پہلگام حملے کے خلاف بھارت بھر میں احتجاج کا سلسلہ جاری، قصورواروں پر سخت کارروائی کا مطالبہ
اشاعت کی تاریخ: 27th, April 2025 GMT
کانپور میں مسلمانوں نے چمن گنج میں دہشت گردی کے خلاف پتلا نذر آتش کیا اور پاکستان مردہ باد کے نعرے لگائے۔ اسلام ٹائمز۔ پہلگام میں ہوئے دہشت گردانہ حملے کے خلاف بھارت بھر میں احتجاج کا سلسلہ جاری ہے۔ آج بھی اترپردیش، بہار، ہریانہ، راجستھان، پنجاب سمیت کئی ریاستوں میں مظاہرے ہوئے۔ کانپور میں مسلمانوں نے چمن گنج میں دہشت گردی کے خلاف پتلا نذر آتش کیا اور پاکستان مردہ باد کے نعرے لگائے۔ کئی مقامات پر لوگوں نے بازار بند رکھے۔ اس حملے کے خلاف کئی ریاستوں میں آج بھی بند کا اثر دیکھنے کو مل سکتا ہے۔
آج اندور میں کانگریس کے ذریعہ بند کی اپیل کی گئی تھی۔ بالا گھاٹ، رائے سین، رتلام اور کچھ دیگر ضلعوں میں دکانیں اور کاروبار بند رہے۔ عینی شاہدین نے بتایا کہ نکسل متاثرہ بالاگھاٹ میں کئی جگہوں پر احتجاجی مظاہرے ہوئے اور پوری طرح سے بند رہا۔ چھترپور میں بھی بند کا اثر دیکھنے کو ملا اور بازار دن بھر نہیں کھلے۔ گاندھی چوک بازار میں احتجاجی مظاہرے کئے گئے اور متاثرین کی یاد میں دو منٹ کی خاموشی اختیار کی گئی۔ اس کے بعد مظاہرین نے ضلع کلکٹر کو صدر کے نام عرضداشت سونپی، جس میں دہشت گردوں کے خلاف سخت کارروائی کا مطالبہ کیا گیا۔
رائے سین میں کاروباریوں اور مختلف تنظیموں کے اراکین نے حملے کی شدید مذمت کرتے ہوئے نعرے لگائے اور قصورواروں کے خلاف سخت کارروائی کا مطالبہ کرتے ہوئے صدر جمہوریہ کے لئے عرضداشت سب ڈویژنل مجسٹریٹ مکیش سنگھ کو سونپا۔ رتلام کے سیلانا قصبے میں دہشت گردوں کا پتلا جلایا گیا۔ قصبہ میں دن بھر بند رہا۔ اشوک نگر ضلع کے شاڑھورا علاقے میں لوگوں نے دہشت گردی کے خلاف احتجاج کرتے ہوئے پاکستان مخالف نعرے لگائے۔ مختلف ریاستوں میں ہوئے بند سے ہنگامی طبی خدمات کو آزاد رکھا گیا۔
وہیں اترپردیش کے لکھنؤ، گورکھپور، اعظم گڑھ، میرٹھ، غازی آباد سمیت کئی ضلعوں میں بند کا اثر دیکھنے کو ملا۔ پنجاب کے جالندھر، نواں شہر اور ہوشیار پور میں لوگوں نے کینڈل مارچ نکالا۔ اس دوران پاکستان اور دہشت گردوں کا پتلا نذر بھی نذر آتش کیا گیا۔ ہریانہ کے کروکشیتر اور فتح آباد کے رتیا علاقے میں دوپہر 12 بجے تک بازار بند رہے۔ پٹنہ میں گووند مترا روڈ کے تھوک دوا کاروباریوں نے بھی اپنی اپنی دکانیں بند رکھیں۔
ذریعہ
ذریعہ: Islam Times
کلیدی لفظ: نعرے لگائے کے خلاف
پڑھیں:
اٹلی میں چار پاکستانی زرعی مزدوروں کا قتل، دو پاکستانی شہری گرفتار
اسلام آباد (اُردو پوائنٹ ۔ DW اردو۔ 02 جون 2026ء) اخبار کے مطابق جلی ہوئی گاڑی امینڈولارا نامی گاؤں کے قریب ایک پٹرول پمپ پر ملی، جو کالابریا کے وسیع زرعی علاقے میں واقع ہے۔
اخبار کے مطابق پٹرول پمپ کے سی سی ٹی وی کیمروں کی فوٹیج میں دو افراد کو منی وین کے دروازے باہر سے بند کرتے اور اس کے اندر آتش گیر مائع پھینکتے ہوئے دیکھا گیا۔
رپورٹ کے مطابق اس کے بعد گاڑی میں آگ بھڑک اٹھی اور دونوں مشتبہ افراد موقع سے فرار ہو گئے۔
فائر بریگیڈ نے آگ بجھانے کے بعد گاڑی کے اندر سے چار لاشیں برآمد کیں۔
مقامی پولیس چیف نے اس اطالوی اخبار سے گفتگو کرتے ہوئے کہا، ’’یہ یقینی طور پر قتل کا واقعہ ہے، اب ہمیں صرف اس کی تفصیلات معلوم کرنا ہیں۔
(جاری ہے)
‘‘
اخبار نے مزید لکھا کہ گزشتہ چند مہینوں کے دوران اس علاقے میں پاکستانیوں کی گاڑیوں اور منی وینز کے نذر آتش کیے جانے کے 14 واقعات پیش آ چکے ہیں۔
رپورٹ کے مطابق علاقے میں تارکین وطن کے مختلف گروہوں کے درمیان زرعی کام کی تقسیم، رہائشی دستاویزات (ریذیڈنسی پیپرز)، اور رہائش کے مسائل پر کشیدگی پائی جاتی ہے، جسے ممکنہ طور پر اس واقعے کے پس منظر سے جوڑا جا رہا ہے۔
اطالوی حکام اس واقعے کی تحقیقات جاری رکھے ہوئے ہیں تاکہ اکٹھے چار افراد کے اس قتل کے محرکات اور اس کے ذمہ دار افراد کے اس جرم میں کردار کی مکمل طور پر وضاحت ہو سکے۔
ادارت: مقبول ملک