اسلام آباد:

سابق نگراں وزیراعظم انوار الحق کاکڑ نے کہا ہے کہ ہندوتوا براہمن فلسفہ دنیا کو متاثر کر رہا ہے، کوئی کسی بھول میں نا رہے پاکستانی قوم ایک پرچم تلے متحد ہے اور ہم ہر قسم کے حالات کے لیے تیار ہے۔

اسلام آباد میں پریس کانفرنس کے دوران سابق نگران وزیر اعظم پاکستان انوار الحق کاکڑ نے بھارتی الزامات کو یکسر مسترد کرتے ہوئے  کہا کہ جنوبی ایشیا میں جنگی اور ہیجانی کیفیت چل رہی ہے اور لوگ اپنی جانوں سے ہاتھ دھو بیٹھے ہیں۔

انہوں نے کہا کہ ہندوستان کی مہم جوئی کی سی کیفیت لگ رہی ہے اور پاکستان پر لگنے والے الزامات کو مسترد کرتے ہیں۔

انوار الحق کاکڑ نے کہا کہ پاکستان کی کشمیر پر واضح پوزیشن ہے اور کشمیر کو پاکستان کے ساتھ شامل ہونا چاہیے۔

انہوں نے واضح کیا کہ کشمیر ایک متنازع خطہ ہے۔ انہوں نے کہا کہ ہندوستان کے ارادے نیک نہیں ہیں، بنگلا دیش میں بھی بھارت کو شدید ناکامی ہوئی اور بھارت کی دراندازی کے شواہد بلوچستان میں بھی موجود ہیں۔

ان کا کہنا تھا کہ بھارت نے پاکستان کو دولخت کرنے میں کھلم کھلا کردار ادا کیا اور ہندوستان کی تخریب کاری کے بے شمار شواہد موجود ہیں۔

انوار الحق کاکڑ نے کہا کہ پاکستان کی ریاست دوسروں کے معاملات میں مداخلت نہیں کرتی اور ہمسایوں کی ترقی پر خوش ہوتی ہے۔

انہوں نے کہا کہ دنیا کہہ رہی ہے کہ کینیڈا اور امریکہ کے الزامات کے مطابق انڈیا نے مداخلت کی ہے اور بھارت کا تخریب کار کردار پوری دنیا میں بے نقاب ہو رہا ہے، دو ارب انسانوں کی تقدیر اس خطے سے جڑی ہے، اور جنگ کے بیانات تشویشناک ہیں۔

ان کا کہنا تھا کہ پاکستانی عوام اپنی فوج اور دفاع کرنے والوں کے ساتھ کھڑے ہیں اور کسی بھی حملے کی صورت میں پوری قوم یکجان اور یک زبان ہو گی۔

سابق نگران وزیر اعظم نے کہا کہ فلور آف دی ہاؤس پر پوری قوم نے اتحاد کا مظاہرہ کیا۔ انہوں نے کہا کہ بھارت مسلمانوں کو ہندوستانی بنانے کی کوشش کر رہا ہے اور اگر کہیں تخریب کاری ہوئی ہے تو بھارت کو اپنے رویے پر غور کرنا چاہیے۔

انوار الحق کاکڑ نے مزید کہا کہ بھارت پاکستان آبسیسڈ ہو چکا ہے اور اس کی منفی سیاست پوری دنیا پر عیاں ہو رہی ہے۔ انہوں نے کہا کہ ہندوتوا براہمن فلسفہ دنیا کے معاشروں کو متاثر کر رہا ہے اور یہ حملہ ہمارے وجود پر ہے۔

انہوں نے کہا کہ پاکستانی قوم ایک پرچم تلے متحد ہے اور ہم ہر قسم کے حالات کے لیے تیار ہیں۔

.

ذریعہ

ذریعہ: Express News

کلیدی لفظ: انوار الحق کاکڑ نے انہوں نے کہا کہ کہ پاکستان رہا ہے رہی ہے ہے اور

پڑھیں:

بھارت امن دشمن ہے، جموں و کشمیر نہ اُس کا اٹوٹ انگ ہے اور نہ ہی داخلی معاملہ، پاکستان

اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل میں پاکستان کی جانب سے بھارت کو مؤثر جواب دیتے ہوئے کہا گیا ہے کہ بھارت خود امن دشمن ہے، جموں و کشمیر نہ اُس کا اٹوٹ انگ ہے اور نہ ہی داخلی معاملہ۔

قرارداد 2788 کے تناظر میں تنازعات کے پرامن حل پر مباحثے کے دوران پاکستان مشن کی قونصلر صائمہ سلیم نے حق جواب میں  کہا کہ ایک وفد نے تنازعات کے پُرامن حل پر ہونے والی بحث کو حقائق مسخ کرنے، انکار اور بے بنیاد الزامات کے ذریعے متاثر کرنے کی کوشش کی۔

انہوں نے کہا کہ بھارت کا امن کا درس دینا مضحکہ خیز ہے، جو خود بین الاقوامی قانون اور سلامتی کونسل کی قراردادوں کی خلاف ورزی، ہمسایوں کے خلاف جارحیت اور خطے میں ریاستی سرپرستی میں دہشت گردی کا مرتکب ہے۔

پاکستانی مندوب برائے اقوام متحدہ کا کہنا تھا کہ جموں و کشمیر نہ بھارت کا نام نہاد اٹوٹ انگ ہے اور نہ داخلی معاملہ؛ بھارت کا انکار اس تنازع کی بین الاقوامی حیثیت کو تبدیل نہیں کر سکتا۔ بھارت خود جموں و کشمیر کا مسئلہ سلامتی کونسل میں لے کر آیا تھا، مگر آج اسی کونسل کی قراردادوں سے انحراف کر رہا ہے۔ قراردادوں کی کوئی میعاد ختم نہیں ہوتی۔

قونصلر صائمہ سلیم نے کہا کہ آزاد جموں و کشمیر اور بھارت کے غیر قانونی زیر قبضہ جموں و کشمیر کے حالات میں واضح فرق ہے۔  ایک طرف سیاسی آزادی ہے، دوسری طرف جبر، گرفتاریوں اور انسانی حقوق کی پامالیوں کا سلسلہ جاری ہے۔

انہوں نے کہا کہ حقوق کا استعمال اور حقوق سے محرومی ایک جیسی چیزیں نہیں ہو سکتیں۔ کشمیری عوام کے ناقابل تنسیخ حقِ خودارادیت سے انکار نہیں کیا جا سکتا۔ سندھ طاس معاہدے کو یکطرفہ طور پر معطل کرنے کا بھارتی فیصلہ بین الاقوامی قانون اور اقوام متحدہ کے منشور سے بے اعتنائی کا مظہر ہے۔

پاکستانی مندوب نے حق جواب میں کہا کہ دریائے سندھ کا پانی پاکستان کے 24 کروڑ عوام کی زندگی کا ذریعہ ہے، جنگ کا ہتھیار نہیں۔ ایسے غیر ذمہ دارانہ اقدامات علاقائی امن کو خطرے میں ڈال سکتے ہیں۔ پاکستان دہشت گردی کا سب سے بڑا متاثرہ ملک ہے؛ ہزاروں بے گناہ شہریوں کی قربانیاں اس بات کا ثبوت ہیں کہ دہشت گردی کے خلاف پاکستان کی جدوجہد حقیقی ہے۔

قونصلر صائمہ سلیم کا کہنا تھا کہ بھارت سے منسلک دہشت گردی کے نیٹ ورک علاقائی حدود سے نکل کر عالمی سطح تک پہنچ چکے ہیں۔ کلبھوشن یادیو کیس اس کا ایک واضح ثبوت ہے۔ بھارت میں ہندوتوا پر مبنی انتہا پسند نظریات نے اسلاموفوبیا کو ریاستی پالیسی کا رنگ دے دیا ہے، جبکہ اقلیتیں امتیازی سلوک اور جبر کا سامنا کر رہی ہیں۔

انہوں نے کہا کہ پاکستان نے اشتعال انگیزی اور جارحیت کے باوجود تحمل کا مظاہرہ کیا، مذاکرات کا راستہ کھلا رکھا اور تنازعات کے پُرامن حل کو ترجیح دی۔ جنوبی ایشیا میں امن کا راستہ انکار یا ہٹ دھرمی نہیں بلکہ اقوام متحدہ کے منشور، بین الاقوامی قانون اور سلامتی کونسل کی قراردادوں کی پاسداری سے ہو کر گزرتا ہے۔

پاکستانی مندوب نے کہا کہ بھارت کو چاہیے کہ قرارداد 2788 پر اس کی روح اور متن کے مطابق عمل کرے، اپنے معاہداتی وعدے پورے کرے اور جموں و کشمیر تنازع کے پُرامن حل کے لیے سنجیدہ کردار ادا کرے۔

 

متعلقہ مضامین

  • پاکستانی سفیر کی جانب سے پاکستان اور میانمار کی ممتاز کاروباری شخصیات کے اعزاز میں عشائیہ
  • قومی انڈر-18 ٹیم نے ہاکی فائیو اے سائیڈ ورلڈ کپ کیلیے کوالیفائی کرلیا
  • سلامتی کونسل میں پاکستان نے بھارت کو لاجواب کر دیا
  • بھارت امن دشمن ہے، جموں و کشمیر نہ اُس کا اٹوٹ انگ ہے اور نہ ہی داخلی معاملہ، پاکستان
  • پاکستان بحریہ سعودی عرب کی خواہش پر حوثی باغیوں کو کنٹرول کرے گی، ایمبیسیڈر عمران علی
  • چیف جسٹس سپریم کورٹ کا ضلع و سیشن جج عبدالحکیم کاکڑ کی شہادت پر اظہار افسوس
  • پاکستان انسٹی ٹیوٹ آف فیشن ڈیزائن میں قائممقام وائس چانسلر کی تعیناتی کیلیے سینیٹ کا اجلاس طلب
  • حکومت نے نیشنل امیگریشن اینڈ ویلفیئر پالیسی 2026 کا اجرا کر دیا
  • پاکستانی پرچم بردار جہازوں کیخلاف کسی بھی قسم کی جارحانہ کارروائی کو قومی سلامتی کا خطرہ تصور کیا جائیگا: دفتر خارجہ
  • ایک ملک نے پاکستانیوں کیلیے ویزہ فیس ختم کردی