاہو نے کہا ہے کہ اگر سعودی عرب ابراہم معاہدوں میں شامل ہو جاتا ہے تو یہ مشرقِ وسطیٰ میں امن کے لیے ایک "تاریخی جست" ثابت ہوگی۔ عالمی خبر رساں ادارے کے مطابق نیتن یاہو نے اپنے بیان میں کہا کہ سعودی عرب کی ابراہم معاہدوں میں شمولیت نہ صرف اسرائیل اور عرب دنیا کے تعلقات میں ایک نئے باب کا آغاز کرے گی بلکہ پورے خطے میں استحکام، تعاون اور امن کے امکانات بھی بڑھ جائیں گے۔
اسرائیلی وزیراعظم کا یہ بیان امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی جانب سے سعودی عرب کے مجوزہ سول جوہری معاہدے کو اسرائیل سے تعلقات معمول پر لانے سے مشروط کیے جانے کے بعد سامنے آیا ہے۔ صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے اپنے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ٹروتھ سوشل پر کہا تھا کہ امریکا اور سعودی عرب کے درمیان مجوزہ سول جوہری معاہدے کی حتمی منظوری اس وقت تک نہیں دی جائے گی جب تک سعودی عرب ابراہم معاہدوں میں شامل نہیں ہو جاتا۔
ٹرمپ نے یہ بھی واضح کیا تھا کہ مجوزہ معاہدہ صرف پُرامن اور غیر فوجی مقاصد کے لیے ہوگا اور اس کے تحت سعودی عرب کو یورینیئم افزودگی کی اجازت نہیں دی جائے گی۔واضح رہے کہ ایک روز قبل جب اس مجوزہ جوہری معاہدے کی ابتدائی منظوری کا اعلان کیا گیا تھا تو صدر ٹرمپ نے اسے سعودی عرب اور اسرائیل کے تعلقات معمول پر لانے کی شرط سے منسلک نہیں کیا تھا، تاہم بعد ازاں انہوں نے واضح کیا کہ دونوں معاملات ایک دوسرے سے وابستہ ہیں۔