2019 میں بالاکوٹ حملے کے بعد پاکستانی فوج نے جن ٹارگٹس کو نشانہ بنایا ان میں سے ایک کے قریب کونسی بھارتی اہم شخصیت موجود تھی؟ بڑا انکشاف ہوگیا
اشاعت کی تاریخ: 28th, April 2025 GMT
لاہور (ڈیلی پاکستان آن لائن )سینئر صحافی انصار عباسی نے اپنی رپورٹ میں دعویٰ کیاہے کہ 2019 میں بالا کوٹ حملے کے بعد پاکستان کا جواب پوری دنیا نے دیکھا ،پا فوج نے کرشنا گھاٹی سیکٹر میں ایک ایسے ہدف کو نشانہ بنایا جو بھارتی فوج کے بریگیڈ ہیڈ کواٹر سے 500 میٹر دور تھا ، اس ہیڈ کواٹر میں بھارتی آرمی چیف بھی موجود تھے جو آپریشن کی نگرانی کر رہے تھے، یہ پاک فوج کی جانب سے ایک وارننگ تھی۔
جیونیوز میں شائع ہونے والی رپورٹ کے مطابق بھارت کی جانب سے 2019ءمیں بالاکوٹ پر حملہ (جس کے نتیجے میں وہاں کچھ درخت اکھڑنے کے ساتھ ساتھ ایک کوا بھی مارا گیا تھا) کے بعد پاکستان نے جو کیا اُس میں سے کچھ تو دنیا نے دیکھا لیکن کچھ ایسا بھی تھا جس کے بارے میں معلومات کو عام نہیں کیا گیا۔
سعودی عرب اور قطر کا شام کے ذمے ورلڈ بینک کا قرض ادا کرنے کا اعلان
ہمارے درخت اور ایک کوا مارنے کے بدلے میں بھارت کے دو جنگی طیارے مار گرائے گئے اور ایک پائلٹ کو گرفتار کیا گیا جسے ایک کپ چائے پلا کربھارت کے حوالے کر دیا گیا۔پاکستان کے جوابی حملے سے کنفیوژڈ بھارتی فوج نے اس دوران اپنا ہی ایک ہیلی کاپٹر بھی مار گرایا تھا۔ یہ شرمندگی تو بھارت اور اس کی فوج کو دنیا بھر کے سامنے دیکھنی پڑی۔ لیکن پاکستان کے جوابی حملہ میں پاک فوج کی جانب سے جو پیغام بھارتی فوج کے سربراہ کو دیا گیا وہ اُسے شاید کبھی نہیں بھول سکتے۔
پاکستان نے بھارتی جنگی طیارے گرانے کیساتھ ساتھ مقبوضہ کشمیر میں موجود بھارتی فوج کے پانچ ٹارگٹس کو بھی نشانہ بنایا جس کا مقصد کسی جانی نقصان کی بجائے بھارت اور اُس کی فوج کو صرف یہ پیغام دینا تھا کہ افواج پاکستان اُن کو کتنے بڑے بڑے سرپرائز دے سکتی ہے۔ اہم ذرائع کے مطابق 2019ءمیں پاکستان نے جوابی کارروائی کرتے ہوئے کرشنا گھاٹی سیکٹر میں ایک ایسے ہدف کو نشانہ بنایا جو بھارتی فوج کے بریگیڈ ہیڈ کوارٹر سے صرف پانچ سو میٹر دور تھا۔ اہم ترین بات یہ ہے کہ اس ہیڈکوارٹر میں کوئی اور نہیں بلکہ بھارتی آرمی چیف خود موجود تھے اور وہاں سے آپریشن کی نگرانی کر رہے تھے۔
پہلگام پر ہمیں بھی افسوس، مودی اسرائیل کا حامی اور اس کیساتھ کھڑا ہے: مولانا فضل الرحمان
اس حملے کے بعد بھارتی آرمی چیف بریگیڈ ہیڈ کوارٹرز سے فوری روانہ ہو گئے۔ پاک فوج کی طرف سے بھارت کی فوج کے سربراہ کو یہ پیغام دیدیا گیا کہ پاکستان چاہتا تو نشانہ 500میٹر دور کی بجائے کرشنا گھاٹی سیکٹر میں بھارتی فوج کا بریگیڈ ہیڈ کوارٹر بھی ہو سکتا تھا۔2019ءنے افواج پاکستان کی برتری اور بھارتی فوج کی بوکھلاہٹ کودنیا کے سامنے کھول کر رکھ دیا۔ اس واقعہ کے بعد مودی نے بھارتی فوج کیلئے اربوں ڈالرز کا اسلحہ خریدا تاکہ آئندہ اُس شرمندگی سے بچا جا سکے جسکا بھارت کو 2019ءمیں سامنا کرنا پڑا۔ لیکن بھارت کوجو بات سمجھنی چاہئے وہ یہ ہے کہ لڑائی لڑنے کیلئےاسلحہ سے زیادہ ضرورت ٹریننگ اور جذبے کی ہوتی ہے اور ان دونوں معاملات میں بھارتی فوج پاکستان کی افواج کا مقابلہ نہیں کر سکتی۔
30 اپریل تک ملک میں درجہ حرارت معمول سے زیادہ رہنے کا امکان
آج پھر اس خطرے کا اظہار کیا جا رہا ہے کہ پہلگام واقعہ کے بعد اب بھارت پھر پاکستان پر حملہ کر سکتا ہے۔ مجھے ویسے اس بارے میں شک ہے۔ میرا خیال ہے کہ بھارت 2019ءکی غلطی نہیں دہرائے گا۔ ایک طرف تو بھارت کو پاکستان کی فوج کی صلاحیتوں اور جذبہ جہاد کا علم ہے اور تازہ تجربہ بھی۔ دوسری طرف پہلگام حملے نے کسی دوسرے کی بجائے بھارت کی اپنی نااہلی اور سیکورٹی پر سنگین سوالات اُٹھا دیے۔بھارت ماضی میں پاکستان پر دہشت گردی کے الزامات بار بار لگاتا رہا لیکن اب وہ خود کینیڈا، امریکا سمیت کئی دوسرے ممالک میں دہشت گردی کرتے ہوے پکڑا جا چکا ہے۔ اوپر سے امریکا سے بھارت کو اس واقعے کے بعد جس قسم کی توقعات تھیں وہ ڈھیر ہو گئیں۔
وزیر خزانہ کی دنیا بھر کے سرمایہ کاروں کو پاکستان کی ترقی میں شامل ہونے کی دعوت
ٹرمپ نے اپنا وزن بھارت کے پلڑے میں ڈالنے کی بجائے کہہ دیا کہ وہ دونوں ممالک کے رہنماؤں کو جانتے ہیں، وہ (پاکستان اور بھارت) اس معاملے کو خود آپس میں حل کر لیں گے۔ ٹرمپ نے یہ بھی کہاکہ وہ بھارت کے بھی بہت قریب ہیں اور پاکستان کے بھی بہت قریب ہیں۔
بھارت کو اندرونی طور پر بہت دباؤ کا سامنا ہے کہ پاکستان پر حملہ کرے۔ اب دیکھتے ہیں کہ مودی کیا فیصلہ کرتے ہیں۔ 2019 کی غلطی دہراتے ہیں، اُس سےبڑ ی غلطی کر کے دنیا کو کسی خطرے میں ڈالتے ہیں یا سندھ طاس معاہدے کے کارڈتک اپنے آپ کو محدود رکھتے ہیں۔ ویسے جو بھی ہے پہلگام کا فالس فلیگ آپریشن انتہائی بھونڈا نکلا۔ دوسری طرف پاکستان کا اب تک کا ردعمل بہت ذمہ دارانہ ہے۔ لگتا ایسا ہے کہ بھارت کیلئے اپنا ہی پیدا کیاہوا ایک اور بہانہ اُسکے اپنے لئے ایک اور بڑی شرمندگی کا باعث بنے گا۔
پاکستانیوں کو بھارت چھوڑنے کی دی گئی مہلت ختم، واپس آنے والے پاکستانیوں کے اعداد وشمار جاری
مزید :.
ذریعہ
ذریعہ: Daily Pakistan
کلیدی لفظ: بھارتی فوج کے نشانہ بنایا پاکستان کی میں بھارت بھارتی ا بھارت کی بھارت کے کی بجائے بھارت کو فوج کی کے بعد کی فوج
پڑھیں:
سینٹ پیٹرزبرگ انٹرنیشنل اکنامک فورم، پاکستانی اعلیٰ سطحی وفد شرکت کریگا
سینٹ پیٹرزبرگ روس کا سب سے بڑا اور عالمی سطح پر اہم اقتصادی ایونٹ، سینٹ پیٹرزبرگ انٹرنیشنل اکنامک فورم 2026ء کل 3 جون سے روس کے تاریخی شہر سینٹ پیٹرزبرگ میں شروع ہو رہا ہے، جس میں دنیا بھر کے 130 سے زائد ممالک کے حکومتی، کاروباری اور اقتصادی راہنما شرکت کریں گے، پاکستان بھی فورم میں اعلیٰ سطحی وفد کے ساتھ شرکت کر رہا ہے۔ اسلام ٹائمز۔ پاکستانی وفد کی قیادت وفاقی وزیر توانائی (پیٹرولیم ڈویژن) علی پرویز ملک کریں گے، وفد میں وزیراعظم کے معاون خصوصی برائے صنعت و پیداوار ہارون اختر، روس میں پاکستان کے سفیر فیصل نیاز ترمذی، سفارتخانے کی وزیر تجارت و سرمایہ کاری شبانہ ممتاز، قونصلر حبیب منیر، سیکنڈ سیکرٹری جوشوا ایڈون آرتھر اور سینٹ پیٹرزبرگ میں پاکستان کے اعزازی قونصل جنرل عبدالرؤف رند بھی شامل ہیں۔ 4 روزہ فورم میں عالمی معیشت، توانائی، تجارت، سرمایہ کاری، ڈیجیٹل ٹیکنالوجی، مصنوعی ذہانت، صنعتی ترقی، ٹرانسپورٹ، خوراک اور بین الاقوامی اقتصادی تعاون سمیت متعدد اہم موضوعات پر اعلیٰ سطحی اجلاس، مباحثے اور کاروباری ملاقاتیں منعقد ہوں گی۔
روسی صدر ولادیمیر پوتن فورم کے مرکزی پلینری اجلاس سے خطاب کریں گے، جبکہ دنیا کے مختلف ممالک سے تعلق رکھنے والے حکومتی راہنما، وزراء، سرمایہ کار، صنعتکار اور بین الاقوامی تنظیموں کے نمائندے بھی فورم میں شریک ہوں گے۔ پاکستانی وفد کی شرکت کو روس اور پاکستان کے درمیان اقتصادی اور تجارتی تعلقات کے فروغ کے لیے اہم قرار دیا جا رہا ہے، توقع ہے کہ فورم کے دوران پاکستانی نمائندے روسی حکام، سرمایہ کاروں اور کاروباری شخصیات کے ساتھ ملاقاتیں کریں گے، جن میں توانائی، پیٹرولیم، صنعت، تجارت اور سرمایہ کاری کے شعبوں میں تعاون بڑھانے کے امکانات پر بات چیت ہوگی۔ مبصرین کے مطابق پاکستان اس وقت توانائی، معدنیات، انفراسٹرکچر اور صنعتی شعبوں میں بیرونی سرمایہ کاری کے حصول پر خصوصی توجہ دے رہا ہے جبکہ روس کے ساتھ اقتصادی تعاون کے نئے مواقع تلاش کرنا بھی حکومتی ترجیحات میں شامل ہے۔
فورم میں شرکت پاکستان کو نہ صرف روس بلکہ دیگر ممالک کے سرمایہ کاروں اور کاروباری اداروں کے ساتھ براہ راست رابطوں کا موقع فراہم کرے گی، ماہرین کا کہنا ہے کہ ایسے بین الاقوامی پلیٹ فارمز پاکستان کے لیے سرمایہ کاری، برآمدات اور اقتصادی شراکت داریوں کے فروغ میں اہم کردار ادا کر سکتے ہیں۔واضح رہے کہ سینٹ پیٹرزبرگ انٹرنیشنل اکنامک فورم 3 سے 6 جون تک جاری رہے گا اور اسے روس کا سب سے بڑا بین الاقوامی اقتصادی فورم تصور کیا جاتا ہے، اس سال فورم کا موضوع "عملی مکالمہ ایک مستحکم مستقبل کی جانب"رکھا گیا ہے، جس میں عالمی معیشت کو درپیش چیلنجز اور مستقبل کے مواقع پر خصوصی توجہ دی جائے گی۔