شاہد آفریدی نے قومی ٹیم کے کپتان محمد رضوان کو آڑے ہاتھوں لے لیا
اشاعت کی تاریخ: 28th, April 2025 GMT
لاہور(نیوز ڈیسک)لاہور میں میڈیا سے بات چیت کے دوران شاہد آفریدی کا کہنا تھا کہ محمد رضوان کو جب کپتان بنایا گیا تو انہیں بہانے نہیں بنانے چاہئیں، جب انہوں نے جنوبی افریقہ کو شکست دی تب کیوں نہیں کہا کہ میرے ہاتھ میں کچھ نہیں ہے، انہیں میڈیا پر ایسی باتیں نہیں کرنی چاہئیں۔
واضح رہے کہ پاکستان کے وائٹ بال کپتان محمد رضوان نے حالیہ ناکامیوں کے بعد اپنے بے اختیار ہونے کا شکوہ کیا تھا، جس پر سابق آل راؤنڈر شاہد خان آفریدی نے انہیں بہانے نہ بنانے کا مشورہ دیا ہے۔
26 نومبر احتجاج کے 2 مقدمات میں بشریٰ بی بی کی ضمانت میں 11 جون تک توسیع
شاہد آفریدی کا کہنا تھا کہ جنہوں نے پی ایس ایل کا آغاز کیا ان کو ہی جاری رہنا چاہیے تھا، کچھ فرنچائز مالی نقصان کا کہہ رہی ہیں مگر کافی فرنچائز مالکان نے فائدہ بھی اٹھایا ہے۔
ایک سوال کے جواب میں شاہد آفریدی کا کہنا تھا کہ مجھے پاکستان کرکٹ ٹیم کے ساتھ کام کرنے میں دلچسپی نہیں، مجھ سے کام لینا ہے تو گراس روٹ لیول پر کام لیا جائے۔
سابق آل راؤنڈر نے کہا کہ ڈومیسٹک سیزن میں پلیئرز کو غیرملکی لیگز کھیلنے کی اجازت نہیں ہونی چاہیے، ایک سوال پر شاہد آفریدی کا کہنا تھا کہ شعیب ملک فٹ ہیں اس لیے کھیل رہے ہیں، میں اب نہیں کھیل سکتا۔
مودی سرکاری سچ بتانے پر تلملاگئی، بھارت میں پاکستانی نیوز چینلز کو بند کردیاگیا
.
ذریعہ
ذریعہ: Daily Ausaf
کلیدی لفظ: شاہد ا فریدی کا کہنا تھا کہ
پڑھیں:
سابق وفاقی وزیر سردار یار محمد رند کی سفری پابندی کیخلاف درخواست پر فیصلہ محفوظ
اسلام آباد:اسلام آباد ہائی کورٹ نے سابق وفاقی وزیر سردار یار محمد رند کی سفری پابندی کے خلاف درخواست پر فیصلہ محفوظ کر لیا۔
جسٹس انعام امین منہاس نے درخواست پر سماعت کی، درخواست گزار کی جانب سے بیرسٹر ظفر اللہ جبکہ اسسٹنٹ اٹارنی جنرل، ایف آئی اے اور امیگریشن حکام بھی عدالت پیش ہوئے۔ عدالتی ہدایت پر بیرسٹر ظفر اللہ نے کوئٹہ پولیس کا خط پڑھا۔
جسٹس انعام امین منہاس نے استفسار کیا کہ متعلقہ پولیس کہہ رہی ہے بندہ نہیں چاہیے، ایف آئی اے کو بھی مطلوب نہیں، جن کو چاہیے تھا ان کو بھی اب نہیں چاہیے، پھر ابھی تک نام کیوں نہیں نکالا؟
ایف آئی اے حکام نے جواب دیا کہ ای سی ایل میں نام نہیں ہے، صرف پی این آئی لسٹ میں نام ہے جو 28 مارچ کو ڈالا گیا۔
عدالت نے استفسار کیا کہ اس لسٹ میں نام کتنے دن کے لیے ہوتا ہے اور کب مکمل ہوئی؟ ایف آئی اے حکام نے بتایا کہ ایک ماہ کے لیے ہوتا ہے اور پھر ایک ماہ کی توسیع لینا ہوتی ہے۔ عدالت نے استفسار کیا کہ زیادہ سے زیادہ 60 روز رکھ سکتے ہیں تو اب جولائی ہے، کتنے ماہ ہوگئے ہیں؟ ایف آئی اے حکام نے بتایا کہ 5 ماہ ہوگئے، ابھی تک ہمیں آفیشلی کوئی اطلاع موصول نہیں ہوئی۔
عدالت نے ایف آئی اے افسر سے مکالمہ کرتے ہوئے کہا کہ اتنے وقت کیسے آپ رکھ سکتے ہیں، کس قانون کے تحت ابھی تک رکھا ہوا ہے۔ جسٹس راجہ انعام امین نے ریمارکس دیے کہ ایسے کتنے ہی کیسز ہمارے پاس آرہے ہیں، کتنی بار لکھ بھی چکے ہیں، سپریم کورٹ کا فیصلہ بھی ہے۔
عدالت نے سردار یار محمد رند کی سفری پابندی لسٹ سے نام نکالنے کی درخواست پر فیصلہ محفوظ کرلیا۔