گرمی بڑھتے ہی ٹھنڈے مشروبات کی مانگ میں اضافہ
اشاعت کی تاریخ: 26th, April 2025 GMT
—فائل فوٹو
ملک کے میدانی علاقوں میں گرمی کی شدت میں اضافہ ہو گیا ہے۔
ملک کے بیشر علاقوں میں شدید گرمی نے لوگوں کو گھروں میں محدود کر دیا ہے۔
شدید گرمی کی وجہ سے برف اور ٹھنڈے مشروبات کی مانگ میں اضافہ ہو گیا ہے، جس کی وجہ سے کارخانوں کے مالکان نے برف کی قیمتیں بڑھا دیں۔
جھلسا دینے والی گرمی میں پیاس بجھانے کے لیے شہری روایتی مشروبات سے لطف اندوز ہوتے نظر آ رہے ہیں۔
پنجاب ڈیزاسٹر مینجمنٹ اتھارٹی نے درجۂ حرارت میں اضافے اور ہیٹ ویو کا الرٹ جاری کر دیا۔
شدید گرمی کے باعث کئی شہروں میں لوڈشیڈنگ کا دورانیہ 12 گھنٹوں سے تجاوز کر گیا ہے، جس کے سبب شہری شدید مشکلات سے دو چار ہیں۔
محکمۂ موسمیات کے مطابق آئندہ 24 گھنٹوں کے مطابق ملک کے بیشتر علاقوں میں موسم گرم اور خشک رہنے کا امکان ہے تاہم خیبرپختون خوا، گلگت بلتستان اور کشمیر میں مطلع جزوی ابر آلود رہنے کے علاوہ چند مقامات پر گرج چمک اور ہلکی بارش ہو سکتی ہے۔
آج سے یکم مئی کے دوران سندھ، جنوبی پنجاب اور بلوچستان میں دن کا درجۂ حرارت معمول سے 5 سے 7 جبکہ 27 سے 30 اپریل کے دوران بالائی پنجاب، اسلام آباد، خیبر پختون خوا، کشمیر، گلگت بلتستان میں 4 سے 6 ڈگری سینٹی گریڈ زیادہ رہنے کا امکان ہے۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Jang News
پڑھیں:
مستونگ میں سیشن جج عبدالحکیم کاکڑ فائرنگ میں شہید، گن مین بھی جاں بحق
بلوچستان کے ضلع مستونگ میں قومی شاہراہ پر نامعلوم مسلح افراد کی فائرنگ کے نتیجے میں سیشن جج عبدالحکیم کاکڑ اور ان کے گن مین شہید ہوگئے، جبکہ ایڈیشنل سیشن جج طارق لاشاری سمیت دو افراد شدید زخمی ہو گئے۔ واقعے کے بعد قانون نافذ کرنے والے اداروں نے علاقے کو گھیرے میں لے کر حملہ آوروں کی تلاش اور تحقیقات کا آغاز کر دیا ہے۔
ڈپٹی کمشنر مستونگ بہرام سلیم کے مطابق سیشن جج عبدالحکیم کاکڑ کوئٹہ سے مستونگ جا رہے تھے کہ قومی شاہراہ پر نامعلوم مسلح افراد نے ان کی گاڑی پر اندھا دھند فائرنگ کر دی۔ حملے کے نتیجے میں سیشن جج اور ان کے گن مین موقع پر ہی شہید ہوگئے، جبکہ گاڑی میں سوار ایڈیشنل سیشن جج طارق لاشاری سمیت دو افراد شدید زخمی ہوئے۔
واقعے کے فوری بعد شہداء اور زخمیوں کو قریبی اسپتال منتقل کیا گیا، جہاں زخمیوں کو طبی امداد فراہم کی جا رہی ہے۔ سکیورٹی فورسز نے جائے وقوعہ کو گھیرے میں لے کر شواہد اکٹھے کیے اور حملہ آوروں کی گرفتاری کے لیے سرچ آپریشن شروع کر دیا ہے۔
دوسری جانب بلوچستان بار کونسل نے حملے کو نظامِ انصاف پر دہشت گردانہ حملہ قرار دیتے ہوئے شدید مذمت کی ہے۔ بار کونسل نے واقعے کے خلاف صوبہ بھر میں دو روزہ عدالتی ہڑتال اور تین روزہ سوگ کا اعلان کیا ہے۔ اعلامیے میں ججز، وکلا اور شہریوں کی سکیورٹی یقینی بنانے، حملے میں ملوث عناصر کی فوری گرفتاری اور انہیں قانون کے مطابق سزا دینے کا مطالبہ بھی کیا گیا۔
وزیراعلیٰ بلوچستان میر سرفراز بگٹی اور صوبائی وزیر داخلہ میر ضیاء اللہ لانگو نے بھی واقعے کی سخت الفاظ میں مذمت کرتے ہوئے شہداء کے اہل خانہ سے اظہار تعزیت کیا۔ انہوں نے متعلقہ اداروں کو حملہ آوروں کی فوری گرفتاری اور واقعے کی جامع تحقیقات کی ہدایت دیتے ہوئے کہا کہ ذمہ دار عناصر کو قانون کی گرفت سے نہیں بچنے دیا جائے گا۔