امید میں مشترکہ مفادات کونسل میں کینالز کا مسئلہ ختم ہو جائے گا، خورشید شاہ
اشاعت کی تاریخ: 28th, April 2025 GMT
اسلام آباد:
پیپلز پارٹی کے سینیئر رہنما خورشید شاہ کا کہنا ہے کہ امید ہے مشترکہ مفادات کونسل اجلاس میں کینالز کا مسئلہ ختم ہو جائے گا جس کے بعد احتجاج بھی ختم ہوگا اور راستے بھی کھل جائیں گے۔
اپنے ویڈیو پیغام میں خورشید شاہ نے کہا کہ کینالز کا معاملہ کافی حد تک حل ہوگیا ہے اور وزیراعظم نے یقین دلایا ہے کہ آج مسئلہ حل ہو جائے گا۔ اس سے قبل ایک میٹنگ ہوگی جس میں عطا تارڑ اور ضیاء لنجار ہوں گے۔
انہوں نے کہا کہ اس مسئلے سے راستے بند ہیں، لوگ مشکل میں ہیں اور حکومت کا کام ہے کہ مشکلات کا خاتمہ کرے۔ اس مسئلے کو حل کرنے کے لیے بلاول بھٹو نے بہت کام کیا ہے۔
پیپلز پارٹی کے سینیئر رہنما نے کہا کہ جو ڈیمانڈ ہم نے کی تھی یقینا پوری ہو چکی ہے۔ وعدہ کیا گیا ہے کہ سب صوبوں کی رضا مندی کے بغیر منصوبہ نہیں بنے گا۔
واضح رہے کہ وزیراعظم شہباز شریف نے متنازع نہروں کا منصوبہ مشترکہ مفادات کونسل لے جانے کا اعلان کرتے ہوئے دو مئی کو اجلاس بلانے کا فیصلہ کیا تھا۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Express News
پڑھیں:
سلامتی کونسل میں پاکستان نے بھارت کو لاجواب کر دیا
قونصلر صائمہ سلیم— فائل فوٹواقوامِ متحدہ میں پاکستانی مشن کی قونصلر صائمہ سلیم نے سلامتی کونسل میں بھارت کو لاجواب کر دیا۔
اپنے بیان میں صائمہ سلیم نے کہا ہے کہ بھارت کا امن کا درس دینا مضحکہ خیز ہے، جو خود بین الاقوامی قانون اور سلامتی کونسل کی قراردادوں کی خلاف ورزی، ہمسایوں کے خلاف جارحیت اور خطے میں ریاستی سرپرستی میں دہشت گردی کا مرتکب ہے۔
انہوں نے کہا کہ آزاد جموں و کشمیر اور بھارت کے غیر قانونی زیرِ قبضہ جموں و کشمیر کے حالات میں واضح فرق ہے۔
صائمہ سلیم نے کہا کہ ایک طرف سیاسی آزادی ہے اور دوسری طرف جبر، گرفتاریوں اور انسانی حقوق کی پامالیوں کا سلسلہ جاری ہے، حقوق کا استعمال اور حقوق سے محرومی ایک جیسی چیزیں نہیں ہو سکتیں۔
اقوامِ متحدہ میں پاکستانی کونسلر صائمہ سلیم نے کہا کہ افغان سرزمین سے حملوں کی منصوبہ بندی اور سہولت کاری ہوئی۔
انہوں نے کہا کہ کشمیری عوام کے ناقابلِ تنسیخ حقِ خودارادیت سے انکار نہیں کیا جا سکتا، جموں و کشمیر نہ بھارت کا اٹوٹ انگ ہے اور نہ داخلی معاملہ، بھارت کا انکار اس تنازع کی بین الاقوامی حیثیت تبدیل نہیں کر سکتا۔
قونصلر صائمہ سلیم نے کہا کہ بھارت خود مسئلہ کشمیر سلامتی کونسل میں لایا اور آج قراردادوں سے انحراف کر رہا ہے، مقبوضہ کشمیر میں جبر اور انسانی حقوق کی پامالیاں جاری ہیں۔
انہوں نے مزید کہا کہ سندھ طاس معاہدے کی معطلی کا بھارتی فیصلہ بین الاقوامی قانون کی خلاف ورزی ہے، دریائے سندھ کا پانی زندگی کا ذریعہ ہے، جنگ کا ہتھیار نہیں۔
صائمہ سلیم نے یہ بھی کہا کہ بھارت سے منسلک دہشت گردی کے نیٹ ورک عالمی سطح تک پھیل چکے ہیں، بھارت میں ہندوتوا نظریات نے اسلاموفوبیا کو ریاستی پالیسی بنا دیا ہے۔