لاہور(نیوزڈیسک) پہلگام فالس فلیگ کے بعد سوشل میڈیا پر ایک تصویر وائرل ہو رہی ہے، جس میں واقعے میں مشتبہ دہشت گرد کا ایسا خاکہ بنایا گیا جو قومی کرکٹر بابراعظم سے مشابہت رکھ رہا تھا۔

تصویر شیئر کرنے کے ساتھ دعویٰ کیا گیا کہ بھارتی نیوز چینل انڈیا ٹوڈے پر مشتبہ دہشت گرد کا خاکہ منظرعام پر لایا گیا جو بابراعظم سے مل رہا تھا۔

یہ دعویٰ مختلف فیس بک اور سوشل میڈیا پوسٹس کے ذریعے ہزاروں صارفین تک پہنچا اور صرف ایک پوسٹ پر ہی دو ہزار سے زائد ردعمل سامنے آئے۔

پہلگام حملے کے اگلے دن فیسبک پر ایک صارف نے انڈیا ٹوڈے کی ایک خبر کا اسکرین شاٹ شیئر کیا، جس میں 3 مشتبہ حملہ آوروں کے خاکے دکھائے گئے تھے۔

صارف کے مطابق ان میں سے ایک خاکہ بابر اعظم سے ملتا جلتا تھا۔ اس حیران کن دعوے کی سچائی معلوم کرنے کے لیے آئی ویریفائی پاکستان نامی فیکٹ چیکنگ ٹیم نے اس تصویر کا جائزہ لیا۔

تحقیق کا نتیجہ سامنے آیا جس میں مذکورہ خاکے میں دکھائے جانے والے بابراعظم سے متعلق حقیقت سامنے آئی۔ اس تحقیق کے بعد یہ نتیجہ اخذ کیا گیا کہ وائرل ہونے والی تصویر ترمیم شدہ تھی اور بابر اعظم کو اس حملے سے جوڑنے کا دعویٰ گمراہ کن تھا۔

آرمی چیف کا نعرہ ”پاکستان ہمیشہ زندہ باد“ ہر زباں کا ورد بن گیا، نیا نغمہ ریلیز

.

ذریعہ

ذریعہ: Daily Ausaf

پڑھیں:

لبنان میں اسرائیلی حملے پر بھارتی وزیراعظم نریندر مودی خاموش کیوں ہیں، جے رام رمیش

کانگریس لیڈر نے کہا کہ لیکن یہ بات چیت اب تک حتمی شکل نہیں لے سکی ہے، جسکی اہم وجہ لبنان میں اسرائیل کی جاری فوجی کارروائی ہے، جس میں غیر معمولی دراندازی دیکھنے کو ملی ہے۔ اسلام ٹائمز۔ امریکی صدر ڈونالڈ ٹرمپ کے ذریعہ اسرائیلی وزیر اعظم نیتن یاہو کو مبینہ طور پر پھٹکار لگائے جانے کے متعلق خبروں پر انڈین نیشنل کانگریس کا ردعمل سامنے آیا ہے۔ کانگریس کا کہنا ہے کہ لبنان میں اسرائیلی حملے کی ہر کوئی مذمت کر رہا ہے، لیکن وزیر اعظم مودی اس پر خاموشی اختیار کئے ہوئے ہیں۔ کانگریس کے جنرل سکریٹری اور راجیہ سبھا رکن جے رام رمیش نے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ایکس پر لکھا کہ مغربی ایشیا میں جنگ کو روکنے کے لئے امریکہ اور ایران کے درمیان بات چیت جاری ہے۔ ایسے کسی معاہدہ کا فوری اثر آبنائے ہرمز کے پھر سے کھلنے اور تیل کی قیمتوں پر دباؤ کم ہونے کے طور پر سامنے آئے گا اور ان دونوں معاملوں سے ہندوستان کے بڑے مفادات جڑے ہوئے ہیں۔

جے رام رمیش اپنی ایکس پوسٹ میں مزید لکھتے ہیں کہ لیکن یہ بات چیت اب تک حتمی شکل نہیں لے سکی ہے، جس کی اہم وجہ لبنان میں اسرائیل کی جاری فوجی کارروائی ہے، جس میں غیر معمولی دراندازی دیکھنے کو ملی ہے۔ ساتھ ہی انہوں نے لکھا کہ خود صدر ٹرمپ نے بنجامن نیتن یاہو کو لے کر بے حد ناراضگی اور غصہ ظاہر کیا  ہے، یہاں تک کہ نازیبا الفاظ کا بھی استعمال کیا ہے۔ کانگریس کے راجیہ سبھا رکن جے رام رمیش کے مطابق دنیا کے کئی دیگر ممالک نے بھی لبنان میں اسرائیل کے حملے کی مذمت کی ہے۔

حیرانی کی بات نہیں کہ جس ایک حکومت کے سربراہ نے اسرائیل کے ذریعہ لبنان کو تباہ کرنے اور امریکہ-ایران معاہدے کو پٹری سے اتارنے کی کوششوں پر مکمل طور سے خاموشی اختیار کئے ہوئے ہیں، وہ بھارتی وزیراعظم نریندر مودی ہیں۔ انہوں نے طنزیہ انداز میں لکھا کہ کیا نام نہاد فادر لینڈ ان کے لئے ان کے اصل مدر لینڈ سے کہیں زیادہ اہمیت رکھتی ہے۔

متعلقہ مضامین

  • سہیل آفریدی کا 10 جون کو قومی اسمبلی کے سامنے دھرنا دینے اور بجٹ کی منظوری روکنے کا اعلان
  • لبنان میں اسرائیلی حملے پر بھارتی وزیراعظم نریندر مودی خاموش کیوں ہیں، جے رام رمیش
  • جاپان میں جنگلی ریچھ نے حملے کر کے چار افراد کو زخمی کر دیا
  •  یکم جون سے فیس لیس چالان سسٹم کا آغاز،پہلے دن کتنے چالان جاری ہوئے؟ تفصیلات سامنے آگئی
  • مہاجرین کی نشستوں کے مستقبل پر بڑا فیصلہ قریب، اہم پیش رفت سامنے آگئی
  • معروف میکسیکن انفلوئنسر گھر میں مردہ پائی گئیں، قتل کا شبہ
  • مری میں بیچلرز کے داخلے پر پابندی؟ حقیقت سامنے آگئی
  • بھارت: میسی کا 70 فٹ بلند مجسمہ حفاظتی خدشات کے باعث ہٹا دیا گیا
  • افغان ٹیم پہلی بار بھارت میں ٹی ٹوئنٹی سیریز کی میزبانی کرے گی
  • ٹک ٹاکر حکیم بابر کیس میں ملزمان کا موقف بھی سامنے آگیا