لندن(اردوپوائنٹ اخبارتازہ ترین-انٹرنیشنل پریس ایجنسی۔26 اپریل ۔2025 )مقبوضہ کشمیر کے علاقے پہلگام میں حملے کے بعد پاکستان اوربھارت کے درمیان تعلقات میں مسلسل کشیدگی میں اضافہ سامنے آ رہا ہے اور فائربندی کے معاہدے کے باوجود لائن آف کنٹرول پر دونوں ملکوں کے درمیان مسلسل دوسرے روز فائرنگ کے تبادلہ ہوا ہے.

برطانوی نشریاتی ادارے کے مطابق مقبوضہ کشمیر کے علاقے میں پہلگام میں بھارت کی جانب سے عسکریت پسندوںکے سیاحوں پر حملے کا بغیرشواہد کے پاکستان پر الزام اور سندھ طاس معاہدے کی معطلی سمیت یکطرفہ اقدامات کے بعد دونوں جوہری ہتھیاروں سے لیس پڑوسی ممالک کے تعلقات میں کشیدگی بڑھ گئی ہے.

(جاری ہے)

بھارتی فوج نے دعوی کیا ہے کہ جمعہ اور ہفتہ کی درمیانی شب کشمیر پاکستانی فوج کی متعدد چوکیوں سے چھوٹے ہتھیاروں سے بلا اشتعال فائرنگ کی گئی جس کے جواب میں انڈین فوج نے بھی فائرنگ کی جبکہ آزادکشمیر میں لائن آف کنٹرول پر آباد مقامی لوگوں کا کہنا ہے کہ فائرنگ بھارتی فوج کی جانب سے شروع کی گئی تاہم ابھی تک پاکستان نے اس پر کوئی تبصرہ نہیں کیا. بھارتی فوج کا دعوی ہے کہ جمعرات اور جمعہ کی درمیانی شب بھی وقفے وقفے سے فائرنگ لائن آف کنٹرول پر فائرنگ کی گئی قابض بھارتی فوج کا کہنا ہے کہ اس کا کوئی جانی نقصان نہیں ہوا.                                                                                                    

ذریعہ

ذریعہ: UrduPoint

کلیدی لفظ: تلاش کیجئے لائن آف کنٹرول پر بھارتی فوج

پڑھیں:

میئر لندن، 16 سال سے کم عمر بچوں کیلئے سوشل میڈیا پر پابندی کی حمایت

لندن کے میئر سر صادق خان(sadiq khan) نے 16 سال سے کم عمر بچوں کے لیے سوشل میڈیا پر پابندی کی حمایت کرتے ہوئے کہا ہے کہ بچوں کو آن لائن دنیا میں درپیش خطرات اور نقصانات سے بچانے کے لیے یہ ایک ضروری اقدام ہے۔

منگل کو لندن میں انجینئرز، کاروباری شخصیات اور سرمایہ کاروں سے خطاب کے دوران صادق خان نے کہا کہ جس طرح خوراک اور ادویات تیار کرنے والی کمپنیوں کو اپنی مصنوعات کی حفاظت ثابت کرنا پڑتی ہے، اسی طرح سوشل میڈیا کمپنیوں کو بھی اپنے پلیٹ فارمز کے بچوں کے لیے محفوظ ہونے کا ثبوت دینا چاہیے۔

انہوں نے کہا کہ جب تک سوشل میڈیا کمپنیاں اپنے پلیٹ فارمز کی حفاظت ثابت نہیں کرتیں، اس وقت تک کم عمر بچوں کے لیے ان پر پابندی عائد کرنا ہی نقصانات کو روکنے کا مؤثر طریقہ ہے۔

میئر نے اس بات پر بھی تشویش کا اظہار کیا کہ آن لائن مینوسفیئر نامی رجحان نوجوان لڑکوں اور مردوں پر منفی اثرات مرتب کر رہا ہے، جس سے ایک کھوئی ہوئی نسل پیدا ہونے کا خطرہ ہے۔

یہ مؤقف برطانوی وزیر اعظم سر کیئر اسٹارمر کے مؤقف سے زیادہ سخت سمجھا جا رہا ہے، اگرچہ وزیر اعظم نے بچوں کی آن لائن حفاظت کے لیے اہم اقدامات کا وعدہ کیا ہے، تاہم انہوں نے ابھی تک سوشل میڈیا پر مکمل پابندی کی حمایت نہیں کی۔

برطانوی حکومت نے حال ہی میں بچوں کے آن لائن تحفظ سے متعلق ایک مشاورتی عمل مکمل کیا ہے، جس میں سوشل میڈیا کے لیے کم از کم عمر مقرر کرنے، ایپس کے استعمال کے اوقات محدود کرنے، لا محدود اسکرولنگ اور آٹو پلے جیسی عادت ساز خصوصیات پر پابندی لگانے اور عمر کی تصدیق کے سخت نظام متعارف کرانے جیسے اقدامات پر رائے طلب کی گئی تھی۔

مزید پڑھیں:نیشنل ہیلتھ سروسز کیلئے 22 ارب روپے کا بجٹ مختص، اہم تفصیلات سامنے آگئیں

مشاورت کے نتائج کی بنیاد پر حکومت بچوں کے تحفظ کے لیے آئندہ پالیسی اور قانون سازی کے حوالے سے فیصلے کرے گی۔

متعلقہ مضامین

  • آبنائے ہرمز میں کشیدگی میں اضافہ: قشم جزیرے پر امریکی حملے، ایران کے کویت اور بحرین میں امریکی اہداف پر وار
  • عالمی کشیدگی کے بیچ پاکستان کی کامیاب ثالثی
  • لبنان میں اسرائیلی حملے پر بھارتی وزیراعظم نریندر مودی خاموش کیوں ہیں، جے رام رمیش
  • 27 مئی تا یکم جون عید تعطیلات، ریلوے کی آمدن میں خاطرہ خواہ اضافہ
  • اسحاق ڈار کویتی وزیر خارجہ کے درمیان ٹیلیفونک رابطہ، بدلتی عالمی صورتحال پر تبادلہ خیال
  • پاکستان اور اٹلی کے درمیان سفارتی پاسپورٹ ہولڈرز کے لیے ویزا فری سفر کا نیا معاہدہ
  • پاکستان اور اٹلی کے درمیان سفارتی پاسپورٹ پر ویزے کی شرط ختم
  • پاکستان میں سونے کی قیمت میں پھر بڑا اضافہ
  • وزیر ریلوے کی اطالوی قومی دن کے موقع پر اٹلی کی حکومت اور عوام کو مبارکباد
  • میئر لندن، 16 سال سے کم عمر بچوں کیلئے سوشل میڈیا پر پابندی کی حمایت