وزیراعلیٰ مریم نواز نے ایئر پنجاب، لاہور تا راولپنڈی بلٹ ٹرین منصوبوں کی منظوری دیدی
اشاعت کی تاریخ: 26th, April 2025 GMT
پنجاب حکومت نے ’فضا میں بلند پرواز، زمین پر تیز ترین رفتار‘ کے وژن کے تحت پاکستان کی پہلی صوبائی ایئر لائن اور پاکستان کی پہلی بلٹ ٹرین چلانے کی تیاری کرلی۔
نجی ٹی وی کے مطابق وزیراعلیٰ پنجاب مریم نوازشریف نے خصوصی اجلاس میں ’ایئر پنجاب پروجیکٹ‘ کی منظوری دے دی، اجلاس میں لاہور سے راولپنڈی تک بلٹ ٹرین پروجیکٹ کی بھی اصولی منظوری دی گئی۔
مریم نواز شریف کی زیر صدارت اجلاس میں فیصلہ کیا گیا کہ ایئرپنجاب کے لیے فوری طور پر 4 طیارے ایئر بس سے لیز پر لیے جائیں گے۔
اجلاس میں کیے گئے فیصلے کے مطابق ابتدائی طور پر ایئر پنجاب اندرون ملک ڈومیسٹک پروازیں شروع کرے گی، ایک سال کا عرصہ مکمل ہونے کے بعد ایئر پنجاببیرون ملک پروازیں بھی شروع کر سکے گی۔
وزیراعلیٰ پنجاب نے ایئر پنجاب کے لیے جدید ترین طیارے لیز پر لینے کے لیے فوری انتظامات کرنے کی ہدایت کر دی، انہوں نے کہا کہ ایئر پنجاب کو ملک کی بہترین ایئر لائن بنانے کے لیے ضروری انتظامات یقینی بنائے جائیں۔
اجلاس میں لاہور سے راولپنڈی تک پہلی بلٹ ٹرین کے پروجیکٹ پر تفصیلی بریفنگ بھی دی گئی، اجلاس کو بتایا گیا کہ بلٹ ٹرین کے ذریعے لاہور سے راولپنڈی کے سفر کا دورانیہ تقریباً ڈھائی گھنٹے کا ہو جائے گا۔
وزیراعلیٰ کی زیرصدارت اجلاس میں پاکستان ریلوے کے اشتراک سے تیز ترین بلٹ ٹرین چلانے کے لیے مختلف آپشن کا جائزہ لیا گیا، وزیراعلیٰ مریم نوازشریف نے سینئر وزیر مریم اورنگزیب کو پاکستان ریلوے سے اشتراک کا ٹاسک تفوض کر دیا۔
اجلاس میں مریم نواز نے ہدایت کی کہ بلٹ ٹرین پروجیکٹ کے لیے پبلک پرائیویٹ پارٹنر شپ کے آپشن پر بھی غور کیا جائے، پنجاب کے مزید 6 روٹس پر ہائی اسپیڈ ٹرین چلانے کے لیے بھی منصوبہ طلب کرلیا گیا۔
اجلاس میں فیصلہ کیا گیا کہ لاہور سے شاہدرہ، اور نارووال تک ہائی اسپیڈ ٹرین چلائی جائے گی، لاہور سے رائیونڈ، قصور، پاکپتن سے لودھراں تک ہائی اسپیڈ ٹرین چلے گی، قلعہ شیخوپورہ، جڑانوالہ سے شور کوٹ تک ہائی اسپیڈ ٹرین کا روٹ ہوگا۔
اجلاس کو بتایا گیا کہ ہائی اسپیڈ ٹرین شور کوٹ سے جھنگ اور جھنگ سے سرگودھا تک چلائی جائے گی، اسی طرح لالا موسیٰ سے سرگودھا براستہ ملکوال ہائی اسپیڈ ٹرین چلائی جائے گی، فیصل آباد سے چک جھمرہ اور شاہین آباد تک ہائی اسپیڈ ٹرین کا روٹ ہوگا۔
وزیراعلیٰ پنجاب مریم نوازشریف کی زیر صدارت اجلاس میں لاہور یلو لائن اور ماس ٹرانزٹ لائن گوجرانوالہ منصوبے کا جائزہ بھی لیا گیا، جناح ٹرمینل ٹھوکر نیاز بیگ تا ہربنس پورہ یلو لائن پروجیکٹ اسٹڈی 30 مئی تک مکمل کرنے کی ہدایت کی گئی۔
گوجرانوالہ ماس ٹرانزٹ لائن کی پروجیکٹ سٹڈی کے لیے 15جون کی ڈیڈ لائن مقرر کردی گئی۔
اجلاس میں وزیراعلیٰ پنجاب کو ای- ٹیکسی پروجیکٹ کے بارے میں تفصیلی بریفنگ بھی دی گئی۔
Post Views: 1.
ذریعہ
ذریعہ: Daily Mumtaz
کلیدی لفظ: ایئر پنجاب اجلاس میں بلٹ ٹرین لاہور سے گیا کہ کے لیے
پڑھیں:
پی ایس ڈی پی میں ارکان پارلیمنٹ اور ترقیاتی منصوبوں کیلئے اربوں روپے مختص کرنے کی تجویز
اسلام آباد: پی ایس ڈی پی 2026-27 کے تحت وفاقی حکومت نے ارکان پارلیمنٹ کے ترقیاتی منصوبوں سمیت مختلف شعبوں کے لیے اربوں روپے مختص کرنے کی تجویز پیش کر دی ہے۔ بجٹ دستاویزات کے مطابق آئندہ مالی سال میں ترقیاتی منصوبوں کے ذریعے گورننس، ٹیکنالوجی، توانائی اور خواتین کی فلاح و بہبود کو خصوصی ترجیح دی جائے گی۔
دستاویزات کے مطابق پائیدار ترقیاتی اہداف (SDGs) اچیومنٹ پروگرام کے تحت ارکان پارلیمنٹ کے ترقیاتی منصوبوں کے لیے 70 ارب روپے مختص کرنے کی سفارش کی گئی ہے۔ اس کے علاوہ کابینہ ڈویژن کے مختلف ترقیاتی منصوبوں کے لیے 2 ارب روپے جبکہ اسٹیبلشمنٹ ڈویژن کے منصوبوں کے لیے ایک ارب 70 کروڑ روپے رکھنے کی تجویز دی گئی ہے۔
پی ایس ڈی پی 2026-27 میں پارلیمنٹ لاجز کی اپ گریڈیشن کے لیے 5 کروڑ 60 لاکھ روپے مختص کرنے کی سفارش کی گئی ہے۔ اسی طرح نیشنل آرکائیوز آف پاکستان کی بحالی اور جدید خطوط پر استوار کرنے کے منصوبے کے لیے 5 ارب 50 کروڑ روپے تجویز کیے گئے ہیں۔
توانائی کے شعبے میں سرکاری عمارتوں میں شمسی توانائی کے نظام کی بہتری اور توانائی بچت اقدامات کے لیے 19 کروڑ 40 لاکھ روپے رکھنے کی سفارش کی گئی ہے۔
وفاقی دارالحکومت میں جدید ٹیکنالوجی حب کے قیام کے لیے اسلام آباد ٹیکنوپولس منصوبے پر ایک ارب 58 کروڑ روپے سے زائد خرچ کیے جانے کا امکان ہے، جبکہ فیڈرل پبلک سروس کمیشن (FPSC) کے امتحانی نظام کو ڈیجیٹل بنانے کے لیے 70 کروڑ روپے سے زائد فنڈز مختص کرنے کی تجویز دی گئی ہے۔
خواتین کی فلاح و بہبود کے منصوبوں کے تحت اسلام آباد میں ورکنگ ویمن ہاسٹل کے قیام کے لیے 16 کروڑ 70 لاکھ روپے جبکہ خواتین افسران کے لیے رہائشی سہولیات کی فراہمی کے منصوبے پر 82 کروڑ روپے سے زائد خرچ کیے جانے کا تخمینہ لگایا گیا ہے۔
بجٹ دستاویزات کے مطابق آئندہ مالی سال میں ڈیجیٹل گورننس، سرکاری اداروں کی استعداد کار بڑھانے، توانائی بچت اور جدید ٹیکنالوجی کے فروغ پر خصوصی توجہ دی جائے گی۔