عمران خان کی بطور وزیراعظم برطرفی، پی ٹی آئی مزاحمت نے ملک کو گہرے بحران میں مبتلا کردیا، عدالت
اشاعت کی تاریخ: 29th, April 2025 GMT
لاہور:لاہور ہائی کورٹ کے جسٹس طارق سلیم شیخ نے بڑا فیصلہ سناتے ہوئے لاہور ہائی کورٹ نے سابق وفاقی وزیر فواد چوہدری کے 9 مئی کے تمام مقدمات کا ٹرائل یکجا کرنے کی درخواست خارج کردی۔
رپورٹ کے مطابق مماثلت نہ رکھنے والے کیسز کو یکجا نہیں کیا جاسکتا جسٹس طارق سلیم شیخ نے قانونی نکتہ طے کردیا۔
جسٹس شہباز رضوی اور جسٹس طارق سلیم شیخ پر مشتمل دو رکنی بینچ نے 16صفحات پر مشتمل تحریری فیصلہ جاری کردیا جس میں کہا گیا کہ 2022 میں عدم اعتماد کے زریعے بانی پی ٹی آئی کو وزیر اعظم کے عہدے سے ہٹایا گیا۔
فیصلے کے مطابق وزیر اعظم کے عہدے سے ہٹنے کے بعد پی ٹی آئی نے مزاحمت شروع کی جس نے ملک کو گہرے بحران میں مبتلا کردیا، نو مئی بانی پی ٹی آئی کی گرفتاری کے بعد پی ٹی آئی کارکنان نے ملک بھر میں احتجاج کیا، احتجاج کے نتیجے میں لاہور ،کراچی ،ملتان فیصل آباد سرگودھا سمیت کئی شہروں میں آرمی تنصیبات کو ٹارگٹ کیا گیا۔
فیصلے کے مطابق کارکنوں نے عوامی مقامات کو بھی نشانہ بنایا، اس پر تشدد احتجاج کے نتیجے میں پولیس نے متعدد مقدمات درج کیے، نو مئی کے بعد صرف لاہور میں۔ گیارہ مختلف مقدمات درج ہوئے، درخواست گزار کے مطابق اس پر سوشل میڈیا ق پیغامات جاری کرنے پر مقدمات میں نامزد کیا گیا۔
فیصلے میں کہا گیا کہ ایک طرح کے کیسز میں بار بار پراسکیوشن کرنا آئین کے ارٹیکل 13اے کی خلاف ورزی ہے، صنم جاوید کے کیس میں بھی ہائیکورٹ نے بار بار تفتیش کو مسترد کیا تھا۔
لاہور ہائی کورٹ نے کہا کہ آئین کا ارٹیکل 13اے وہان لاگو ہوگا جہاں کسی شخص کو سزا ہوئی ہو یا مجرم ڈکلیئر کیا گیا ہو، موجودو کیس میں الزامات کی لمبی فہرست اور پر تشدد واقعات کا زکر ہے۔
فیصلے میں کہا گیا کہ درخواستگزار موجودہ کیس میں صنم جاوید کے فیصلے کا حوالہ نہیں دے سکتا، عدالت تمام مقدمات کو یکجا کر کہ ٹرائل کرنے کی درخواست مسترد کرتی ہے،
اگر ٹرائل جج چند کیسز میں مماثلت محسوس کرے تو سی آر پی سی کے سیکشن 239 کے تحت انہیں اکٹھا کر سکتا ہے۔
اس میں کہا گیا کہ ہمارے ملک میں جوڈیشل رائے میں یہ بحث موجود ہے کہ ایک ہی واقع کی دوسری ایف ائی آر ہوسکتی ہے یا نہیں ؟ آئین کا ارٹیکل 13 اے کہتا ہے کہ کسی بھی شہری کو ایک طرح کے جرم میں دوبارہ سزا نہیں دی جاسکتی، موجودہ کیس میں ہر ایف ائی آر کا الگ وقوعہ، الگ وقت اور الگ جگہ بھی ہے۔
فیصلے کے مطابق تمام مقدمات میں الگ الگ ملزم ہیں اور پرتشدد واقعات کا زکر ہے، تمام مقدمات میں ایک چیز مشترک ہے کہ یہ تمام مقدمے میں بانی پی ٹی ائی کی گرفتاری کے بعد پیدا ہونے والی صورتحال کی بنا پر ہوئے، درخواستگزار پر ان تمام مقدمات میں سوشل میڈیا کے زریعے اکسانے کا الزام ہے۔
عدالت نے کہا کہ درخواستگزار کے مطابق بانی پی ٹی ائی کی گرفتاری کے بعد نو مئی کے واقعات ہوئے، درخواست گزار کے مطابق اسے تمام مقدمات میں ضمنیوں میں نامزد کیا گیا، درخواستگزار کے مطابق اس کے خلاف لاہور ،کراچی ،ملتان ،فیصل آباد سمیت دیگر شہروں میں مقدمے درج ہیں۔
فیصلے میں کہا گیا کہ فواد چوہدری پی ٹی آئی میں وفاقی وزیر تھا، 2018 سے 2022 تک بطور وفاقی وزیر خدمات سر انجام دیں۔
Post Views: 1.
ذریعہ
ذریعہ: Daily Mumtaz
کلیدی لفظ: تمام مقدمات میں میں کہا گیا کہ بانی پی ٹی ا پی ٹی ا ئی کے مطابق کیا گیا کیس میں کے بعد
پڑھیں:
کیا آپ بھی رات دیر تک جاگتے ہیں؟ ماہرین نے سنگین خطرات سے خبردار کردیا
رات گئے تک جاگنے کی عادت آپ کی دماغی صحت کے لیے خطرہ بن سکتی ہے۔
جدید طرزِ زندگی میں نیند کے اوقات میں بے ترتیبی عام ہوتی جا رہی ہے خاص طور پر نوجوانوں میں رات گئے تک جاگنا ایک معمول بنتا جا رہا ہے تاہم ماہرین صحت نے خبردار کیا ہے کہ یہ عادت دماغی صحت پر منفی اثرات ڈال سکتی ہے۔
امریکا میں ہونے والی مختلف طبی تحقیقات سے معلوم ہوا ہے کہ جو افراد رات دیر تک جاگتے اور صبح دیر سے اٹھتے ہیں، ان میں ذہنی مسائل جیسے ڈپریشن، انزائٹی اور تنہائی کے احساس کا خطرہ زیادہ ہوتا ہے۔ ایک تحقیق میں 400 سے زائد افراد کا جائزہ لیا گیا جس میں ان کی نیند کی عادات اور ذہنی کیفیت کا تجزیہ کیا گیا۔
نتائج کے مطابق رات گئے تک جاگنے والے افراد نہ صرف زیادہ بے چینی کا شکار ہوتے ہیں بلکہ وہ سماجی طور پر بھی کم متحرک ہوتے ہیں جس کے باعث تنہائی کا احساس بڑھ جاتا ہے۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ رات کے اوقات میں منفی خیالات زیادہ حاوی ہوتے ہیں جو ذہنی دباؤ میں اضافے کا سبب بنتے ہیں۔
اسی طرح دیگر تحقیقات سے یہ بھی سامنے آیا کہ دیر سے سونے والے افراد میں ڈپریشن کا خطرہ 20 سے 40 فیصد تک زیادہ ہو سکتا ہے۔ اس کی ایک وجہ ناقص نیند کا معیار، غیر صحت بخش خوراک اور اسمارٹ فون یا اسکرین کا زیادہ استعمال بھی ہو سکتا ہے۔
ماہرین کے مطابق انسانی جسم کا قدرتی نظام (سرکیڈین ردھم) دن میں سرگرمی اور رات میں آرام کے لیے بنایا گیا ہے۔ اس نظام میں خلل ذہنی اور جسمانی صحت دونوں کو متاثر کرتا ہے۔
تحقیق سے یہ بھی واضح ہوا ہے کہ اگرچہ نیند کا دورانیہ مکمل ہو، لیکن سونے کا غلط وقت بھی صحت کے لیے نقصان دہ ثابت ہو سکتا ہے۔ اس لیے بہتر دماغی صحت کے لیے جلد سونے اور جلد جاگنے کی عادت اپنانا ضروری ہے۔
ماہرین مشورہ دیتے ہیں کہ رات کے وقت اسکرین کا استعمال کم کیا جائے، سونے کا باقاعدہ وقت مقرر کیا جائے اور دن کے اوقات میں سماجی سرگرمیوں میں حصہ لیا جائے تاکہ ذہنی صحت بہتر رہ سکے۔