گزشتہ 3 سالوں میں 26 لاکھ پاکستانی ملک چھوڑ گئے، یہ برین ڈرین اور حکومتوں کی نااہلی ہے
اشاعت کی تاریخ: 26th, April 2025 GMT
لاہور (اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین۔ 26 اپریل 2025ء) نائب امیر جماعتِ اسلامی، صدر مجلسِ قائمہ سیاسی قومی اُمور لیاقت بلوچ نے بلوچستان اور اسلام آباد کے چار روزہ دورہ کے بعد لاہور منصورہ میں سیاسی مشاورتی اجلاس اور ہڑتالی کمیٹیوں کے وزٹ کے موقع پر کہا کہ ملک گیر ہڑتال میں تاجر برادری نے شٹرڈاؤن ہڑتال کی طاقت سے اسرائیلی اور بھارتی ظلم کے خلاف اپنے قومی اور انسانیت کے احترام پر مبنی جذبے کے ذریعے زبردست وابستگی کا اظہار کیا ہے۔
پاکستان کے 25 کروڑ عوام پوری دُنیا میں انسانوں پر ظلم اور جبر کے خلاف ہیں۔ عالمی برادری فلسطین اور جموں و کشمیر کا مسئلہ حل کرائے وگرنہ اسلامی ممالک ہی نہیں پوری دُنیا کا امن تباہ رہے گا، دہشت گردی فروغ پائے گی اور بیگناہ انسان جنگی جرائم کا شکار رہیں گے۔(جاری ہے)
لیاقت بلوچ نے سیاسی مشاورتی اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ بھارتی فاشسٹ مودی حکومت نے جموں و کشمیر کے عوام سے جمہوری بنیادی حقوق چھین لیے، بھارت میں اقلیتوں اور پسماندہ اقوام پر ظلم نے بھارتی سورماؤں، پنڈتوں اور اقتدار کے نشے میں بدمست حکمرانوں کے خلاف بغاوت پیدا کردی ہے۔
منی پور میں عیسائیوں کے خلاف نفرت انگیزی، جلاؤ گھیراؤ اور قتلِ عام، سکھوں کے خلاف بھارت کے اندر اور باہر دہشت گرد کارروائیاں اور مسلمانوں کے خلاف عرصہ دراز سے جاری نفرت، تعصب اور ظلم پر مبنی ہندو انتہاپسندانہ سرگرمیوں سے بھارت عملاً ایک ہندو انتہا پسند اسٹیٹ بن گیا ہے۔ بھارتیہ جنتا پارٹی (بی جے پی) کے تحت مودی حکومت بھارت کے لیے گورباچوف ثابت ہورہی ہے۔ بھارتی حکمرانوں، پالیسی سازوں نے ہوش و تحمل سے کام نہ لیا تو خطہ کے ساتھ خود بھارت تباہ ہوگا۔ بھارت کی طرف سے دریائے جہلم و چناب کا پانی روکنا اور سندھ طاس معاہدے کو یکطرفہ طور پر معطل کرنا آبی دہشت گردی ہے۔ یہ اقدام مودی سرکار کو بہت مہنگا پڑے گا اور اس کے نتیجے میں بھارت خود پانی کے بحران کا شکار ہوگا۔ 25 کروڑ پاکستانی عوام پوری قوت اور اخوت کیساتھ ہر قسم کی بھارتی جارحیت کا جواب جذبہ جہاد کے ذریعے دیں گے۔ قومی سلامتی کی پارلیمانی کمیٹی نے بروقت اور درست فیصلے کیے ہیں، حکومت اور فوج ملک میں سیاسی بحران کے خاتمہ کے لیے اِسی اسپرٹ کیساتھ تمام سیاسی قوتوں کیساتھ مل کر لائحہ عمل طے کریں۔لیاقت بلوچ نے نہروں کی تعمیر کا معاملہ مشترکہ مفادات کونسل میں لے جانے کے حکومتی فیصلے پر اپنے ردعمل میں کہا کہ 'دیر آید درست آید'۔ پی پی پی اور مسلم لیگ ن کی اتحادی حکومت نے ہاتھ سے جاتے اقتدار کے تحفظ کے لیے پانی اور نہروں کے مسئلہ پر آخرکار جعلی جرات کا مظاہرہ کرہی لیا۔ چولستان کی زمینوں کو آباد کرنے کی خبر کیساتھ ساتھ اِن زمینوں کی سکیورٹی اداروں کے افراد میں بندربانٹ نے ہولناک صورتِ حال پیدا کردی ہے۔ سندھ میں پانی اور نہروں کے مسئلہ پر احتجاج سندھ کے عوام کا حق ہے لیکن سندھ میں پی پی پی کی ناکام حکومت نے احتجاج کو حق سے بڑھ کر نفرتوں کے فروغ کا ذریعہ بنادیا۔ سندھ کے عوام نفرتوں کے اس کھیل کو اپنی حب الوطنی کی طاقت سے ناکام بنادیں گے، سندھ باب الاسلام ہے اور باب الاسلام ہی رہے گا۔.
ذریعہ
ذریعہ: UrduPoint
کلیدی لفظ: تلاش کیجئے کے خلاف
پڑھیں:
قید تنہائی میں رکھا ہوا ہے، یہ عمران خان کی آنکھ میں آنکھ ڈال کر دیکھ بھی نہیں سکتے، علیمہ خان
راولپنڈی ( اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین۔ 02 جون2026ء ) پاکستان تحریک انصاف کے بانی عمران خان کی ہمشیرہ علیمہ خان کا کہنا ہے کہ جب بھی حکومت کو لگتا ہے عوام کا غصہ اور ٹمپریچر بڑھ رہا ہے، تو یہ خود کو بچانے کیلئے ڈیل کی باتیں اور افواہیں پھیلانا شروع کر دیتے ہیں، حقیقت میں کوئی ڈیل نہیں ہو رہی۔ میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ میڈیا ہم سے سوال کرنے کے بجائے حکومت سے جواب طلب کرے کہ عمران خان کو گزشتہ 7 ماہ سے غیر قانونی قیدِ تنہائی میں کیوں رکھا گیا ہے؟ صحافی وفاقی وزیر داخلہ محسن نقوی سے جا کر اس قیدِ تنہائی کی وجہ پوچھیں، ہمارا خاندان کسی قسم کا سیاسی این آر او یا ریلیف نہیں مانگ رہا، قیدِ تنہائی کا خاتمہ عمران خان کا بنیادی اور قانونی حق ہے۔ علیمہ خان نے الزام لگایا کہ گزشتہ 8 مہینوں سے عمران خان کو ذہنی و جسمانی ٹارچر کا نشانہ بنایا جا رہا ہے، ملک میں کوئی قانون نہیں چل رہا، اگر حکومت ہمیں جیل میں ڈالنا چاہتی ہے تو شوق سے ڈال دے، لیکن عمران خان کی آنکھوں کے علاج اور معائنے کے لیے انہیں فوری طور پر شفا انٹرنیشنل ہسپتال منتقل کیا جائے اور وہاں کے ماہر ڈاکٹرز سے ان کا طبی معائنہ کروایا جائے۔(جاری ہے)
انہوں نے سوال اٹھایا کہ سابق آرمی چیف کیوں عمران خان سے ملنے جائیں گے؟ وہ تو عمران خان کی آنکھوں میں آنکھیں ڈال کر دیکھ ہی نہیں سکتے، پارٹی چیئرمین بیرسٹر گوہر نے بھی واضح کر دیا ہے کہ یہ تمام باتیں بالکل جھوٹ ہیں، جب بھی حکومت کو لگتا ہے کہ عوام کا غصہ اور ٹمپریچر بڑھ رہا ہے، تو یہ خود کو بچانے کے لیے ڈیل کی باتیں اور افواہیں پھیلانا شروع کر دیتے ہیں، جبکہ حقیقت میں کوئی ڈیل نہیں ہو رہی۔ عمران خان کی ہمشیرہ نے کہا کہ جب آپ لوگوں کے ووٹ چوری کریں گے اور عوام سمجھ جائیں گے کہ ان کے ووٹ کی کوئی حیثیت نہیں رہی، تو پھر ان کا شدید ردعمل آئے گا، حکومت کبھی لاٹھی سے تو کبھی گولی سے عوام کو مارتی ہے، ووٹ چوری سے پی ٹی آئی کا نہیں بلکہ اس عام شہری کا حق مارا جاتا ہے جس کا وہ ووٹ ہوتا ہے، گلگت بلتستان میں بھی وہی کچھ دہرایا جا رہا ہے جو عام انتخابات 2024ء میں کیا گیا تھا، وہاں پی ٹی آئی کو انتخابی مہم تک چلانے کی اجازت نہیں دی جا رہی، یاد رکھیں ظلم ہمیشہ وہی کرتا ہے جو اندر سے خود شدید خوفزدہ ہوتا ہے۔ علیمہ خان نے کہا کہ ہم پی ٹی آئی کی قیادت سے درخواست کرتے ہیں کہ وہ ہمارے ساتھ آ کر یہاں بیٹھیں، جب قیادت آئے گی تو تمام ایم این ایز، ایم پی ایز، سینیٹرز اور تنظیم کے سینئر رہنما یہاں موجود ہوں گے، اگر پی ٹی آئی کی موجودہ قیادت اس فائنل کال پر بھی باہر نہیں نکلتی، تو پھر میڈیا اور عوام کا حق ہے کہ وہ ان رہنماؤں سے سوال کریں کہ وہ اپنے عظیم لیڈر کے لیے باہر کیوں نہیں آ رہے۔