دہشتگردی اور اسکی جڑوں کے خلاف فیصلہ کن جنگ ہونی چاہیئے، عمر عبداللہ
اشاعت کی تاریخ: 27th, April 2025 GMT
دہشت گردانہ حملے کے قصورواروں کو بغیر رحم کے سخت سزا دینے کا مطالبہ کرتے ہوئے عمر عبداللہ نے کہا کہ مجرموں کو سزا ملنی چاہیئے، ان پر رحم نہیں کیا جانا چاہیئے لیکن بے گناہ لوگوں کا نقصان نہ ہونے دیا جائے۔ اسلام ٹائمز۔ جموں و کشمیر کے پہلگام میں ہوئے دہشت گردانہ حملے کے خلاف بھارت بھر میں احتجاج دیکھا گیا۔ جموں و کشمیر کی عوام نے بھی متحد ہو کر بھارتی حکومت سے دہشت گردی کے خلاف سخت کارروائی کا مطالبہ کیا۔ اس دوران اتوار کے روز جموں و کشمیر کے وزیراعلٰی عمر عبداللہ نے دہشت گردی کے خلاف حمایت کو مزید بڑھانے اور دہشت گردی اور اس کی جڑوں کے خلاف فیصلہ کن لڑائی پر زور دیا۔ جموں و کشمیر نیشنل کانفرنس کے نائب صدر عمر عبداللہ نے اتوار کے روز سوشل میڈیا پلیٹ فارم ایکس پر پوسٹ کیا اور دہشت گردی کے خلاف فیصلہ کن لڑائی کے بارے میں بات کی۔ انہوں نے لکھا کہ پہلگام دہشت گردانہ حملے کے بعد دہشت گردی اور اس کی جڑوں کے خلاف فیصلہ کن لڑائی ہونی چاہیئے۔
دہشت گردی کے خلاف عوامی حمایت کو بڑھانے کے بارے میں بات کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ کشمیر کے لوگ دہشت گردی اور بے گناہ لوگوں کے قتل کے خلاف کھل کر سامنے آئے ہیں، انہوں نے یہ آزاد اور بے ساختہ طور پر کیا۔ انہوں نے کہا کہ اب وقت آگیا ہے کہ اس حمایت کو بڑھایا جائے اور لوگوں کو الگ تھلگ کرنے والی کسی بھی غلط کارروائی سے بچا جائے۔ دہشت گردانہ حملے کے قصورواروں کو بغیر رحم کے سخت سزا دینے کا مطالبہ کرتے ہوئے عمر عبداللہ نے کہا کہ مجرموں کو سزا ملنی چاہیئے، ان پر رحم نہیں کیا جانا چاہیئے لیکن بے گناہ لوگوں کا نقصان نہ ہونے دیا جائے۔
قابل ذکر ہے کہ 22 اپریل کو جموں و کشمیر کے پہلگام میں دہشت گردوں نے غیر مسلح سیاحوں پر گولی چلا دی تھی، اس حملے میں 26 افراد ہلاک اور متعدد زخمی ہوئے تھے۔ حملے کے متاثرین کا کہنا تھا کہ دہشت گردوں نے انہیں قتل کرنے سے پہلے لوگوں سے ان کے مذہب کے بارے میں پوچھا۔ اس حملے کے بعد ملک بھر میں غصہ دیکھا جا رہا ہے۔ لوگ مودی حکومت سے سخت کارروائی کا مطالبہ کر رہے ہیں۔ اس کے ساتھ ہی جموں و کشمیر کے لوگوں نے بھی متحد ہو کر دہشت گردانہ حملے کے خلاف آواز بلند کی۔ پہلگام واقعے کے بعد کابینہ کمیٹی برائے سلامتی کے اجلاس میں مودی حکومت نے کئی سخت اور بڑے فیصلے لئے، جن میں سندھ طاس معاہدہ منسوخ کرنا، پاکستان سے اپنے سفارت کاروں کو واپس بلانا اور ہندوستان میں پاکستانی سفارت خانے میں عملے کی تعداد 55 سے کم کرکے 30 کرنا اہم تھے۔
ذریعہ
ذریعہ: Islam Times
کلیدی لفظ: دہشت گردانہ حملے کے دہشت گردی کے خلاف کے خلاف فیصلہ کن جموں و کشمیر کے عمر عبداللہ نے کا مطالبہ نے کہا کہ انہوں نے گردی اور
پڑھیں:
مسئلہ کشمیر کا منصفانہ حل جنوبی ایشیا میں امن کی بنیاد، دہشتگردی عالمی سلامتی کیلئے سنگین خطرہ: اسحاق ڈار
اسلام آباد، منیلا (خبر نگار خصوصی) نائب وزیراعظم اسحاق ڈار نے کہا ہے کہ پاکستان علاقائی امن، استحکام اور تعاون کے فروغ کے لیے آسیان ریجنل فورم کے ذریعے اپنا کردار ادا کرنے کے لیے پْرعزم ہے۔ اسحاق ڈار نے 33 ویں آسیان ریجنل فورم سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ عالمی اور علاقائی چیلنجز سے نمٹنے کے لیے مؤثر کثیرالجہتی تعاون ناگزیر ہے۔ جموں و کشمیر کے تنازعے کا منصفانہ حل ہی جنوبی ایشیا میں پائیدار امن کی بنیاد ہے۔ پاکستان مسئلہ کشمیر کے پرامن اور منصفانہ حل کی حمایت جاری رکھے گا، جبکہ عالمی برادری کو حل کے لیے اپنا کردار ادا کرنا چاہیے۔ اسحاق ڈار نے بھارت کی جانب سے سندھ طاس معاہدے کی معطلی کو تشویشناک اور اشتعال انگیز اقدام قرار دیتے ہوئے کہا کہ معاہدے سے متعلق یکطرفہ اقدامات 25 کروڑ پاکستانیوں کے مفادات کو متاثر کر سکتے ہیں۔ غزہ کی انسانی صورتحال پر تشویش کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ پاکستان فلسطینی عوام کے حق خودارادیت کی غیر متزلزل حمایت جاری رکھے گا۔ پاکستان 1967ء سے پہلے کی سرحدوں پر مشتمل آزاد فلسطینی ریاست کے قیام کا حامی ہے۔انہوں نے دہشتگردی کو عالمی امن و سلامتی کے لیے سنگین خطرہ قرار دیتے ہوئے کہا کہ پاکستان دہشتگردی کے خلاف جنگ میں 90 ہزار سے زائد جانوں کی قربانیاں دے چکا ہے اور ہر قسم کی دہشتگردی کے خلاف اپنی جدوجہد جاری رکھے گا۔ افغان سرزمین پاکستان کے خلاف دہشتگردی کے لیے استعمال نہیں ہونی چاہیے، جبکہ افغانستان میں امن سے علاقائی تجارت، روابط اور ترقی کو فروغ ملے گا۔ نائب وزیراعظم نے جنوبی بحیرہ چین کے تنازعات کے پرامن حل کی حمایت کا اعادہ کرتے ہوئے کہا کہ پاکستان ایک چین پالیسی کی مکمل حمایت جاری رکھے گا۔ انہوں نے موسمیاتی تبدیلی کو ترقی پذیر ممالک کے لیے بڑا چیلنج قرار دیتے ہوئے کہا کہ اس سے نمٹنے کے لیے عالمی تعاون کو مزید مضبوط بنانے کی ضرورت ہے۔ دوسری جانب نائب وزیراعظم اور وزیر خارجہ و سینیٹر اسحاق ڈار نے عمان ترجمان دفتر خارجہ کے مطابق فلپائن میں آسیان ریجنل فورم کی سائیڈ لائنز پر ملاقات ہوئی، دونوں رہنمائوں نے دوطرفہ تعاون کی مثبت پیش رفت پر اطمینان کا اظہار کیا۔ملاقات کے دوران اعلیٰ سطح تبادلوں، تجارت و سرمایہ کاری کے فروغ کو مزید مستحکم بنانے پر اتفاق کیا گیا۔ نائب وزیراعظم اسحاق ڈار نے فلپائن میں مختلف ملکوں کے وزرائے خارجہ سے ملاقاتیں کیں۔ وزرائے خارجہ نے امریکہ ایران کے درمیان ثالثی پر پاکستان کے کردار کو سراہا اور مشرق وسطیٰ میں کشیدگی کے خاتمے کیلئے مذاکرات پر زور دیا، اسحاق ڈار نے برطانیہ کے سیکرٹری آف سٹیٹ برائے خارجہ سے ملاقات کی دونوں رہنماؤں نے پاک برطانیہ تعلقات کو مزید مضبوط بنانے کے مشترکہ عزم کا اعادہ کیا۔ ملاقات میں خطے کی سکیورٹی صورتحال پر تبادلہ خیال کیا گیا۔ اسحاق ڈار نے نیوزی لینڈ کے وزیر خارجہ ونٹسن پیٹرز سے ملاقات کی۔ دونوں ملکوں نے تجارت، سرمایہ کاری اور کھیل کے شعبے میں تعاون پراتفاق کیا۔ ملاقات میں خطے اور عالمی صورتحال پر تبادلہ خیال کیا گیا۔ اسحاق ڈار نے آسٹریلیا کے وزیر خارجہ سے بھی ملاقات کی جس میں مختلف شعبوں میں تعاون کو مزید مضبوط بنانے کے عزم کا اعادہ کیا گیا۔ نائب وزیراعظم اسحاق ڈار آسیان ریجنل فورم میں شرکت کے بعد کرغزستان روانہ ہو گئے۔ ترجمان دفتر خارجہ کے مطابق اسحاق ڈار ایس سی او وزرائے خارجہ کونسل کے اجلاس میں شرکت کریں گے۔ اجلاس 23 اور 24 جولائی کو ہوگا، اسحاق ڈار اجلاس کے موقع پر رکن ملکوں کے وزرائے خارجہ سے دو طرفہ ملاقاتیں کریں گے۔؎