دہشتگردوں کی فنڈنگ کاکھلا ثبوت ، بہت بڑا حملہ، 54 دہشت گرد مارے گئے
اشاعت کی تاریخ: 27th, April 2025 GMT
سٹی42: 25 اور 26 اپریل کی درمیانی شب پاکستان کے دشمن خوارجی دہشت گردوں نے بہت بڑا حملہ کیا۔ سکیورٹی فورسز نے حملہ کرنے والے دہشتگردوں کو گھیر کر 54 دہشتگردوں کا صفایا کر دیا۔ آج سکیورٹی فورسز کوآج خراج تحسین پیش کرنے کادن ہے: وزیر داخلہ محسن نقوی کا نیوز کانفرنس میں انکشاف
لاہور شہر بھر میں ہائی الرٹ، ڈکیتی و چوری کی وارداتوں میں ملوث 14 ملزمان گرفتار
وفاقی وزیرداخلہ محسن نقوی نے انکشاف کیا ہے کہ 25 اور 26 اپریل کی درمیانی شب پاکستان کے دشمن خوارجی دہشت گردوں نے بہت بڑا حملہ کیا۔ سکیورٹی فورسز نے حملہ کرنے والے دہشتگردوں کو گھیر کر 54 دہشتگردوں کا صفایا کر دیا۔
وزیر داخلہ محسن نقوی نے لاہور میں نیوز کانفرنس کر کے بتایا کہ 25اور26اپریل کی شب خوارج شمالی وزیرستان میں داخل ہوئے۔
سکیورٹی فورسز نے ان خوارج کو3اطراف سےگھیرکرنشانہ بنایا۔
سکیورٹی فورسز کی کارروائی میں54دہشت گردمارے گئے۔ ان دہشتگردوں سے بھاری مقدار میں اسلحہ اور دھماکہ خیز مواد برآمد ہوا ہے۔آئی ایس پی آر نے ڈیڈ باڈیز کی تصاویر جاری کر دی ہیں
لاہور: سی سی ڈی کے 3 مبینہ مقابلوں میں بدنام زمانہ ملزمان مارے گئے
محسن نقوی نے کہا، سکیورٹی فورسز کے لئے اور پاکستان کے عوام کے لئے آج اہم ترین دن ہے۔ دہشتگردوں کے خلاف بہت بڑی کامیابی ملی۔ یہ خوارج پاکستان میں گھس کردہشت گردی کرنا چاہتے تھے۔آج سکیورٹی فورسز کوآج خراج تحسین پیش کرنے کادن ہے۔
محسن نقوی نے بتایا کہ سکیورٹی فورسزکو ان حملہ آوروں کی آمد سے متعلق پہلے سے اطلاعات تھیں۔ وزیرداخلہ نے بتایا کہ ہم خفیہ اطلاعات کی بنیادپربارڈرپرسختی کررہے ہیں۔
گرمی کی شدت میں اضافہ، محکمہ موسمیات نے نئی پیشگوئی کردی
دہشتگردوں کی فنڈنگ کا ثبوت
،محسن نقوی نے بتایا کہ شمالی وزیرستان پر ہونے والا یہ بہت بڑا اور منظم حملہ دہشت گردی کی فنڈنگ کا بہت بڑا ثبوت ہے۔
ہم مستعد ہیں، دہشت گردی کی تمام کارروائیوں کو ناکام بنائیں گے۔
محسن نقوی نے بتایا کہ کچھ عرصہ سے الخوارج کے پاؤں مسلسل اکھڑ رہے ہیں۔ اگر وہ دوبارہ آنے کی کوشش کریں گے تو اسی طرح ماریں گے۔
Waseem Azmet.
ذریعہ
ذریعہ: City 42
کلیدی لفظ: سکیورٹی فورسز محسن نقوی نے نے بتایا کہ بہت بڑا
پڑھیں:
بلوچستان میں بیرونی فنڈنگ، بھارت کے مبینہ کردار اور انسانی حقوق کی رپورٹس پر سنگین سوالات
بلوچستان میں انسانی حقوق کی صورتحال اور لاپتا افراد سے متعلق جاری بحث ایک بار پھر شدت اختیار کر گئی ہے، جہاں بعض حلقوں کی جانب سے یہ مؤقف پیش کیا جا رہا ہے کہ حالیہ برسوں میں بلوچستان سے متعلق سرگرم بعض مبینہ انسانی حقوق اور میڈیا نیٹ ورکس کے پیچھے بھارت کے مبینہ اثر و رسوخ اور فنڈنگ کے الزامات سامنے آتے رہے ہیں۔ ان دعوؤں کے مطابق 2020 میں ’انڈین کرونیکلز‘ جیسے ناموں سے پاکستان اور خاص طور پر بلوچستان کے حوالے سے سرگرم بعض فرضی این جی اوز اور انسانی حقوق کے اداروں کے نیٹ ورک سامنے آئے، جنہیں بعض مبصرین بھارت کے بیانیہ سازی کے منصوبوں سے جوڑتے ہیں، تاہم یہ مؤقف ایک متنازع اور زیرِ بحث دعویٰ ہے جس پر مختلف آرا پائی جاتی ہیں۔
یہ بھی پڑھیں:کراچی بڑی تباہی سے بچ گیا، ماہرنگ بلوچ کا جھوٹ بے نقاب
اسی تناظر میں حال ہی میں شائع ہونے والی ایک رپورٹ، جسے بعض حلقے ’ایچ آر سی بی‘ سے منسوب کر رہے ہیں، میں لاپتا افراد کے حوالے سے اعداد و شمار اور کیسز کا ذکر کیا گیا ہے، تاہم اس کی کریڈیبلٹی پر بھی سوالات اٹھائے جا رہے ہیں۔ ان حلقوں کا دعویٰ ہے کہ رپورٹ میں شامل کئی نام اور فہرستیں ایسے نیٹ ورکس سے اخذ کی گئی ہیں جو سوشل میڈیا پر پہلے سے مخصوص دعوے کرتے ہیں، اور پھر انہی دعووں کو بغیر آزادانہ اور مکمل تصدیق کے رپورٹ کا حصہ بنا لیا جاتا ہے، جسے بعض لوگ ایک “ایکوسسٹم” یا “ایکو چیمبر” قرار دیتے ہیں۔
تنقید کرنے والے مؤقف کے مطابق اس طرزِ عمل میں ایک خاص طریقۂ کار دیکھا جاتا ہے، جس میں پہلے کسی شخص کو جبری گمشدہ قرار دینے کا دعویٰ سامنے آتا ہے، پھر سوشل میڈیا پر اس پر مہم چلتی ہے، اس کے بعد وہی معلومات رپورٹس میں شامل ہو جاتی ہیں، اور پھر بین الاقوامی سطح پر انہیں بطور حوالہ پیش کیا جاتا ہے۔ تاہم بعد ازاں بعض کیسز میں مختلف حقائق سامنے آنے کے دعوے بھی کیے جاتے ہیں، جنہیں ان رپورٹس کی ساکھ پر سوال کے طور پر پیش کیا جاتا ہے۔
یہ بھی پڑھیں:ماہرنگ اور بلوچ یکجہتی کمیٹی ایک بار پھر بے نقاب، دہشتگردوں کی پشت پناہی ثابت
اسی سلسلے میں بعض مثالوں کا حوالہ دیتے ہوئے کہا جاتا ہے کہ چند افراد کے کیسز میں بعد میں مختلف دعوے یا وضاحتیں سامنے آئیں، جنہیں ان رپورٹس کے طریقۂ کار پر تنقید کے طور پر پیش کیا جاتا ہے۔ ناقدین کے مطابق اگر رپورٹنگ کا انحصار غیر مصدقہ سوشل میڈیا دعوؤں پر ہو تو اس کی غیر جانبداری متاثر ہو سکتی ہے، خصوصاً جب اسے کسی مخصوص سیاسی یا نظریاتی بیانیے کے ساتھ جوڑا جائے۔
دوسری جانب یہ بھی کہا جا رہا ہے کہ انسانی حقوق کی کسی بھی رپورٹ میں صرف ایک پہلو نہیں بلکہ تمام متاثرین کا احاطہ ہونا چاہیے، جن میں وہ شہری بھی شامل ہیں جو دہشتگردی کے واقعات میں متاثر ہوئے۔ اس ضمن میں چمن، مچ اور دیگر علاقوں میں پیش آنے والے حملوں کے متاثرین، مسافروں، اساتذہ اور مزدوروں کا ذکر کرتے ہوئے کہا جاتا ہے کہ اگر کسی رپورٹ میں ان واقعات اور متاثرین کو نظر انداز کیا جائے تو اس کی جامعیت اور غیر جانبداری پر سوال اٹھ سکتے ہیں۔
یوں بلوچستان سے متعلق انسانی حقوق کی رپورٹس، لاپتا افراد کے اعداد و شمار اور مبینہ بیرونی اثر و رسوخ کے الزامات ایک پیچیدہ اور متنازع بحث کی صورت اختیار کر چکے ہیں، جس میں مختلف فریقین اپنے اپنے مؤقف کے ساتھ موجود ہیں اور حتمی اتفاق رائے تاحال سامنے نہیں آ سکا۔
آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں
انڈین کرونیکلز بھارت لاپتا افراد ماہرنگ بلوچ