جنگ بھارتی عوام کو غربت کی طرف لے جاسکتی ہے، پرویز رشید
اشاعت کی تاریخ: 28th, April 2025 GMT
اسلام آباد(ڈیلی پاکستان آن لائن)حکمران جماعت مسلم لیگ (ن) کے سینیٹر پرویز رشید نے کہا ہے کہ جنگ بھارتی عوام کو دوبارہ غربت کی طرف لے جاسکتی ہے۔پارلیمنٹ ہاؤس کے باہر میڈیا سے گفتگو میں سینیٹر پرویز رشید نے کہا کہ پہلگام میں جو ہوا، اس کا پاکستان سے کوئی تعلق نہیں۔
انہوں نے کہا کہ حکومت اور پاکستانی عوام نے اس المیہ کو ناپسندیدگی سے دیکھا اور مذمت کی، نریندر مودی کو سمجھنا چاہیے کہ اس طرح کے المیے پر کوئی خوش نہیں ہوتا۔ن لیگی سینیٹر نے مزید کہا کہ پاکستان خود اس طرح کے المیوں کا شکار ہے ہمارے اپنے دل دکھی ہیں، جن کے اپنے دل دکھی ہوں وہ دوسروں کو دکھ نہیں دے سکتے۔اُن کا کہنا تھا کہ بھارت کی 20 سالہ ترقی مودی کے پالیسی کے نتیجے میں ملیامیٹ ہوسکتی ہے، بھارت کی عوام دوبارہ غربت کی طرف جاسکتے ہیں۔سینیٹر پرویز رشید نے یہ بھی کہا کہ اگر انہوں نے جنگ کرنی ہے تو ہم اپنے دفاع کے لیے تیار ہیں۔
لندن میں پاکستانی ہائی کمیشن پر حملہ کرنے والے انتہا پسند بھارتی نکلا
مزید :.
ذریعہ
ذریعہ: Daily Pakistan
کلیدی لفظ: پرویز رشید کہا کہ
پڑھیں:
سلامتی کونسل میں پاکستان نے بھارت کو لاجواب کر دیا
قونصلر صائمہ سلیم— فائل فوٹواقوامِ متحدہ میں پاکستانی مشن کی قونصلر صائمہ سلیم نے سلامتی کونسل میں بھارت کو لاجواب کر دیا۔
اپنے بیان میں صائمہ سلیم نے کہا ہے کہ بھارت کا امن کا درس دینا مضحکہ خیز ہے، جو خود بین الاقوامی قانون اور سلامتی کونسل کی قراردادوں کی خلاف ورزی، ہمسایوں کے خلاف جارحیت اور خطے میں ریاستی سرپرستی میں دہشت گردی کا مرتکب ہے۔
انہوں نے کہا کہ آزاد جموں و کشمیر اور بھارت کے غیر قانونی زیرِ قبضہ جموں و کشمیر کے حالات میں واضح فرق ہے۔
صائمہ سلیم نے کہا کہ ایک طرف سیاسی آزادی ہے اور دوسری طرف جبر، گرفتاریوں اور انسانی حقوق کی پامالیوں کا سلسلہ جاری ہے، حقوق کا استعمال اور حقوق سے محرومی ایک جیسی چیزیں نہیں ہو سکتیں۔
اقوامِ متحدہ میں پاکستانی کونسلر صائمہ سلیم نے کہا کہ افغان سرزمین سے حملوں کی منصوبہ بندی اور سہولت کاری ہوئی۔
انہوں نے کہا کہ کشمیری عوام کے ناقابلِ تنسیخ حقِ خودارادیت سے انکار نہیں کیا جا سکتا، جموں و کشمیر نہ بھارت کا اٹوٹ انگ ہے اور نہ داخلی معاملہ، بھارت کا انکار اس تنازع کی بین الاقوامی حیثیت تبدیل نہیں کر سکتا۔
قونصلر صائمہ سلیم نے کہا کہ بھارت خود مسئلہ کشمیر سلامتی کونسل میں لایا اور آج قراردادوں سے انحراف کر رہا ہے، مقبوضہ کشمیر میں جبر اور انسانی حقوق کی پامالیاں جاری ہیں۔
انہوں نے مزید کہا کہ سندھ طاس معاہدے کی معطلی کا بھارتی فیصلہ بین الاقوامی قانون کی خلاف ورزی ہے، دریائے سندھ کا پانی زندگی کا ذریعہ ہے، جنگ کا ہتھیار نہیں۔
صائمہ سلیم نے یہ بھی کہا کہ بھارت سے منسلک دہشت گردی کے نیٹ ورک عالمی سطح تک پھیل چکے ہیں، بھارت میں ہندوتوا نظریات نے اسلاموفوبیا کو ریاستی پالیسی بنا دیا ہے۔