وزیراعظم آزاد کشمیر کا کہنا ہے کہ ہمارا موقف واضح ہے کہ دشمن نے اگر جارحیت کی تو ہم بھرپور جواب کے لئے تیار ہیں، بھارت ہمیشہ سے پاکستان مخالف بیانیہ کیش کرواتا آیا ہے۔ اسلام ٹائمز۔ وزیراعظم آزاد حکومت ریاست جموں و کشمیر چوہدری انوارالحق نے کہا ہے کہ بھارت کی جانب سے سفارتی محاذ کو طول دینے کا مقصد آبی جارحیت کا آغاز کرنا تھا، کل بھی بھارت نے 40 ہزار کیوسک کا ریلا دریائے جہلم میں چھوڑا  لیکن آزاد کشمیر حکومت اور ہمارا انفراسٹرکچر اس کے لیے تیار تھے، ہم مکمل طور پر تیار تھے اس وجہ سے کوئی جانی یا مالی نقصان نہیں ہوا۔ ان خیالات کا اظہار وزیراعظم آزاد کشمیر چوہدری انوارالحق نے نجی چینل کے پروگرام میں گفتگو کرتے ہوئے کیا۔ انہوں نے کہا کہ ہمارا موقف واضح ہے کہ دشمن نے اگر جارحیت کی تو ہم بھرپور جواب کے لئے تیار ہیں، بھارت ہمیشہ سے پاکستان مخالف بیانیہ کیش کرواتا آیا ہے، ماضی میں بھی فالس فلیگ آپریشنز کے ذریعے مودی حکومت نے بھرپور فائدہ اٹھایا ہے۔ وزیراعظم آزاد کشمیر نے کہا کہ بھارت کی مختلف ریاستوں جیسا کہ ناگا لینڈ، منی پور، آسام اور دیگر میں اندرونی خلفشار بڑھتا جا رہا ہے۔ بھارت میں عیسائیوں کے چرچ جلائے گئے ہیں، وہاں اقلیتوں پر زمین تنگ کی جا رہی ہے۔ انہوں نے کہا کہ بھارت 9 لاکھ فوج رکھ کر بھی مقبوضہ کشمیر میں لوگوں کے دل فتح کرنے میں بری طرح ناکام ہوا ہے تو پھر ان کی ساری فوجی طاقت کا کیا فائدہ ہے؟ وزیراعظم آزاد کشمیر نے کہا کہ ہندوتوا فلاسفی یا چانکیا ڈاکٹرائن جیسے انتہاپسندانہ نظریات کو زندہ رکھنے کی شرط اول اور آخر فالس فلیگ آپریشنز ہی ہیں، ان نظریات کی بنیاد جھوٹ اور فراڈ پر ہے۔ انہوں نے کہا کہ ہندوستان کو سفارتی محاذ کا جواب سفارتی سطح پر دیا جائے گا۔

.

ذریعہ

ذریعہ: Islam Times

کلیدی لفظ: نے کہا کہ

پڑھیں:

سلامتی کونسل میں پاکستان نے بھارت کو لاجواب کر دیا

قونصلر صائمہ سلیم— فائل فوٹو

اقوامِ متحدہ میں پاکستانی مشن کی قونصلر صائمہ سلیم نے سلامتی کونسل میں بھارت کو لاجواب کر دیا۔

اپنے بیان میں صائمہ سلیم نے کہا ہے کہ بھارت کا امن کا درس دینا مضحکہ خیز ہے، جو خود بین الاقوامی قانون اور سلامتی کونسل کی قراردادوں کی خلاف ورزی، ہمسایوں کے خلاف جارحیت اور خطے میں ریاستی سرپرستی میں دہشت گردی کا مرتکب ہے۔

انہوں نے کہا کہ آزاد جموں و کشمیر اور بھارت کے غیر قانونی زیرِ قبضہ جموں و کشمیر کے حالات میں واضح فرق ہے۔

صائمہ سلیم نے کہا کہ ایک طرف سیاسی آزادی ہے اور دوسری طرف جبر، گرفتاریوں اور انسانی حقوق کی پامالیوں کا سلسلہ جاری ہے، حقوق کا استعمال اور حقوق سے محرومی ایک جیسی چیزیں نہیں ہو سکتیں۔

بھارت دہشت گردی برآمد کرتا ہے، صائمہ سلیم

اقوامِ متحدہ میں پاکستانی کونسلر صائمہ سلیم نے کہا کہ افغان سرزمین سے حملوں کی منصوبہ بندی اور سہولت کاری ہوئی۔

انہوں نے کہا کہ کشمیری عوام کے ناقابلِ تنسیخ حقِ خودارادیت سے انکار نہیں کیا جا سکتا، جموں و کشمیر نہ بھارت کا اٹوٹ انگ ہے اور نہ داخلی معاملہ، بھارت کا انکار اس تنازع کی بین الاقوامی حیثیت تبدیل نہیں کر سکتا۔

قونصلر صائمہ سلیم نے کہا کہ بھارت خود مسئلہ کشمیر سلامتی کونسل میں لایا اور آج قراردادوں سے انحراف کر رہا ہے، مقبوضہ کشمیر میں جبر اور انسانی حقوق کی پامالیاں جاری ہیں۔

انہوں نے مزید کہا کہ سندھ طاس معاہدے کی معطلی کا بھارتی فیصلہ بین الاقوامی قانون کی خلاف ورزی ہے، دریائے سندھ کا پانی زندگی کا ذریعہ ہے، جنگ کا ہتھیار نہیں۔

صائمہ سلیم نے یہ بھی کہا کہ بھارت سے منسلک دہشت گردی کے نیٹ ورک عالمی سطح تک پھیل چکے ہیں، بھارت میں ہندوتوا نظریات نے اسلاموفوبیا کو ریاستی پالیسی بنا دیا ہے۔

متعلقہ مضامین

  • سلامتی کونسل میں پاکستان نے بھارت کو لاجواب کر دیا
  • آزاد کشمیر انتخابات: استحکام پارٹی‘ مرکزی مسلم لیگ‘ جموں کشمیر یونائیٹڈ موومنٹ کا اتحاد 
  • آزاد کشمیر انتخابات: استحکام پاکستان پارٹی اور مسلم کانفرنس میں انتخابی اتحاد، سیٹ ایڈجسٹمنٹ پر اتفاق
  • استحکام پاکستان پارٹی آزاد کشمیر اور آل جموں و کشمیر مسلم کانفرنس کے درمیان انتخابی اتحاد طے
  • بلاول بھٹو نے مظفرآباد اور دیگر علاقوں میں بھی انٹرنیٹ پابندیاں جلد ختم ہونے کی امید ظاہر کر دی
  • آزاد کشمیر کے شہر میرپور میں 45 روز بعد موبائل فون اور انٹرنیٹ سروس بحال ہونا شروع
  • سیلابی صورتِ حال کو ہتھیار بنانا بھارت کی آبی جارحیت کا ثبوت ہے:سینیٹر شیری رحمان
  • مقبوضہ کشمیر میں تیز بارشیں، بھارت نے پانی کا بڑا ریلہ پاکستان کی جانب چھوڑ دیا
  • پاکستان مشرق وسطیٰ میں امن و استحکام کیلئے فعال سفارتی کردار جاری رکھے ہوئے ہے، اسحاق ڈار
  • آزاد کشمیر میں ڈیڑھ ماہ بعد انٹرنیٹ سروس بحال ہونا شروع