پاکستانی سفارتخانے ابوظہبی میں کتاب "Home#itscomplicated" کی تقریبِ رونمائی
اشاعت کی تاریخ: 28th, April 2025 GMT
ابوظہبی(اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین۔ 28 اپریل 2025ء) متحدہ عرب امارات میں قائم پاکستانی سفارتخانے نے 27 اپریل 2025 کو اپنی عمارت میں معروف کتاب "Home#itscomplicated" کی رونمائی کی تقریب کا انعقاد کیا۔ تقریب میں متعدد ادبی شخصیات، سفارتکاروں اور پاکستانی کمیونٹی کے ممتاز اراکین نے شرکت کی۔ پاکستان کے سفیر فیصل نیاز ترمذی بھی اس موقع پر موجود تھے۔ تقریب میں زین سعید، امبر ظفر خان اور صباح کریم خان نے بطور پینلسٹ شرکت کی، جبکہ خرّم قریشی نے گفتگو کی میزبانی کے فرائض انجام دیے۔
یہ کتاب مشہور پاکستانی مصنفین، مفکرین، ڈاکٹروں، فلم سازوں، صحافیوں اور دیگر کامیاب شخصیات کی تحریروں کا مجموعہ ہے، جن میں خالد انعم، عمر شاہد حمید، اویس خان، علی خان، محمد علی بندیا ل اور دیگر شامل ہیں۔(جاری ہے)
کتاب کی تدوین صباح کریم خان نے کی ہے۔ پینل گفتگو میں کتاب کے مختلف پہلوؤں پر روشنی ڈالی گئی۔ مقررین نے اس بات پر زور دیا کہ بیرونِ ملک مقیم پاکستانی مصنفین اپنے وطن پاکستان سے گہری محبت اور وابستگی رکھتے ہیں۔
کتاب میں یہ پیغام دیا گیا ہے کہ پاکستان، جو 240 ملین سے زائد آبادی، 70 سے 80 زبانوں اور حیرت انگیز قدرتی تنوع کا حامل ملک ہے، کو محض ایک خبر یا سرخی تک محدود نہیں کیا جا سکتا۔ سفیر فیصل نیاز ترمذی نے تقریب میں شرکت کرنے والے مہمانوں کا شکریہ ادا کیا اور پینلسٹس کی کاوشوں کو خراج تحسین پیش کیا۔ انہوں نے کہا کہ یہ کتاب پاکستان سے محبت، وابستگی اور حوصلے کی کہانیوں کی جھلک دکھاتی ہے۔ انہوں نے پاکستانی مصنفین کی تخلیقی صلاحیتوں کو سراہتے ہوئے کمیونٹی اراکین کو پاکستان کے ساتھ اپنی محبت اور تعلق کو مزید مضبوط بنانے کی ترغیب دی۔ سفیر نے پاکستانی مصنفین اور پبلشرز کو متحدہ عرب امارات میں منعقدہ مختلف کتب میلوں بشمول جاری ابوظہبی بک فیسٹیول میں بھرپور شرکت کی دعوت دی، تاکہ پاکستان کا مثبت تاثر دنیا کے سامنے پیش کیا جا سکے۔.
ذریعہ
ذریعہ: UrduPoint
کلیدی لفظ: تلاش کیجئے پاکستانی مصنفین
پڑھیں:
اٹلی میں چار پاکستانی زرعی مزدوروں کا قتل، دو پاکستانی شہری گرفتار
اسلام آباد (اُردو پوائنٹ ۔ DW اردو۔ 02 جون 2026ء) اخبار کے مطابق جلی ہوئی گاڑی امینڈولارا نامی گاؤں کے قریب ایک پٹرول پمپ پر ملی، جو کالابریا کے وسیع زرعی علاقے میں واقع ہے۔
اخبار کے مطابق پٹرول پمپ کے سی سی ٹی وی کیمروں کی فوٹیج میں دو افراد کو منی وین کے دروازے باہر سے بند کرتے اور اس کے اندر آتش گیر مائع پھینکتے ہوئے دیکھا گیا۔
رپورٹ کے مطابق اس کے بعد گاڑی میں آگ بھڑک اٹھی اور دونوں مشتبہ افراد موقع سے فرار ہو گئے۔
فائر بریگیڈ نے آگ بجھانے کے بعد گاڑی کے اندر سے چار لاشیں برآمد کیں۔
مقامی پولیس چیف نے اس اطالوی اخبار سے گفتگو کرتے ہوئے کہا، ’’یہ یقینی طور پر قتل کا واقعہ ہے، اب ہمیں صرف اس کی تفصیلات معلوم کرنا ہیں۔
(جاری ہے)
‘‘
اخبار نے مزید لکھا کہ گزشتہ چند مہینوں کے دوران اس علاقے میں پاکستانیوں کی گاڑیوں اور منی وینز کے نذر آتش کیے جانے کے 14 واقعات پیش آ چکے ہیں۔
رپورٹ کے مطابق علاقے میں تارکین وطن کے مختلف گروہوں کے درمیان زرعی کام کی تقسیم، رہائشی دستاویزات (ریذیڈنسی پیپرز)، اور رہائش کے مسائل پر کشیدگی پائی جاتی ہے، جسے ممکنہ طور پر اس واقعے کے پس منظر سے جوڑا جا رہا ہے۔
اطالوی حکام اس واقعے کی تحقیقات جاری رکھے ہوئے ہیں تاکہ اکٹھے چار افراد کے اس قتل کے محرکات اور اس کے ذمہ دار افراد کے اس جرم میں کردار کی مکمل طور پر وضاحت ہو سکے۔
ادارت: مقبول ملک