فیصل آباد، جواد رضا ایڈووکیٹ ایم ڈبلیو ایم کے ضلعی صدر منتخب
اشاعت کی تاریخ: 26th, April 2025 GMT
اجلاس میں وائس چیئرمین مجلس وحدت مسلمین پاکستان علامہ سید احمد اقبال رضوی اور صدر مجلس وحدت مسلمین پنجاب علامہ سید علی اکبر کاظمی شریک ہوئے۔ اجلاس میں فیصل آباد کی پانچ تحصیلوں اور اٹھارہ یونٹس نے بھرپور شرکت کی۔ اس موقع پر ڈاکٹر افتخار حسین نقوی کی خدمات کو بھی خراج تحسین پیش کیا گیا۔ اسلام ٹائمز۔ مدینہ ٹاؤن فیصل آباد کے زیڈ بلاک کی علیؑ مسجد و امام بارگاہ میں مجلس وحدت مسلمین ضلع فیصل آباد کی ضلعی شوریٰ کا اجلاس منعقد ہوا۔ جس میں شہر بھر سے تنظیمی کارکنان نے شرکت کی۔ اجلاس میں انٹرا پارٹی الیکشن کا انعقاد کیا گیا، جس میں اتفاقِ رائے سے جواد رضا ایڈووکیٹ کو ضلعی صدر منتخب کر لیا گیا۔ اجلاس میں وائس چیئرمین مجلس وحدت مسلمین پاکستان علامہ سید احمد اقبال رضوی اور صدر مجلس وحدت مسلمین پنجاب علامہ سید علی اکبر کاظمی شریک ہوئے۔ اجلاس میں فیصل آباد کی پانچ تحصیلوں اور اٹھارہ یونٹس نے بھرپور شرکت کی۔ اس موقع پر ڈاکٹر افتخار حسین نقوی کی خدمات کو بھی خراج تحسین پیش کیا گیا۔ علامہ احمد اقبال رضوی نے اپنے خطاب میں مسئولین کو اپنی ذمہ داریوں کے حوالے سے آگاہی دی۔ علامہ احمد اقبال رضوی نے ضلعی صدر کے نام کا اعلان کیا تو فضا بلندو بانگ نعروں سے گونج اُٹھی۔ جواد رضا ایڈووکیٹ پر گل پاشی کی گئی اور علامہ احمد اقبال رضوی نے نومنتخب ضلعی صدر سے حلف لیا۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Islam Times
کلیدی لفظ: احمد اقبال رضوی علامہ سید اجلاس میں
پڑھیں:
ماریہ شہباز کیس: وفاقی آئینی عدالت نے نظرثانی درخواست پر اٹارنی جنرل اور ایڈووکیٹ جنرل پنجاب کو نوٹس جاری کر دیے
وفاقی آئینی عدالت نے اسلام قبول کرکے شادی کرنے والی ماریہ شہباز سے متعلق نظرثانی درخواست پر وفاقی اٹارنی جنرل اور ایڈووکیٹ جنرل پنجاب کو نوٹس جاری کرتے ہوئے ان سے معاونت طلب کر لی، جبکہ مقدمے کی مزید سماعت غیر معینہ مدت تک ملتوی کر دی۔
جسٹس حسن اظہر رضوی کی سربراہی میں 2 رکنی بینچ نے درخواست کی سماعت کی۔ دوران سماعت درخواست گزار کے وکیل نے مؤقف اختیار کیا کہ ماریہ شہباز کم عمر تھی اور اسے ورغلا کر مذہب تبدیل کروایا گیا، جبکہ عدالت نے اپنے سابق فیصلے میں کم سن بچی کے نکاح کو درست قرار دیا۔
یہ بھی پڑھیں:پنجاب میں لاپتا لڑکیوں میں سے 80 فیصد نے پسند کی شادیاں کیں، پولیس کی لاہور ہائیکورٹ کو رپورٹ
جسٹس حسن اظہر رضوی نے استفسار کیا کہ سابق عدالتی فیصلے میں غلطی کیا ہے؟ درخواست گزار کے وکیل نے جواب دیا کہ قانون کے مطابق شادی کے لیے 18 سال عمر کی حد مقرر ہے اور قانون کے خلاف ہونے والی شادی برقرار نہیں رہ سکتی۔
اس پر جسٹس حسن اظہر رضوی نے ریمارکس دیے کہ قانون میں کم عمری کی شادی پر سزا کا ذکر تو موجود ہے، تاہم نکاح کو خودکار طور پر منسوخ قرار دینے کی کوئی شق موجود نہیں۔ انہوں نے یہ سوال بھی اٹھایا کہ اگر کم عمری میں شادی ہو جائے تو قانون اس صورت حال کا کیا حل فراہم کرتا ہے۔
عدالت نے مزید ریمارکس دیے کہ ماریہ شہباز نے ڈسٹرکٹ کورٹ سے لے کر وفاقی آئینی عدالت تک کسی بھی مرحلے پر یہ مؤقف اختیار نہیں کیا کہ اس کے ساتھ زبردستی کی گئی تھی۔ جسٹس حسن اظہر رضوی نے کہا کہ اگر درخواست گزار اس مؤقف پر اصرار کرتا ہے تو عدالت اٹارنی جنرل اور ایڈووکیٹ جنرل پنجاب سے قانونی معاونت حاصل کر لیتی ہے۔
یہ بھی پڑھیں: پسند کی شادی کیخلاف گاؤں نذرِ آتش کرنیکا واقعہ، وزیراعلیٰ سندھ کا سخت نوٹس
عدالت نے سماعت کے دوران وفاقی اٹارنی جنرل اور ایڈووکیٹ جنرل پنجاب کو نوٹس جاری کرتے ہوئے مقدمے کی مزید سماعت غیر معینہ مدت تک ملتوی کر دی۔
واضح رہے کہ وفاقی آئینی عدالت نے 26 مارچ کو ماریہ شہباز کو والد کے حوالے کرنے کی درخواست مسترد کرتے ہوئے قرار دیا تھا کہ تنسیخ نکاح کے لیے متعلقہ فریق سول کورٹ سے رجوع کر سکتے ہیں۔ عدالت نے اپنے فیصلے میں یہ بھی واضح کیا تھا کہ حبسِ بے جا اور حوالگی کی درخواستوں کی سماعت کے دوران نکاح کی تنسیخ کا فیصلہ نہیں کیا جا سکتا۔
آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں
چائلڈ میرج قبول اسلام ماریہ شہباز وفاقی آئینی عدالت