پاکستان نے چین سے مزید 10 ارب یوان کی درخواست کر دی
اشاعت کی تاریخ: 27th, April 2025 GMT
واشنگٹن(ڈیلی پاکستان آن لائن)وفاقی وزیر خزانہ محمد اورنگزیب نے کہا ہے کہ پاکستان نے چین سے 10 ارب یوان کی درخواست کی ہے۔
نجی ٹی وی چینل جیو نیوز کے مطابق غیر ملکی خبر ایجنسی کو انٹرویو دیتے ہوئے وفاقی وزیر خزانہ نے کہا کہ پاکستان نے چین سے 1.4 ارب ڈالر یعنی 10 ارب یوان کی درخواست کی ہے، امید ہے پاکستان اس سال کے آخر تک چین میں 10 ارب یوان کا پانڈا بانڈ جاری کر دے گا۔
وزیر خزانہ نے کہا کہ چین کی ڈومیسٹک بانڈ مارکیٹ میں پانڈا بانڈ جاری کرنے پر بھی پیش رفت کی ہے، پانڈا بانڈز پر اے آئی آئی بی اور اے ڈی بی صدور کے ساتھ بات چیت مثبت رہی۔
وزیراعظم شہبازشریف کا ایرانی صدر کو ٹیلی فون، دھماکے میں ہلاکتوں پر اظہار افسوس
محمد اورنگزیب کا کہنا تھا کہ پاکستان نے آئی ایم ایف کے ساتھ کلائمیٹ فائنانسنگ کے تحت نیا پروگرام شروع کیا ہے، امید ہے آئی ایم ایف بورڈ مئی کے شروع میں 1.
انکا کہنا تھا کہ معاشی ترقی جاری مالی سال میں تقریباً 3 فیصد ہو گی، اگلے مالی سال معاشی ترقی 4 سے 5 اور بعد میں 6 فیصد تک پہنچنے کی توقع ہے۔
پاک بھارت کشیدگی پر وزیر خزانہ نےکہا کہ بھارت کے ساتھ تناؤ کے اقتصادی اثرات سازگار نہیں ہوں گے، دونوں ممالک کے درمیان تجارتی روابط پہلے ہی کم ہو چکے ہیں، گزشتہ سال پاکستان اور بھارت کی تجارت صرف 1.2 ارب ڈالر تھی۔
کراچی:موٹر سائیکل چوری میں ملوث پولیس اہلکار گرفتار
مزید :
ذریعہ
ذریعہ: Daily Pakistan
کلیدی لفظ: پاکستان نے ارب یوان ارب ڈالر
پڑھیں:
خانیوال پل حادثے کی انکوائری مکمل‘پاکستان ریلویز نے دو افسران کو ملازمت سے فارغ کر دیا
اسلام آباد (اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین - آن لائن۔ 02 جون2026ء) پاکستان ریلویز نے خانیوال پل حادثے کی انکوائری مکمل ہونے کے بعد ذمہ دار افسران کے خلاف سخت کارروائی کرتے ہوئے دو افسران کو ملازمت سے فارغ کر دیا ہے۔ریلوے حکام کے مطابق سابق ڈویژنل انجینئر(ڈی ای این)ملتان عابد رزاق کو ملازمت سے برطرف کر دیا گیا ہے جبکہ سابق اسسٹنٹ انجینئر (اے ای این)خانیوال راجا یوسف کو بھی سروس سے برخاست کر دیا گیا ہے۔یاد رہے کہ خانیوال پل حادثے میں ایک شخص جاں بحق جبکہ متعدد افراد زخمی ہوئے تھے۔ واقعے کے بعد وفاقی وزیر ریلوے محمد حنیف عباسی نے ذمہ داروں کے خلاف سخت کارروائی کا اعلان کرتے ہوئے واضح کیا تھا کہ عوامی جانوں کے نقصان پر کسی قسم کی رعایت نہیں برتی جائے گی۔وزیر ریلوے کی ہدایت پر حادثے کی جامع انکوائری شروع کی گئی تھی۔(جاری ہے)
انکوائری رپورٹ میں متعلقہ افسران کی غفلت اور ذمہ داری کا تعین کیا گیا جس کی روشنی میں محکمانہ کارروائی عمل میں لائی گئی۔
ریلوے حکام کے مطابق وفاقی وزیر ریلوے اپنے زیرو ٹالرنس مقف پر قائم رہے اور حادثے کا کیس منطقی انجام تک پہنچایا گیا۔ وزارت ریلوے کا کہنا ہے کہ احتساب کا عمل جاری رہے گا اور غفلت، لاپروائی یا نااہلی پر کسی قسم کا سمجھوتہ نہیں کیا جائے گا۔وزیر ریلوے محمد حنیف عباسی نے اس عزم کا اعادہ کیا کہ مسافروں کے جان و مال کے تحفظ کو ہر صورت یقینی بنایا جائے گا اور ذمہ دار عناصر کے خلاف بلاامتیاز کارروائی جاری رہے گی۔