انسانیت کیخلاف جرائم : بھارتی جیلوں میں قید معصوم کشمیریوں کی کہانی
اشاعت کی تاریخ: 27th, April 2025 GMT
انسانیت کیخلاف جرائم (Crimes against humanity)، کہانی ہے ضیا مصطفیٰ کی جو غلطی سے پاک بھارت سرحد عبور کر گیا۔
دستاویزی فلم ضیا مصطفی پر ہونے والے ظلم اور کشمیریوں پر بھارتی تشدد کو بے نقاب کرتی ہے۔
ضیا مصطفیٰ صرف 15 سال کا معصوم لڑکا تھا، جنوری 2003 میں بھارتی فورسز نے ضیاء کو قید کر لیا۔ ضیا پر جھوٹے الزامات لگا کر 19 سال تک تشدد کا نشانہ بنایا گیا۔
ضیا مصطفیٰ کے بھائی کا کہنا ہے کہ ضیا کی ماں اپنے بیٹے کے انتظار میں دنیا سے چلی گئی۔ جب کہ ان کی بہن کا کہنا ہے کہ بھارتی حکومت نے ضیاء مصطفی کی لاش تک واپس نہیں کی۔
یہ واقعہ بھارتی ظلم اور انسانی حقوق کی خلاف ورزیوں کی واضح مثال ہے
آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں
.
ذریعہ
ذریعہ: WE News
کلیدی لفظ: ضیا مصطفی
پڑھیں:
ٹرمپ کی خام خیالی تھی وہ ہمیں مذاکرات میں لگاکر حزب اللہ کیخلاف کارروائیاں کریں گے، ایرانی سفیر
ایرانی سفیر رضا امیری مقدم(فائل فوٹو)۔پاکستان میں متعین ایرانی سفیر رضا امیری مقدم نے کہا کہ ٹرمپ کی خام خیالی تھی کہ وہ ہمیں مذاکرات میں مشغول کرکے حزب اللہ کیخلاف کارروائیاں کریں گے۔
ایرانی سفیر نے کہا کہ میناب میں اسکول اور عام شہریوں کو نشانہ بنایا گیا، امریکا اور اسرائیل کو 40 روزہ جنگ کے بعد شکست کا سامنا کرنا پڑا۔
اسلام آباد میں تقریب سے خطاب کرتے ہوئے ایرانی سفیر رضا امیری مقدم نے مزید کہا کہ مذاکرات کے حوالے پاکستان ثالث کے طور پر ابھرا، ہم مذاکرات میں اس لیے آئے کہ ہماری نیت ہے، ٹرمپ کہتے ہیں کہ ہمارے پاس ایٹمی ہتھیار نہیں ہونے چاہئیں۔
ایرانی سفیر نے کہا ہمارے رہبر اعلیٰ نے فتویٰ دیا ہوا ہے کہ ہم ایٹمی ہتھیاروں کو حرام سمجھتے ہیں، مذاکرات کی میز پر امریکی کہتے ہیں آپ یورینیم بھی افزودہ نہیں کرسکتے۔
رضا امیری مقدم نے کہا کہ ایٹمی ہتھیاروں اور پرامن مقاصد کیلئے یورینیم افزودہ کرنا الگ ہے، امریکا اور مغرب کے سامنے ایران کبھی نہیں جھکے گا۔
ایرانی سفیر نے کہا کہ ٹرمپ صبح سے شام تک دیوانوں کی طرح باتیں کرتے رہتے ہیں، ان کی خام خیالی تھی کہ وہ ہمیں مذاکرات میں مشغول کرکے حزب اللہ کیخلاف کارروائیاں کریں گے۔