ڈھاکا:

بنگلہ دیشی کرکٹر توحید ہریدوئے پر کوڈ آف کنڈیکٹ کی مزید خلاف ورزی پر 4 میچز کی فوری پابندی عائد کردی گئی۔

بنگلہ دیش کی جانب سے 77 ون ڈے اور ٹی 20 میچز کھیلنے والے توحید اس وقت ڈھاکا کرکٹ لیگ میں محمڈن اسپورٹنگ کلب کی قیادت کررہے ہیں، پہلے ان پر ایک میچ کی پابندی عائد کی گئی تھی تاہم پلیئرز کی جانب سے اس پر احتجاج کے بعد اسے ایک برس کیلیے موخر کردیا گیا تھا مگر وہ باز نہیں آئے اور ہفتے کے روز غازی گروپ کے خلاف میچ میں دوبارہ کوڈ آف کنڈکٹ کی خلاف ورزی کر بیٹھے۔

توحید کو امپائر کے فیصلے سے اختلاف کا مرتکب قرار دیا گیا، ان پر آن فیلڈ امپائرز منیر الزماں اور علی ارمان راجن، تھرڈ امپائر محمد قمرالزماں اور فورتھ آفیشل اکرام نے چارج عائد کیا، توحید ہریدوئے اس میچ میں کیچ ہونے کے بعد کچھ دیر کریز پر کھڑے رہے تھے،

اتوار کو جاری ہونے والے بی سی بی کے اعلامیہ میں کہا گیا ہے کہ ہریدوئے نے اپنے خلاف چارج کو رد کرتے ہوئے فل ڈسپلنری سماعت کا مطالبہ کیا، جس پر انہیں امپائر ڈریسنگ روم میں معاملے کی سماعت کے شیڈول سے آگاہ کیا گیا مگر وہ وقت پر نہیں پہنچے۔

 کوڈ آف کنڈکٹ کے تحت میچ ریفری نے کارروائی کرتے ہوئے توجید ہریدوئے کے ڈسپلنری ریکارڈ میں ایک پوائنٹ شامل کرنے کے ساتھ 10 ہزار ٹکا جرمانہ بھی کیا، اس ایک ڈی میرٹ پوائنٹ سے ہریدوئے کے ڈی میرٹ پوائنٹس کی مجموعی تعداد 8 ہوگئی، 7 ان کو سابقہ خلاف ورزیوں پر دیے گئے تھے، اس طرح ان پر 4 میچز کی پابندی عائد کردی گئی جس کا فوری طور پر اطلاق ہوگا۔

.

ذریعہ

ذریعہ: Express News

کلیدی لفظ: پابندی عائد کوڈ ا ف

پڑھیں:

مری میں بیچلرز کے داخلے پر پابندی؟ حقیقت سامنے آگئی

سوشل میڈیا پر یہ دعویٰ وائرل ہورہا تھا کہ پنجاب کے سیاحتی مقام مری میں 31 مئی تک غیر شادی شدہ مردوں (بیچلرز) کے داخلے پر سرکاری پابندی عائد کردی گئی ہے، تاہم فیکٹ چیک کے بعد یہ واضح ہوا ہے کہ یہ دعویٰ گمراہ کن ہے اور مکمل طور پر درست نہیں۔

فیس بک سمیت مختلف پلیٹ فارمز پر شیئر کی جانے والی پوسٹس میں کہا جا رہا تھا کہ عید سے قبل مری میں دفعہ 144 نافذ کرتے ہوئے بیچلرز کے داخلے پر پابندی لگا دی گئی ہے اور صرف فیملیز کو ہی شہر میں جانے کی اجازت ہوگی۔ ان دعوؤں میں یہ تاثر دیا گیا کہ مبینہ پابندی پورے مری شہر پر لاگو ہے۔

حقیقت اس کے برعکس ہے۔ حکام کے مطابق مری میں غیر شادی شدہ مردوں کے داخلے پر کوئی مکمل پابندی عائد نہیں کی گئی۔ صرف مخصوص ہدایت کے تحت مال روڈ پر ایک تبدیلی کی گئی ہے، جہاں اکیلے آنے والے مردوں یا بیچلرز گروپس کو داخلے کی اجازت نہیں ہوگی، جبکہ فیملیز بدستور وہاں جا سکتی ہیں۔

ضلع مری کے ایڈیشنل ڈپٹی کمشنر (جنرل) کامران صغیر کے مطابق 31 مئی تک دفعہ 144 نافذ تھی، جس کا اطلاق صرف مال روڈ تک محدود تھا۔ ان کے مطابق مری شہر میں بیچلرز کے داخلے پر کوئی پابندی نہیں، البتہ مال روڈ پر صرف فیملیز کو جانے کی اجازت دی گئی ہے تاکہ سیاحتی نظم و ضبط بہتر بنایا جا سکے۔

انہوں نے مزید وضاحت کی کہ ’’مال روڈ کے اوپر اکیلے مردوں کو اجازت نہیں، صرف فیملیز جا سکتی ہیں، پورا مری بند نہیں ہے، بیچلرز کی انٹری پر مکمل پابندی نہیں ہے۔‘‘

ڈپٹی کمشنر مری کے سرکاری فیس بک اکاؤنٹ سے بھی 20 مئی کو جاری نوٹیفکیشن شیئر کیا گیا تھا، جس میں کہا گیا تھا کہ پولیس کی سفارش پر مال روڈ پر صرف فیملیز کو داخلے کی اجازت دینے کا فیصلہ کیا گیا ہے تاکہ سیاحوں کو بہتر سہولت فراہم کی جا سکے۔

یہ دعویٰ کہ مری میں بیچلرز کے داخلے پر مکمل پابندی عائد ہے، غلط ثابت ہوا۔ حقیقت یہ ہے کہ پابندی صرف مال روڈ کے مخصوص حصے تک محدود ہے، جبکہ مری شہر بدستور تمام سیاحوں کے لیے کھلا ہے۔

متعلقہ مضامین

  • شارع فیصل، کس لین میں گاڑی چلائی تو چالان نہیں ہوگا؟
  • بنگلہ دیش کے وزیر خارجہ ڈاکٹر خلیل الرحمان اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی کے 81ویں اجلاس کے صدر منتخب
  • بی ایم ڈبلیو سے 5 لاکھ جرمانہ وصولی، ڈی ایچ اے ویجیلینس سے جواب طلب
  •  یکم جون سے فیس لیس چالان سسٹم کا آغاز،پہلے دن کتنے چالان جاری ہوئے؟ تفصیلات سامنے آگئی
  • بحرین میں ہَیْہَاتَ مِنَّا الذِّلَّة کا نعرہ لگانے پر پابندی عائد
  • کراچی: شارع فیصل پر لین کی خلاف ورزی پر پہلے روز کتنے چالان ہوئے؟
  • سیکیورٹی خدشات: ڈرون اڑانے پر پابندی میںمزید 30 دن کی توسیع
  • پنجاب میں انسداد ڈینگی کارروائیوں کیلئے افسران کو فوری متحرک ہونے کی ہدایت
  • بجٹ میں کرپٹو کرنسی کے لین دین پر ٹیکس عائد کیے جانے کا امکان
  • مری میں بیچلرز کے داخلے پر پابندی؟ حقیقت سامنے آگئی